پلوامہ// ضلع پلوامہ کے کاکا پورہ قصبہ میں شبانہ تصادم آرائی بعد دوپہر تک جاری رہی جس کے دوران 3مقامی جنگجو جاں بحق ہوئے، جن میں سے ایک صرف 2روز قبل جنگجوئوں کی صف میں شامل ہوا تھا۔ مقام جھڑپ کے نزدیک اور کھریو میں مظاہرین کے درمیان شدید جھڑپیں ہوئیں جس کے دوران ایک دوشیزہ کو گولیاں لگیں جبکہ 7 پیلٹ لگنے سے زخمی ہوئے جن میں سے6کی آنکھیں متاثر ہوئی ہیں۔ تصادم آرائی کے آغاز پر ہی ضلع میں انٹر نیٹ سروس معطل کی گئی اور سرینگر کاکہ پورہ روڑ پر گاڑیوں کی آمد و رفت معطل ہوگئی، جبکہ کاکہ پورہ، پلوامہ اور کھریو میں ہڑتال کی گئی۔مسلح جھڑپ میں ایک رہائشی مکان تباہ ہوا جبکہ مالک مکان کے بیٹے کو حراست میں لیا گیا ۔
مسلح تصادم کیسے ہوا؟
پولیس کے مطابق انہیں اس بات کی اطلاع ملی تھی کہ محلہ گھاٹ کاکہ پورہ نزدیک پولیس سٹیشن 3جنگجو موجود ہیں، جن کیخلاف آپریشن کی غرض سے 50آر آر اور سی آر پی ایف کی خدمات طلب کی گئیں اور رات کے قریب 12بجے محلے کو محاصرے میں لیا گیا اور ایک بجے آپریشن کی تیاری شروع کی گئی۔قریب ڈیڑھ بجے جب پولیس کو مصدقہ طور پر تین جنگجوئوں کی موجودگی کے بارے میں معلومات فراہم ہوئیں تو آپریشن کو روک دیا گیا اور جنگجوئوں کو ہتھیار ڈالنے کی پیشکش کی گئی۔بتایا جاتا ہے کہ جنگجوئوں کے اہل خانہ کو بھی جائے وقوع پر بلایا گیا جنہوں نے جنگجوئوں کو ہتھیار ڈالنے پر مائل کرنے کی ناکام کوششیں کیں۔ مقامی ذی عزت شہریوں کی طرف سے بھی جنگجوئوں کو سرنڈر کرنے کیلئے کہا گیا لیکن انہوں نے ایسا نہیں کیا۔ صبح 5بجے تک یہی سلسلہ جاری رہا لیکن اس دوران کوئی فائرنگ کا تبادلہ نہیں کیا گیا۔پانچ بجے کے بعد آپریشن شروع کیا گیا جس کیساتھ ہی فائرنگ شروع ہوئی جو وقفے وقفے تک بعد بعد دوپہر تک جاری رہا ۔دوپہر کو فورسز نے عبدالرحیم ڈار کے مکان کو بارودی مواد سے اڑا دیا جس کے نتیجے میں مکان تباہ ہوا جبکہ مارٹر گولوں سے دیگر کئی ملحقہ مکانوں کو شدید نقصان پہنچا۔ لوگوں نے الزام لگایا کہ سیکورٹی فورسز نے محلے میں موجود درجنوں گاڑیوں کے شیشے چکنا چور کر دیئے اور مکانوں کو بھی نقصان پہنچایا۔بعد میں ملبے سے 3جنگجوئوں کی لاشیں بر آمد کی گئیں۔
جنگجوئوں کی شناخت
