مینڈھر //مینڈھر سب دویژن کی پنچایت کانگڑھ گلہوتہ کے مکینوں نے محکمہ دیہی ترقی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ مالی برس 2019-20میں 14ایف سی کے لگ بھگ سبھی بل یا تو مبینہ طورپر جعلی نکالے گئے ہیں یا سابقہ کاموں کی پیمائش کر کے ہی بل نکال دئیے گئے ہیں ۔انہوں نے متعلقہ آفیسران کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہاکہ زمینی سطح پر کام کا کوئی وجود ہی نہیں ہے جبکہ مذکورہ مالی برس کے دوران پنچایت میں 22لاکھ روپے سے بھی زائد تعمیر اتی کام کئے گئے ہیں ۔انہوں نے کہاکہ مذکورہ تعمیر اتی پروجیکٹ صرف کاغذوں میں ہی تحریر ہیں جبکہ زمینی سطح پر ان کا کوئی وجود ہی نہیں ہے ۔مقامی معززین نے الزام عائد کرتے ہوئے کہاکہ مالی برس 2019-20میں 14ایف سی پلان کا لگ بھگ 60فیصد سے زائد پیسے کا مبینہ طورپر خرد بُرد کیا گیا ہے ۔انہوں نے کہاکہ مذکورہ پنچایت میں ملازمین اور آفیسران و پنچایتی اراکین کی ملی بھگت سے سڑکوں ،راستوں ودیگر تعمیر اتی کاموں کے نام پر کئی مرتبہ پیسے نکالے گئے ہیں جبکہ ملازمین پنچایت کے تعمیر اتی فنڈز کو اپنی مرضی کیساتھ دوسری جگہوں پر منتقل کر دیتے ہیں ۔مقامی لوگوں نے ضلع ترقیاتی کمشنر پونچھ کیساتھ ساتھ جموں وکشمیر کے لیفٹیننٹ گورنر سے مانگ کرتے ہوئے کہاکہ پنچایت کانگڑھ گلہوتہ میں مالی برس 2019-20میں 14ایف سی اور 15ایف سی کے تحت ہوئی تعمیراتی کاموں کی زمینی سطح پر موجودگی کی تحقیقات کی جائے جبکہ سرکاری فنڈز کی مبینہ خرد بُرد میں ملوث ملازمین کیخلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے ۔انہوں نے انتباہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر انتظامیہ ملوث افراد کیخلاف کارروائی کرنے میں ناکام ثابت ہوئی تو اس سلسلہ میں احتجاج کیا جائے گا ۔