بلال فرقانی
سرینگر// ایشیا کے بلند ترین کیبل کار منصوبوں میں شمار ہونے والا گلمرگ گنڈولا ایک ماہ کی بندش کے بعد آج یعنی جمعرات 25جون کو دوبارہ کھولا جارہا ہے۔گنڈولہ کی بندش سے حکومت کو پچھلے ایک ماہ کے دوران لاکھوں کا نقصان ہوا ہے۔معلوم ہوا ہے کہ وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ کی آج گنڈولہ کو دوبارہ کھولنے کے موقعہ پر موجود رنے کا امکان ہے۔ گنڈولا سے جون ، جولائی ، اگست اور ستمبر میں تقریباً 11 کروڑ سے 12 کروڑ ماہانہ کی آمدنی ہوتی ہے۔ نومبر اور دسمبر جیسے موسم سرما کے مہینوں میں، یہ 1.4 لاکھ سے زیادہ سیاحوں کی روزانہ میزبانی کرتا ہے۔ سالانہ طور پر، مشہور کیبل کار 110 کروڑ سے زیادہ کی ریکارڈ توڑ آمدنی لاتی ہے۔ 25 مئی کو گنڈولہ میں اچانک گیئر بوکس کی خرابی پیدا ہونے کے بعد دونوں مراحل کی سروس معطل کی گئی جس کے نتیجے میں تقریباً 300 سیاح 76کیبنوں میں فضاء میں معلق رہ گئے تھے۔
بعد ازاں ریسکیو ٹیموں نے رسیوں اور سیڑھیوں کی مدد سے مسافروں کو بحفاظت نیچے اتارا۔ گنڈولاکے پہلے مرحلے، جو گلمرگ سے کنگڈوری تک چلتا ہے، کی یومیہ گنجائش تقریباً 4 ہزار مسافروں کی ہے، لیکن رواں سال اس کی صلاحیت بڑھا کر7 سے8 ہزار تک کی گئی۔دوسرے مرحلہ، جو کنگڈوری سے افروٹ تک جاتا ہے، کی گنجائش تقریباً 1500 مسافروں کی ہے، پر بھی روزانہ 3 ہزار تک سیاحوں کو لے جانے کی اجازت دی گئی۔ذرائع کا کہنا ہے کہ گنڈولا کے آپریشنل اوقات میں بھی نمایاں اضافہ کیا گیا۔ گزشتہ برس تک یہ سہولت صبح 9 بجے سے شام 8:30بجے تک دستیاب تھی، لیکن رواں سال صبح 7:30بجے سے رات 8:30بجے تک چلانے کی اجازت دی گئی۔ ماہرین کے مطابق غروب آفتاب کے بعد آپریشن جاری رکھنا 1998 میں وضع کردہ حفاظتی رہنما اصولوں کے منافی تصور کیا جاتا ہے۔ہفتہ وار دیکھ بھال کے لیے مختص پیر کے دن کو بھی سیاحوں کے لیے کھول دیا گیا جبکہ معمول کی مرمت اور تکنیکی معائنہ رات کے اوقات تک محدود کر دیا گیا۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ اس تبدیلی سے حفاظتی جانچ کے عمل پر منفی اثرات مرتب ہوئے۔گنڈولہ کے مختلف سٹیشنوں پر مطلوبہ تکنیکی عملے کی کمی بھی تشویش کا باعث بن رہی ہے۔ کئی اہم تکنیکی عہدے 2012 کے بعد خالی پڑے ہیں جنہیں آج تک پْر نہیں کیا گیا۔ برقی شعبے میں ملازمین کی تعداد ا8 سے گھٹ کر صرف 3 رہ گئی ہے جبکہ کئی سٹیشنوں پر مستقل مکینیکل اور الیکٹریکل انجینئروں کی تعیناتی بھی موجود نہیں ہے۔ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر اسی نوعیت کی خرابی دوسرے مرحلے میں پیش آتی تو بلند پہاڑی علاقے اور دشوار گزار جغرافیائی صورتحال کے باعث ریسکیو آپریشن انتہائی مشکل بلکہ ناممکن ثابت ہو سکتا ۔ حکومت نے واضح کیا ہے کہ گنڈولا خدمات کی بحالی کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے جا رہے ہیں اور متعلقہ ایجنسیوں کے اشتراک سے حفاظتی تقاضے پورے ہونے کے بعد ہی سروس دوبارہ شروع کی جائے گی۔ حکومت کا کہنا ہے کہ سیاحوں کی جان و مال کا تحفظ اولین ترجیح ہے اور تمام تکنیکی جانچ مکمل ہونے تک خدمات بحال نہیں کی جائیں گی۔گلمرگ گنڈولا جموں و کشمیر کی سیاحتی معیشت کا ایک اہم ستون تصور کیا جاتا ہے۔ سال 2024 کے دوران تقریباً 10 لاکھ سیاحوں نے اس سہولت سے استفادہ کیا جس سے 108 کروڑ روپے سے زائد کی آمدنی حاصل ہوئی۔