مسلح تصادم آرائی میں 3جنگجو جاں بحق ہوئے جن کی تحویل سے ایک ایس ایل آر، ایک پستول اور ایک اے کے 47رائفل بر آمد کی گئی ہے۔ جن کی شناخت جنید ایوب ننگرو ولد محمد وایوب ساکن پرچھو پلوامہ(19فروری2021 لاپتہ،22فروری گمشدگی رپورٹ درج)، سابق جنگجوسہیل احمد لون ولد نثار احمد ساکن لون محلہ کھریو(5فروری 2021 لاپتہ، 2018میں گرفتار ہوا اور 2019میں رہا کیا گیا)اور سالہ یا سر احمد وانی ولد بشیر احمد وانی ساکن بابا پورہ کھریو، پیشے سے ٹرک ڈرائیور(2اپریل 2021) کے بطور ہوئی ہے۔مذکورہ نوجوان نے کھریو میں جموں کشمیر بینک گارڈ کی بندوق بھی اڑا لی تھی لیکن بعد میں اسے گرفتار کیا گیا تھا۔بتایا جاتا ہے کہ مالک مکان عبدالرحیم ڈار کے بیٹے نواز احمد کو حراست میں لیا گیا ہے۔اس پر الزام ہے کہ اس نے ہی نوگام حملے کیلئے استعمال کی گئی گاڑی جنگجوئوں کو فراہم کی تھی۔ مذکورہ مکان میں غیر ریاستی مزدور بھی کرایہ پر رہ رہے تھے۔
پر تشدد جھڑپیں
پولیس نے بتایا کہ جمعہ کی صبح ہی نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد مقام جھڑپ کے نزدیک جمع ہوئی اور انہوں نے نعرے بازی شروع کرنے کیساتھ فورسز کے آپریشن میں رخنہ ڈالنے کی غرض سے پتھرائو کا سہارا لیا اور فورسز پر کئی اطراف سے پتھر بازی شروع کی۔ اس موقعہ پر پولیس و فورسز نے پہلے انہیں لاٹھی چارج کر کے بھگا دیا لیکن مظاہرین دوبارہ جمع ہوئے اور تشدد پر اتر آئے۔ چنانچہ فورسز نے آنسو گیس کے درجنوں گولے داغے اور مظاہرین کو منتشر کرنے کی کوشش کی ۔ مقامی لوگوں کے مطابق اس سے قبل ہی فائرنگ کے تبادلے میں ایک جواں سال دوشیزہ 25سالہ عشرت جان دختر عبدالعزیز ڈار اور42سالہ غلام نبی ڈار ولد علی محمد ڈار سانبورہ گولیاں لگنے سے زخمی ہوئے تھے۔ بتایا جاتا ہے کہ عشرت جان کو گھر کے صحن میں گولی لگی جس سے وہ زخمی ہوئی۔مقام جھڑپ پرفورسز نے مظاہرین کیخلاف پیلٹ کا استعمال کیا جس سے 7نوجوان زخمی ہوئے جن میں سے 6کی آنکھیں متاثر ہوئی ہیں۔ان سبھی کو صدر اسپتال منتقل کردیا گیا ہے۔ تاہم صدر اسپتال ریکارڈ کے مطابق صرف ایک دوشیزہ کو گولی لگی تھی۔ پانپور اسپتال میں دو شدہد زخمیوں کو لایا گیا تھا جو گولی یا پیلٹ لگنے سے زخمی ہوئے تھے،ڈاکٹر یہ اندازہ نہیں کرسکے۔ادھر کھریو میں نماز جمعہ سے قبل ہی دو مقامی جنگجوئوں کی ہلاکت کی خبر پھیل گئی ۔ جمعہ اجتماع کے بعد یہاں جلوس نکالا گیا اور عیدگاہ میں دونوں جنگجوئوں کے حق میں نماز جنازہ ادا کی گئی۔ اسکے فوراً بعد یہاں مظاہرین اور پولیس کے درمیان پر تشدد جھڑپیں ہوئیں جو سہ پہر قریب 5بجے تک وقفے وقفے سے جاری رہیں۔ مظاہرین نے پولیس پر شدید پتھرائو کیا جس کے جواب میں انہیں منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کے درجنوں گولے داغے گئے۔ کھریو میں ہر طرح کا کاروبار بند رہا جبکہ پلوامہ میں بھی ہڑتال کی گئی۔