وبائی مرض اپنے ساتھ بہت ساری خوفناک کہانیاں لے کر آیا ہے جن میں سے وہ ایک دردناک کہانی اُن مریضوں کی بھی ہے جو کورونا کی وجہ سے فوت ہوجاتے ہیں اور اُنہیں مر کر بھی عزت نہیں بخشی جاتی ہے اور نہ ہی ان کے کنبہ کے افراد کو رسم و رواج اور مذہب کے مطابق ان کے آخری رسوم ادا کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔
وزارت صحت اور خاندانی بہبود کی جانب سے مارچ میں جاری کئے جانے والے پروٹوکول کی ناقص ترسیل اوراس کو سمجھنے میں کمی کی وجہ سے حکام اور تمام قسم کے سرکاری نظام کواس پروٹوکول کی اپنی سوچ کے مطابق مطلب نکالنے کا سبب بن رہے جوزیادہ تر سائینس کی بجائے خوف اور وباء کی وجہ سے مرنے والوں سے وائرس کی منتقلی کے خطرہ کے پیمانہ پر منحصر ہیں۔
حکومت کواس مسئلہ سے نمٹنے کیلئے انسانی طریقہ کار اپنانے اور حسب ضرورت لوگوںکی مدد اور حوصلہ افزائی کیلئے مختلف سطحوںپر اپنے ہی جاری کئے گئے پروٹوکول کی وضاحت کرنے کیلئے ابھی بہت کچھ کرنا پڑے گا۔ پروٹوکول ایک اہم دستاویز ہے جس کی وسیع تشہیر کی ضرورت ہے اور جس پر زیادہ سے زیادہ مباحثہ ہونا چاہئے ۔ ان مشکل ایام میں اس پروٹوکول کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے میں ناکامی پر بہت کم بات ہورہی ہے تاہم وہ لوگ اس نااہلی کو بہت شدت کے ساتھ محسوس کررہے ہیں جو کورونا وباء کی وجہ سے اپنے کسی عزیز کے فوت ہوجانے کے اذیت ناک مرحلہ سے گزر چکے ہیں۔
اس بات کا یقین کر یں اور یہ بالکل واضح ہو کہ کووڈ۔19 سے مرنے والے شخص کا جسم عام حالات میںکووڈ۔19 منتقل نہیں کرسکتا اور نہ کرتا ہے۔ یہ ایبولاوائرس کی وباء کے عین برعکس ہے جہاں جسم میں ہرسوراخ ،ہر زخم اور ہر وہ جگہ ،جو کھلی ہو، مہلک ایبولا وائرس کو خارج کرتے ہیں اوراُن لوگوں کو متاثر کرسکتے ہیں جو ایسے متاثرہ شخص کی لاش کو سنبھال رہے ہوں تاہم کووڈ۔19کے معاملہ میں اس طرح کا کوئی خطرہ نہیں ہے ۔کووڈ۔19 سے مرنے والے شخص کی لاش اُن لوگوں میںانفیکشن منتقل نہیں کرسکتی جو اس لاش کو سنبھالتے ہیں۔ یہ بہت ہی سادہ اورآئینہ کی طرح واضح ہے۔
وزارت صحت و خاندانی بہبود کے پاس سات صفحات پر مشتمل ایک دستاویز بعنوان ’’کووڈ۔19: انسانی لاشوں کے آخری رسوم کی ادائیگی سے متعلق رہنما اصول) موجود ہے جس میں بالکل واضح طور پر یہ موقف اختیار کیاگیا ہے کہ ’’ کووڈ۔ 19 کو منتقل کرنے کا بنیادی محرک ہوا میں موجود پانی کے ذرات ہیں۔ اُن صحت کارکنوں یا لواحقین کے لئے مردہ جسم سے کووڈ انفیکشن منتقل ہونے کے زیادہ خطرہ کا نہ ہونے کے برابر امکان ہے جو لاش کو سنبھالتے وقت معیاری احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہیں۔ پوسٹ مارٹم کے دوران مردہ کووڈ مریضوں کے پھیپھڑے چھونے سے متعدی ثابت ہوسکتے ہیں‘‘۔ دستاویز میں لاش نکالنے والوں ،لاش گھروں اور پوسٹ مارٹموں کے لئے احتیاطی تدابیر درج ہیں لیکن یہ زیادہ تر معیاری احتیاطی تدابیر ہیں اور وہ ماسک کے استعمال ، بار بار ہاتھ دھونے اور کتان وغیرہ کو محفوظ طور ٹھکانے لگانے سے تعلق رکھتی ہیں۔ حقیقت میں یہ رہنما ہدایات بیان کرتے ہیں کہ’’ عملہ کی جانب سے معیاری احتیاطی تدابیر اختیار کئے جانے کے بعد چہرے کی جانب سے کفن کھول کررشتہ داروں کو آخری دفعہ لاش کو دیکھنے کی بھی اجاز ت دی جائے‘‘۔
