جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی پروفیسر بھیم سنگھ نے کشمیر میں میونسپل اور مقامی بلدیاتی اداروں کا الیکشن لڑنے والے تمام پنتھرس امیدواروں کو جموں وکشمیر پولیس اور انتظامیہ کے ذریعہ جان بوجھ کر سیکورٹی نہیں فراہم کرانے پر افسوس اور حیرت کا اظہار کیا ہے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے جموں وکشمیر کے گورنر ستیہ پال ملک کے نام اپنے پیغام میں گورنر کے گزشتہ بدھ کو دیئے گئے جرات مندانہ بیان کی، جو انڈین ایکسپریس میں شائع ہوا ہے، تعریف کرتے ہوئے افسوس کے ساتھ کہا کہ ایک قومی اور جموں وکشمیر کے استحصال شدہ لوگوں کے لئے وقف نیشنل پنتھرس پارٹی کو موجودہ انتظامیہ، خاص طورپر ان لوگوں کے ذریعہ جو پولیس اور سکریٹریٹ کی ذمہ داری سنبھالتے ہیں، جان بوجھ کر نظرانداز کیا جارہا ہے۔ انہوں نے گورنر کو مطلع کیا کہ جن پنتھرس امیدواروں نے اپنے کاغذات نامزدگی داخل کردیئے ہیں اور جن کے کاغذات کو درست قرار دے دیا گیا ہے، حکام ہراساں کررہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ سب اس لئے ہورہا ہے تاکہ بی جے پی کے امیدوار بلامقابلہ منتخب ہوجائیں۔ انہوں نے کہاکہ یہ نہ تو جمہوریت ہے اور نہ ہی قانون کی حکمرانی۔ یہ سب جموں وکشمیر کی موجودہ انتظامیہ کے ذریعہ پولیس کی مدد سے انتخابی عمل کے ساتھ کیا جارہا دھوکہ ہے۔ پروفیسر بھیم سنگھ نے کہاکہ میری اپیل کے باوجود انتظامیہ نے کوئی توجہ نہیں دی جس کی وجہ سے پنتھرس پارٹی کے ایک امیدوار کو سری نگر میونسپل انتخابات سے اپنی نامزدگی مجبوراًً واپس لینی پڑی۔اسٹیٹ لیگل ایڈ کمیٹی نے جموں وکشمیر انتظامیہ کو وارننگ دی ہے کہ کشمیر کے ان حالات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ جموں وکشمیر انتظامیہ خود انتخابی عمل کو ناکام بنانا چاہتی ہے۔ اسٹیٹ لیگل ایڈ کمیٹی نے سپریم کورٹ کے سینئر وکیل پروفیسر بھیم سنگھ کو اس بات کا اختیار دیا ہے کہ وہ پنتھرس امیدواروں اور سینئر لیڈروں کو سیکورٹی فراہم کرانے کے لئے لئے سپریم کورٹ جائیں جس سے پنتھرس امیدواروں اور لیڈروں کو بقیہ امیدواروں اورلیڈروں مساوی سیکورٹی مل سکے۔