جموں// محکمہ ریلوے نے ایک تاریخی کارنامہ انجام دیتے ہوئے دریائے چناب پر ریاسی ضلع میں دنیا کے بلند ترین ریلوے پل کے دونوں سروں کو جوڑ دیا ہے۔اسی پل سے وادی کا جموں سے ریل رابطہ ممکن ہوگا۔یہ پل دریائے چناب کی تہہ سے 359میٹربلند ہے جو فرانس کے شہر پیرس کے ایفل ٹائور سے30میٹرزیادہ انچا ہوگا۔ریل محکمہ کے افسروں نے اِسے ایک ’’تاریخی‘‘پیش رفت قرار دیا ہے۔ریلوے کے وزیر پیوش گوئل نے حال ہی میں یہ خبر ٹیوٹر پر شیئر کی تھی۔انہوں نے کہا ،’’ایک تاریخی یادگار کے موقعہ پر پیر کو چناب پل کے محراب کے نچلے حصے کو مکمل کیا گیا اوراب اوپر کامحراب مکمل کیا جائے گا۔‘‘وزیر نے اس کامیابی کا ایک ویڈیو بھی شیئر کرکے کہا تھا کہ یہ دنیا کا بلند ترین ریلوے پل ہوگا۔زبردست مشکلات اور سخت قطعہ زمین اورارضیاتی صورتحال کا مقابلہ کرتے ہوئے انجینئروں اور کارکنوں نے سخت محنت کرکے کشمیرکوملک سے جوڑنے کے دنیا کے بلند ترین ریلوے پل کا کام مکمل کیا۔ریلوے حکام کے مطابق شمالی ریلوے ادھمپورسرینگر بارہ مولہ ریل سیکشن کے111مشکل ترین کلومیٹروں کودسمبر2022تک مکمل کرے گاجن سے کشمیربھارت کے دیگر حصوںسے جڑ جائے گا۔ شمالی ریلویز272کلومیٹر طویل ریل لائن کو28000کروڑ روپے کی لاگت سے تعمیر کررہا ہے۔اس لائن کے پہلے سیکشن ادھمپور کٹرہ اور دوسرے سیکشن بانہال بارہ مولہ کو پہلے ہی مکمل کیاجاچکا ہے ۔ریلوے حکام کے مطابق مشکل ترین کٹرہ بانہال سیکشن پر شیڈول کے مطابق کام ہورہا ہے ۔25کلومیٹرکٹرہ ادھمپور،18کلومیٹربانہال قاضی گنڈ اور118کلومیٹرقاضی گنڈ بارہ مولہ سیکشن پہلے ہی مکمل کئے جاچکے ہیں۔حکام کے مطابق آخری سیکشن 111کلومیٹر کٹرہ بانہال سیکشن پر اس وقت کام ہورہا ہے اور کہا کہ اس سیکشن کے174کلومیٹرٹنلوں میں سے126کلومیٹر ٹنل پہلے ہی مکمل کئے جاچکے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ شاید یہ برصغیر میں مشکل ترین ریلوے پروجیکٹ ہے۔قاضی گنڈ کٹرہ سیکشن پروجیکٹ کا مشکل ترین حصہ ہے اوریہ129کلومیٹر طویل ہے جو پٹنی اور پیرپنچال سلسلوں سے گزرتا ہے ۔حکام کے مطابق ادھمپورسرینگربارہ مولہ ریل پروجیکٹ کشمیر وادی کو متبادل اور معتبرٹرانسپورٹ نظام فراہم کرنے کیلئے لازمی ہے ۔وزیراعظم نریندر مودی نے گزشتہ سال نومبر میں اس مایہ نازمنصوبے کا جائزہ لیاتھااوراس پر ہورہے کام میں تیزی لانے کی ہدایت دی تھی اوراسے 2020تک مکمل کرنے کو کہاتھا۔