منڈی//نریگا ملازمین کی کام چھوڑ ہڑتال پانچویں روز میں داخل ہوگئی ہے اور انہوںنے مطالبات کے حق میں 18دسمبر کوسیول سیکریٹریٹ کا گھیرائو کرنے کا اعلان کیاہے ۔ ملازمین کاکہناہے کہ حکومت ان کے مطالبات پر کوئی دھیان نہیں دے رہی اورنہ ہی انہیں مستقل کرنے کیلئے کوئی جاب پالیسی وضع کی جارہی ہے جس کی وجہ سے ان کا مستقبل اندھیرے میں ہے ۔ان کاکہناہے کہ محکمہ میں دن رات کام کرکے وہ اثاثوں کی تعمیر میں اہم رول ادا کرتے ہیں لیکن بدلے میں انہیں صرف مایوسی اور ناامیدی ہاتھ آتی ہے ۔ ملازمین کی طرف سے پونچھ کے پریتم پارک میں اجلاس منعقد ہواجس دوران یہ فیصلہ لیاگیاکہ اگر سرکار نے ان کے مطالبات کو سنجیدگی سے نہیں لیاتو اٹھارہ دسمبر کو سیول سیکریٹریٹ کا گھیرائو کیاجائے گا۔اس موقعہ پر بولتے ہوئے نریگا یونین کے ضلع صدر طارق زار نے کہا کہ عرصہ دراز سے وہ محکمہ دیہی ترقی میں معمولی سی اجرتوں پر کام کررہے ہیںاور انہی کی محنت سے اس شعبے نے ملک بھر میں نام کمایاہے ۔انہوںنے کہاکہ حکومت کی طرف سے ان کیلئے کوئی جاب پالیسی وضع نہ کرنا افسوسناک اور نوجوانوں کے مستقبل کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تمام ملازمین محکمہ کیلئے ریڑھ کی ہڈی ہیں اور انہیں ان کی خدمات کے عوض انصاف دیاجائے ۔ انہوں نے کہاکہ18دسمبر کو ریاست بھر سے نریگا ملازمین سیول سیکریٹریٹ کا گھیرائو کرنے جموں پہنچیںگے ۔انہوںنے پونچھ کے تمام ملازمین سے اپیل کی کہ وہ اس احتجاج میں شامل ہوں اورحکومت کو اپنے جائز مطالبات منوانے کیلئے مجبور کیاجائے ۔اجلاس لعل حسین ،شوکت حسین، محمد آزاد، شکیل بانڈے ،معروف پرے اور شیراز احمد بھی موجو دتھے۔