مثبت پیش رفت کی جانب اچھے قدم سے تعبیر
سرینگر//جموں وکشمیر کے سابق صدر اور سرکردہ کانگریس لیڈر ڈاکٹرکرن سنگھ نے وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے جموں وکشمیر کے معاملے پر کل جماعتی میٹنگ کے انعقاد کا خیر مقدم کرتے ہوئے خطے میں اسمبلی الیکشن سے قبل ریاست کا درجہ بحال کرنے پر زور دیا ہے جس سے بقول انکے عوام کی مرحم پٹی کرنے کا طویل مدتی فائدہ ہوگا۔ایس این ایس کے مطابق جموں وکشمیر کے سابق صدر اور مہاراجہ خاندا ن کے بزرگ لیڈر ڈاکٹر کرن سنگھ نے جموں وکشمیر کی ریاستی پوزیشن بحال کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی ذاتی رائے میں دفعہ 370پھر سے بحال کرنے کا معاملہ بظاہر ناممکن ہے لیکن چونکہ یہ معاملہ سپریم کورٹ میں زیر سماعت ہے اس لئے اس کا عدالتی سطح پر ہی فیصلہ سامنے آجانا چاہئے۔ایک انٹرویو کے دوران ڈاکٹر سنگھ نے جموں وکشمیر کے ان لوگوں کیلئے مالی اور ترقیاتی پیکیج کے اعلان کا مطالبہ کیا ہے جن کی روزی روٹی اور روزگار ریاست کو 2حصوں میں تقسیم کرنے سے متاثرہوا ہے۔وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے جموں وکشمیر کے 14مین اسٹریم لیڈروں کے ساتھ ملاقات پر اپنے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے ڈاکٹر سنگھ نے کہا کہ ان کی نظر میں یہ میٹنگ ایک مثبت قدم ہے ۔اول اس لئے کہ اس میں نیشنل کانفرنس اور پی ڈی پی کو بھی شامل کیا گیا ہے جو کل تک ملک دشمن جماعتیں قرار دی جارہی تھیں۔ڈاکٹر سنگھ کے مطابق ساڑھے تین گھنٹوں تک چلنے والی یہ میٹنگ اس لحاظ سے بھی مثبت پیش رفت کی جانب قدم ہے کیونکہ اس میں سبھی لوگوں کو دھیان سے سنا گیا۔انہوں نے جموں وکشمیر کیلئے ریاستی درجہ بحال کرنے پر بھی زور دیا اور کہا کہ یہ ایک عام مانگ ہے جس پر الیکشن سے قبل ہی عمل درآمد ہونا چاہئے۔یہ پوچھے جانے پر کہ جموں کشمیرکے اکثررہنمائوں نے ریاستی درجے کی بحالی کا مطالبہ کیا،انہوں نے کہا کہ اس بات پر سبھی کااتفاق ہے کہ ستربرس خصوصی درجے کی ریاست ہونے کے بعدتنزل کرکے ریاست سے بھی کم ترمرکزی زیرانتظام علاقہ درجہ دینے کے فیصلے کی کسی نے بھی ستائش نہیں کی ہے۔اس لئے ریاستی درجہ سب کا مطالبہ ہے،اب سوال یہ ہے کہ یہ کب دیا کائے گا۔انہوں نے کہا کہ میری نظرمیں پہلا قدم حدبندی ہے ۔حدبندی کمیشن پہلے ہی کام پر لگا ہے،اُسے جلد ہی رپورٹ پیش کرناچاہیے ۔حدبندی کے بعد دوسرا قدم انتخاب ہوگا،یہ میری ذاتی رائے ہے۔انتخاب مکمل ریاستی درجہ ملنے کے بعد ہونے چاہیے۔ڈاکٹر کرن سنگھ نے کہا کہ جموں کشمیرکوریاستی درجہ دیناانتخاب سے قبل ہونا چاہیے۔انہوں نے کہا کہ اگر پہلے مرکزی زیرانتظام علاقہ کاانتخاب ہوگا اور بھر وہ ریاست بن جائے گا ،اُس کا کوئی مطلب نہیں ہوگاکیوں کہ الگ الگ حالات ہوتے ہیں الگ الگ درجوں میں۔80سالہ بزرگ رہنما نے کہا کہ ہمیں ریاستی درجہ جتنی جلدممکن ہو ملنا چاہیے۔میرا،طلب ہے کہ اگر کل مل جائے ،تو اس سے بہتر کچھ نہیں ہے ،لیکن ہمیں اگلے انتخاب مکمل ریاست کے طور لڑنے چاہیے۔انہوں نے سپریم کورٹ پربھی زوردیاکہ وہ دفعہ370 کی منسوخی کیخلاف عرضیوں کی فوری طورسماعت کریں۔