380دن کےاحتجاج کے بعد ملک کے کسان گزشتہ ہفتہ اپنے گھروں کو واپس ہو چکے ہیں۔ ان کا یہ احتجاج مرکز کی بی جے پی حکومت کی جانب سے منظور کردہ تین زرعی قوانین کے خلاف تھا۔ مودی حکومت نے گزشتہ سال ستمبر میں کسانوں سے کسی رائے اور مشورہ کے بغیر ان قوانین کو پارلیمنٹ میں اپنی عددی طاقت کی بنیاد پر منظور کرلیا تھا۔ حکومت کا دعوی تھا کہ یہ قوانین کسانوں کی بہتری کے لئے بنائے گئے ہیں اور اس سے کسانوں کو فائدہ ہوگا۔ لیکن کسانوں نے ان قوانین کو کسان دشمن قوانین مانتے ہوئے اسے پہلے ہی دن مسترد کردیا۔ مرکزی حکومت کی ہٹ دھرمی نے کسانوں کو ان قوانین کے خلاف احتجاج کرنے پر مجبور کر دیا۔ چناچہ ملک کے کونے کونے سے کسان دارالحکومت دہلی کی سرحدوں پر جمع ہونا شروع ہو گئے اور گزشتہ سال 26؍ نومبر سے کسانوں کا منظم احتجاج دہلی کے سنگھو سرحد پر ہوتا رہا۔ حکومت نے اس احتجاج کو ختم کر نے کے لئے بہت سارے حربے اختیار کئے لیکن کسان مورچہ کی قیادت نے بڑی دانشمندی کے ساتھ اس احتجاج کو ہر حال میں جاری رکھا۔ حکومت اور کسان نمائندوں کے درمیان مذاکرات بھی ہوئے لیکن یہ بے فیض ثابت ہوئے۔پولیس کی طاقت کے ذریعہ اس احتجاج کو ختم کرنے کی کوشش کی گئی لیکن یہ حربہ بھی ناکام ہو گیا۔ حکومت نے یہ الزام بھی لگایا کہ کسان احتجاج تحریک میں دہشت گرد اور خالصتانی شامل ہوگئے ہیں۔ لیکن حکو مت اس کا کوئی ثبوت پیش نہ کر سکی۔ سمجھا جا رہا تھا کہ ایک ، دو مہینوں کے احتجاج کے بعد کسانوں کا احتجاج دم توڑ دے گا۔ کسان تھک تھکا کر اپنے گھروں کو مایوسی کے عالم میں لوٹ جائیں گے۔ لیکن جب عزم اور حوصلہ ہو تو تحریکیں کا میاب ہو تی ہیں۔ کسانوں نے جان لیا کہ یہ وقت ان کے لئے ’’کرو یا مرو‘‘کا ہے۔ ان کی دوراندیش نگاہیں دیکھ رہیں تھیں کہ آج اگر ان کے لئے مخالف قوانین کو قبول کرلیا جائے تو کل ان کے بچے اپنی زمین اور پیداوار سے محروم ہو جائیں گے۔بقول کسانوں کے حکومت نے ان تین قوانین کو کسانوں کے مفادات کو پیش نظر رکھتے ہوئے منظور نہیں کیا تھا بلکہ اس کے پسِ پردہ ملک کے سرمایہ داروں کے مفادات کا تحفظ کرنا تھا۔ کسان ،حکومت کی اس سازش کو بہت جلد سمجھ گئے اور بغیر کسی ٹال مٹول کے سڑکوں پر احتجاج کے لئے اُتر آ ئے۔ اگر وہ ایسا نہ کرتے تو چند سالوں کے بعد اپنی زمینوں سے محروم ہوجاتے یا اپنی اراضی پر محنت کرنے کے باوجود اس کی واجبی قیمت نہ پاتے۔ اسی فکر نے انہیں حکومت سے ٹکرانے کا حو صلہ عطا کیا۔ اس کے لئے 700سے زائد کسانوں کی جانیں بھی گئیں۔ ایک سال سے زائد عرصہ تک کسانوں نے اپنا گھر بار چھوڑ کر دہلی کی کڑاکے کی سردی، پھر چلچلاتی دھوپ اور دہلی کی خطرناک فضائی آلودگی کو برداشت کیا لیکن حکومت کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے۔ کسانوں کے اسی بے لوث جذبہ نے انہیں اپنے مشن میں کامیاب کیا۔ ایک سال کے شدید اور صبر آزما جدوجہد نے انہیں کا میابی سے ہم کنار کیا۔ کسی احتجاج کو مسلسل ایک سال تک اس انداز میں جاری رکھنا کہ ساری دنیا کی نظریں اس پر ٹکی رہیں اور حکومت بھی چین کی نیند نہ سوسکے ، کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ کسانوں کے اسی اتحاد نے حکومت کی ان قوانین کے تئیں چلی جانے والی ہر چال کو ناکام کر دیا۔ اسی سال گرونانک جینتی کے موقع پر وزیراعظم نریندر مودی نے ان تینوں قوانین کو واپس لینے کا اعلان کیا۔ پارلیمنٹ کے سرمائی سیشن کے پہلے اجلاس میں ان قوانین کی تنسیخ ہوگئی اور صدر جمہوریہ نے بھی فوری اس پر اپنی مہر تصدیق ثبت کردی ۔
کسانوں کے اس کامیاب احتجاج کے کئی پہلو ایسے ہیں جس پر غور کر کے عام ہندوستانیوں اور خاص طور پر مسلمانوں کو اپنی آئندہ کی پالیسی بنانی چاہئے۔ اس جدوجہد کا سب سے نمایاں پہلو یہ اُ بھرکر آتا ہے کہ جمہوریت میں کسی گروہ کی آواز کو زیادہ عرصہ تک دبا کر رکھا نہیں جاسکتا۔ حکومت زیادہ دن تک عوامی غیض و غضب کو ٹال نہیں سکتی۔ کسانوں کے احتجاج نے ثابت کردیا کہ کسی بھی مسئلہ پر متحدہ اقدام کیا جائے تو حکومت سے اپنے مطالبات منوائے جا سکتے ہیں۔ جس اتحاد اور یکجہتی کا مظاہرہ کسانوں نے کیا اس کی مثال ماضی قریب میں نہیں ملتی۔ کسانوں کو باٹنے اور ان کی لیڈرشپ کو ختم کرنے کے لئے مودی حکومت نے ہر مرحلہ پر کوشش کی۔ لیکن کسان قائدین نے اپنے ضمیر کا سودا نہیں کیا۔ جن مطالبوں کو لے کر وہ پہلے دن سے احتجاج منظم کئے تھے آخری وقت پر وہ اس پر قائم رہے۔ عام طور پر دیکھا جاتا ہے کہ کسی بھی احتجاج کے آغاز پر قائدین بڑے جوش و خروش کا مظاہرہ کر تے ہیں لیکن جیسے جیسے احتجاجی مہم کا اثر بڑھتا جاتا ہے قیادت کے قدم بھی ڈگمگانے لگتے ہیں اور بیشتر اوقات میں احتجاجی قائدین کوئی نہ کوئی حیلہ تراش کر بر سرِ اقتدار عناصر سے سمجھو تہ کر لیتے ہیں۔ اس طرح احتجاج کرنے والے اپنے مقصد میں ناکام ہو جاتے ہیں۔ لیکن کسانوں کے حالیہ احتجاج میں کسان قائدین نے حکو مت کی ہر لالچ کو ٹھکرادیا اور اپنے موقف پر ڈ ٹے رہے۔ انتہا یہ کہ جب حکومت نے بات چیت کے لئے مدعو کیا تو انہوں نے حکومت سے مذاکرات میں حصہ لیا لیکن حکومت کا لنچ بھی قبول نہیں کیا بلکہ اپنا کھانا ساتھ لے گئے۔ اس قسم کا مظاہرہ شاذ ونادر ہی دیکھنے میں آ تا ہے۔ اس احتجاج نے حکمرانوں کو یہ سبق سکھا دیا کہ جو قوانین من مانی انداز میں بنائے جا تے ہیں ان کا حشر یہی ہوتا ہے۔ مودی حکومت نے تین زرعی قوانین ، پارلیمنٹ میں کسی بحث و مباحث کے بغیر منظور کرلئے۔ انصاف کا تقاضا تھا کہ جس گروہ کے متعلق قانون بنایا جا رہا ہے ، اسے پہلے مطمئن کیا جاتا ۔ لیکن حکومت نے کسانوں سے بات کرنا تو دور ، ان کے علم و اطلاع میں لائے بغیر ایسے قوانین بنادئے جو کسانوں کے لئے آنے والے دنوں میں سُوہانِ روح ثابت ہو سکتے تھے۔ کسانوں نے اپنے بھر پور احتجاج کے ذریعہ حکومت کا اکڑاُ تار دی اور وزیراعظم کو کھلے عام زرعی قوانین کے مدّون کرنے پر معافی چاہنا پڑا۔ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک کے سربراہ کو اپنی غلطی تسلیم کر تے ہوئے تینوں قوانین سے دستبردار ہونے کی نوبت آئی۔ یہ جمہوریت کاہی ثمر ہے کہ حکومت کو کسانوں کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑے۔ کسانوں نے جمہوریت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے عوامی رائے کو اس حد تک حکو مت کے خلاف ہموار کیا کہ حکومت کا گودی میڈیا بھی اس کی تاب نہ لا سکا۔ احتجاج کے دوران زرخرید صحافیوں نے حکومت سے اپنی نمک حلالی جتانے ہوئے کسانوں کے مطالبات کو غیر واجبی اور ان کے احتجاج کو غیر قانونی قرار دینے کی بھی اوچھی حرکتیں کیں ۔ لیکن ملک کے غیرجانبدار میڈیا نے کسانوں کا بھر پور ساتھ دیا اور زرعی قوانین کے ضمن میں کسانوں کی جو شکایات تھیں انہیں اہل ملک کے سامنے بڑی بیباکی سے پیش بھی کیا۔ کئی صحافیوں نے کسانوں کے احتجاج کی پَل پَل کی رپورٹ منظر عام پر لائی۔ اس سے حکو مت کو عوام کو گمراہ کرنے کا موقع نہیں ملا۔ اسی طرح ملک کے سماجی جہدکاروں نے کسانوں سے اپنی یگانگت کا اظہار کرتے ہوئے ان کے احتجاج کو مزید طاقتور بنا دیا۔ سول سوسائٹی کے افراد اپنی ذ مہ داری کو نبھانے کے لئے تیار ہو جائیں تو حکومت کے سخت سے سخت قانون کے خلاف احتجاج کیا جا سکتا ہے اور حکو مت کو مجبور کیا جاسکتا ہے وہ عوام دشمن قوانین بنانے سے باز آجائے۔ کسانوں کی جدوجہد جو رنگ لائی ہے اس کے پیچھے یہ سب عناصر اپنا اپنا رول بہت ہی دیانتداری سے ادا کررہے تھے ۔
ملک کی آزادی کے بعد سب سے لمبے عرصے تک چلنے والے کسانوں کے احتجاج اور پھراس کی اس انداز میں کامیابی کہ کسان گزشتہ ہفتہ جشن و فتح کا زبردست مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے گھروں کو واپس ہوئے ہیں ، اس سے ہندوستانی مسلمانوں کو کیا درسِ بصیرت ملتا ہے؟اس ملک میں مسلمان چودہ فیصد ہیں ۔ یہ اس ملک کی دوسری بڑی اکثریت ہے۔ اس گروہ نے ہندوستان کی آزادی کے لئے بے مثال قربانیاں دیں ہیں۔ آزادی کے بعد سے اب تک بھی مسلمان قومی تعمیر میں لگے ہوئے ہیں۔ لیکن ان کی آواز اس ملک میں ہمیشہ صدا بہ صحرا کیوں ہوجاتی ہے ؟ کوئی ان کی تڑپ پر ہمدردی کی ایک نگاہ بھی ڈالتا۔ مسائل کا ایک ہجوم اور مصیبتوں کا ایک انبار ان کا مقدّر بن چکا ہے۔ ان کا کوئی احتجاج نہ حکمرانوں کوٹس سے مس کرتا ہے اور نہ اپوزیشن پارٹیاں اس پر کان دھرتی ہیں۔ ملک کی آزادی کے بعد سی اے اے۔ این آر سی اور این پی آر کے خلاف پہلی مرتبہ ہندوستان کے مسلمانوں نے منظم انداز میں احتجاج کیا تھا۔ دہلی کے شاہین باغ کے احتجاج نے ایک تاریخ رقم کی۔ یہ احتجاج 15؍ ڈسمبر 2019کو شروع ہوا تھا۔ اور 24؍ مارچ2020 تک بہت ہی پُر امن انداز میں چلتا رہا۔ کوویڈ۔19کے قہر نے جب ہندوستان کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تو انسانیت کو بچانے کے خاطر منتظمین نے اس 101 روزہ احتجاج کو اس امید پر ختم کر دیا کہ مرکزی حکومت شہریت ترمیمی قانون سے دستبردار ہو جائے گی۔ لیکن حکومت کے ارادے بدلے نہیں ہیں۔ اب بھی قانون کو نافذ کرنے کی تیاری جاری ہے۔ شمال مشرقی ریاستوں میں شہریت ترمیمی قانون کے خلاف احتجاج ہو رہا ہے لیکن مرکزی حکومت ان احتجاجیوں سے بات کرنے اور مسئلہ کا کوئی خوشگوار حل نکالنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ شہریت ترمیمی قانون مسلمانوں پر ایک لٹکتی ہوئی تلوار ہے۔ اس کی زد میں مسلمان ہی آ سکتے ہیں۔ زرعی قوانین کی منسوخی کے بعد کچھ حلقوں سے آوازیں اُٹھ رہیں ہیں کہ مودی حکومت شہریت ترمیمی قانون کو بھی منسوخ کر دے۔ لیکن جب تک کسانوں کے احتجاج کی طرح سارے ملک میں اس قانون کے خلاف آواز بلند نہیں ہو گی، حکومت اس قانون کو واپس نہیں لے گی۔ 15؍ڈسمبر کی تاریخ گزر گئی لیکن بہت کم لوگوںکویاد ہوگا کہ دو سال پہلے اسی تاریخ کو مسلمانوں نے اپنے زندہ ہونے کا ثبوت دیتے ہوئے دہلی کی سڑکوں کو جام کر دیا تھا۔ 80سال کی ضعیف خواتین نے سردی ، گرمی، بھوک اور پیاس کی پرواہ نہ کرتے ہوئے آنے والی نسلوں کے تحفظ کے لئے 101دن تک ہر مصیبت کو برداشت کرتے ہوئے قوم کو یہ پیغام دیا کہ آزمائش کی گھڑی میں سب کو متحد ہوکر اپنے حق کے لئے لڑنا ہے۔ لیکن افسوس کہ ڈیڑھ سال کے عرصے میں ہندوستانی مسلمانوں نے اس تاریخی احتجاج کو بُھلا دیااور پھر خواب غفلت میں محو ہوئے ہیں ۔ وقت کا تقاضا تو یہ ہے کہ مسلمان غفلت چھوڑیں، بیدا ر ہوکر متحد ہوجائیں اور اپنے جائز حقوق کے لئےجمہوری طرز ِعمل میں ،بہترین حکمت ِعملی کے تحت، ملکی آئین کے حدود کے اندر اپنی آواز بلند کریں تا کہ موجودہ مرکزی حکومت، جس نے کسانوں کے مطالبات کو قبول کرتے ہوئے تینوں زرعی قوانین کو منسوخ کردیئےہیں،اُسی طرح شہریت ترمیمی قانون کی منسوخی کا اعلان کرے ۔ جس کے لئے لازمی ہے کہ مسلمانوں کی قیادت ہر قسم کے مفادات سے اوپر اُٹھ کر قومی اور ملّی مفاد کو ترجیح دے، تو کوئی عجب نہیں کہ حکومت مسلمانوں سے متعلق قانون سازی کرنے سے پہلے غور و خوص کرے ۔ چاہے وہ شہریت ترمیمی قانون ہو ، طلاقِ ثلاثہ کا قانون ہو، جبری تبدیلی مذہب کا معاملہ ہو یا پھر نئی تعلیمی پالیسی کا نفاذ۔ شرط یہ ہے کہ مسلمان سمجھ جائیں کہ جمہوریت میں سب سے بڑی طاقت اتحاد کی ہوتی ہے۔ اسی طاقت سے آج کا ہندوستانی مسلمان محروم ہے۔ کاش مسلمان اس حقیقت کوجان لیں اور متحد ہوجائیں۔
(رابطہ۔91+9885210770)