WHOیا عالمی ادارہ صحت کے رہنما خطوط واضح طور پر کہتے ہیں کہ مردہ خانے کے علاقے میں منتقلی سے قبل لاش کو جراثیم کشی کرنے کی ضرورت نہیں ہے ، باڈی بیگ یا پالی تھین کے بنے اُس تھیلے کی بھی ضرورت نہیں ہے جس میں لاش کو آج کل لپٹا جارہا ہے (حالانکہ وہ جسمانی رطوبت ورساو جیسے دیگر وجوہات کے سبب استعمال ہوسکتے ہیں) اور نہ ہی کسی خاص ٹرانسپورٹ یا گاڑی کی ضرورت نہیں ہے۔ لاش کو کسی بھی مناسب کپڑے میں لپیٹا جاسکتا ہے یا تابوت میں رکھا جاسکتا ہے ،جیسا کہ دکھ زدہ کنبہ کا رواج ہو۔وزارت صحت و خاندانی بہبود کی رہنما ہدایات 15 مارچ کو جاری کی گئی ہیں۔ وزارت کو اس کی فوری اجرائی کے لئے تعریف کی جانی چاہئے۔ لیکن اس معاملے میں اب عالمی ادارہ صحت کے کچھ اہم مقاصد اور گزشتہ دو ماہ کے دوران اس وبائی بیماری سے نمٹنے کے دوران حاصل شدہ تجربہ اور رہنما ہدایات کی مؤثر ترسیل کیلئے ایک فعال نظام کو شامل کرنے ان پہلے سے جاری شدہ ہدایات کے نظر ثانی شدہ ایڈیشن کی وکالت کی جاسکتی ہے۔ مختلف ریاستی حکومتوں کے احکامات کو ان مرکزی ہدا یا ت سے ہم آہنگ کیاجا نا چاہئے۔
خلاصہ یہ ہے کہ سوگ میں ڈوبے کنبہ کیلئے اُس وقت کوئی خصوصی احتیاطی تدابیر اختیار نہیں کرنے ہیں جب وہ اس وبائی بیماری کی وجہ سے فوت ہونے والے اپنے کسی قریبی عزیزکے آخری رسوم کی ادائیگی میں شریک ہونے جارہے ہو ں تاہم درج ذیل دو احتیاطی اقدامات ناگزیر ہیں ؛
1: جنازے یا آخری رسوم میں شرکت کرنے والے افراد کی تعداد کو مقامی انتظامیہ کے ذریعہ متعین کی گئی تعداد تک ہی محدود ہونا چاہئے۔ اس تعداد پر اتفاق رائے ہونا چاہئے اور ملک گیر بنیادوں پر اس پر عمل درآمد کیا جانا چاہئے۔ یہ بات بالکل واضح ہے کہ یہ پابندی جنازے یا آخری رسوم میں شرکت کرنے والوں کی حفاظت اورجسمانی دوری کو یقینی بنانے کیلئے ہے تاکہ سوگ میں شرکت کرنے والے ایک دوسرے میں وائرس نہ پھیلائیں۔ لہٰذا یہ سمجھنا لازمی ہے کہ افراد کے تعدادپر پابندی ایک مخصوص وقت کیلئے ہے ،نہ کہ یہ انہی لوگوں کیلئے مکمل پابندی کا اطلاق ہے جو ایسی کسی تقریب کے آغاز میں موجود تھے۔ سو گواران میں سے کچھ قریبی رشتے دار بھی ہوسکتے ہیں جنھیں وائرس ہونے کا خدشہ ہوگا اور وہ خود بھی قرنطینہ میں ہونگے، لہٰذا ایسے لوگوںکوجنازے یا آخری رسوم میں شریک ہونے پر دوبارہ غور کرنا چاہئے اور اگر ہونا ہی ہے تو چہرے کا ماسک پہننا چاہئے اور کسی بھی سطح کو چھونے سے گریز کرنا چاہئے۔
2: جلد کی سطح پر کسی بھی بقایا وائرس سے انفیکشن کے خطرے کو روکنے کے لئے لاش کو چومنے یا گلے لگانے کی اجازت نہیں ہے۔
اس بات پر زور دینا ضروری ہے کہ کووڈ۔19 کے ساتھ موت ناقابل تصور مصائب کے بعد آتی ہے اور اکثریہ موت تنہائی میں آتی ہے۔ یہ گھر میں مصائب کے ابتدائی دنوں کے بعد پندرہ دن سے زیادہ وقت تک چل سکتا ہے کیونکہ مریض کی حالت آہستہ آہستہ خراب ہوجاتی ہے ۔کووڈ۔19 میں مبتلا افراد کو آخری دنوں میں آرام ، ذاتی نگہداشت یا انتہائی قریب لوگوں کی محبت کو چھونے کا کوئی موقع نہیں ملتا ہے۔ہسپتال میں خود ہی اس مرض سے لڑنا ، اگر ان کی اچھی طرح سے طبی نگہداشت کی جائے،توبھی خود ہی ماحول کی اچانک تبدیلی اور پیاروں کو اچانک ان کی زندگی سے ہٹانے کی وجہ سے اپنے آپ میں ایک بھاری تنہائی ہے۔ اس پر مستزادیہ کہ وہ ایک دوسرے کو پھر کبھی نہیں دیکھ پائیں گے۔اس علیحدگی کی وجہ سے ہونے والے درد اور صدمے کا صرف تصور ہی کیا جاسکتا ہے۔ وبائی مرض کے عروج پر ،جب ہسپتالوںکے بسترے مسلسل مریضوں سے بھر رہے ہیں،طبی نظام کیلئے اس بات کی بہت ہی کم گنجائش ہے کہ وہ ایسے حالات پیدا کریں جن میں لوگوں کو اپنے مریض دیکھنے کا موقعہ مل سکے۔ اس سے بھی بدتر بات یہ ہے کہ مریض کے اپنے اورپیارے خود بھی اکثر قرنطینہ ہوتے ہیں اور وائرس سے متاثر ہونے کے بارے میں فکرمندہوتے ہیں۔ سماجی خدمت کے اداروں کو بہت سے معاملات میں کووڈ وارڈوں میں جانے کی اجازت نہیںدی جاتی ہے۔ ایسے تربیت یافتہ غم کُشا کونسلراور معاون عملہ کی خدمات مستعار لینے کا عمل ،جو مریض کو اس اچانک اور خوفناک تبدیلی سے باہر نکلنے میں مدد فراہم سکتے تھے ، بھارت کے طبی نظام میں سرے سے ہی موجود نہیں ہے۔
ایسے حالات میں ، صبر ، شفقت اور دیکھ بھال کی اعلیٰ سطح کی ضرورت ہے یہاں تک کہ جب کوئی شخص موت کی طرف بھی گامزن ہو۔ اب جب ہم لاک ڈاؤن سے باہر نکل رہے ہیں اورہسپتال گزشتہ ایک ماہ کے تجربہ کی روشنی میں کووڈ ۔19سے اب زیادہ تجربہ کے ساتھ نمٹ رہے ہیں ، انہیں ایک وقت میں کم از کم ایک رشتے دار کو اپنے پیاروں سے ملنے کے لئے جگہ بنانی ہوگی تاکہ وہ وہاں مکمل حفاظتی ملبوسات زیب تن کرکے ان کو تسلی دینے اور حوصلہ بڑھانے کیلئے وہاںموجود رہ سکے۔ اس سے ہسپتالوں کی ٹیموں اور نرسنگ عملہ کے بوجھ میں بھی کچھ کمی ہوسکتی ہے۔فیصلہ لیتے وقت محتاط رہنا ہو گا اور اس بات کو مد نظر رکھنا ہوگاکہ وائرس کی منتقلی ہوا میں موجود پانی کے ذرات اور روزہ کے استعمال میںاشیاء ،جن سے انفیکشن کی منتقلی کا خطرہ ہو،کے ذریعہ ہوتی ہے ۔اس نظام کو صرف اس صورت میں لاگو کیاجاسکتا ہے جب ہسپتال اس قابل ہوجائے کہ جانچ پڑتال اور نظم و ضبط کا اعلیٰ نظام قائم کرسکے تاکہ انفیکشن پھیلنے کا خطرہ کم ہو۔
ہمیں بحیثیت قوم کسی بھی طرح کالے پلاسٹک کے تھیلوں میں لپٹی ان لاشوںکی خوفناک تصاویر کا سلسلہ روک دینا چاہئے،جو رسیوں سے بندھی ہوتی ہیں اور انہیں کچھ اس طرح جلد بازی میں گھڑوں میں بھر دیاجاتا ہے کہ جیسے وہ انتہائی خطرناک قسم کا فضلہ اور انفیکشن کا بنیادی ذریعہ ہو۔ہم ایک بار پھر یہ دہراتے ہیں کہ ایسا طرز عمل نہ ہی موزون ہے اور نہ ہی قابل قبول ۔اور پہلے سے رائج شدہ عمومی ، معمولی اور سمجھدار احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے بعد کووڈ۔19سے مرنے والے لوگوںکی لاشوں سے انفیکشن پھیلنے کا خوف دل میں پالنے کی کوئی وجہ نہیں ہے۔زیادہ سے زیادہ خصوصیPPEیعنی ذاتی حفاظتی سازوسامان جیسے چہرے کا ماسک ،اپرن اور دستانے طلب کئے جاسکتے ہیں۔ اس سے آگے لواحقین ماتم کرسکتے ہیں،آخری رسم ادا کرسکتے ہیں ،جنازہ پڑ ھ سکتے ہیںاور سکون سے مہلوکین کوالوداع کرسکتے ہیں۔
(جگدیش رتنانی ایک صحافی اورSPJIMRکے فیکلٹی ممبر ہیں۔ ڈاکٹر ٹی جیکب جان سی ایم سی ویلور کے شعبہ کلینکل وائرولوجی کے ریٹائرڈ پروفیسراورانڈین اکیڈمی آف پیڈیاٹریکس کے سابق صدر ہیں ۔مضمون بلین پریس کے شکریہ کیساتھ شائع کیا جاتا ہے،مترجم ریاض ملک )
رابطہ : [email protected]