۔3پولیس اہلکار زخمی ،علاقے میں بندشیں اور انٹر نیت سروس بند
اشتیاق ملک
ڈوڈہ// جموں و کشمیر کے ڈوڈہ ضلع میں مبینہ طور پر حادثاتی گولی لگنے سے ایک آٹو ڈرائیور کی ہلاکت کیخلاف بھدرواہ ٹائون میں شدید احتجاج کیا گیا اور ملوث پولیس اہلکاروں کی فوری گرفتاری اور واقعہ کی اعلیٰ سطحی تحقیقات کرنے کا مطالبہ کیا گیا۔معلوم ہوا ہے کہ پولیس کی جانب سے واقعہ کے سلسلے میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے اور ملوثین کیخلاف کارروائی کرنے کا یقین دلایا گیا ہے۔
پولیس بیان
ڈوڈہ پولیس نے اس بات کا دعویٰ کیا ہے کہ دیر رات گئے انہوں نے بہلا گائوں بھدرواہ میں مشتبہ اطلاع ملنے پر گھات لگایا تھا اور اس دوران یہاں سے 2افراد کا گذر ہوا، جونہیں رکے اور انہوں نے پولیس اہلکار سے رائفل چھیننے کی کوشش کی۔ پولیس کے مطابق اس دوران فائرنکل گیا جس سے ایک شخص ہلاک ہوا جبکہ تین سپیشل آپریشن گروپ (ایس او جی اہلکار زخمی ہوگئے۔ پولیس حکام نے بتایا کہ جمعرات کی رات دیر گئے اس واقعے کے سلسلے میں ایک مذہبی مبلغ کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔ایک سینئر افسر نے بتایا کہ اونچائی والے علاقے میں مشتبہ نقل و حرکت کی اطلاع کے بعد ایس او جی کی ایک ٹیم نے جمعرات کو بھدرواہ شہر سے تقریباً 35 کلومیٹر کے فاصلے پر جئے-گنڈوہ روڈ پر گھات لگا یا تھا۔انہوں نے کہا کہ تقریباً 11.30 بجے، ایس او جی ٹیم نے ایک نوجوان کو روکا جس نے مبینہ طور پر اہلکاروں پر حملہ کیا اور ایک سروس رائفل چھیننے کی کوشش کی۔افسر نے بتایا”جھگڑے کے دوران، ایک ایس او جی جوان نے گولی چلائی۔ نوجوان گولی لگنے سے زخمی ہوا، جبکہ تین پولیس اہلکار اس واقعے میں زخمی ہوئے،” ۔ان چاروں کو سب ڈسٹرکٹ ہسپتال بھدرواہ لے جایا گیا جہاں سے انہیں خصوصی علاج کے لیے گورنمنٹ میڈیکل کالج ڈوڈہ ریفر کر دیا گیا۔ عہدیداروں نے بتایا کہ چیکا گائوں کا نوجوان عارف حسین (30) زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گیا۔انہوں نے کہا کہ ایک مذہبی مبلغ کو حراست میں لیا گیا ہے۔پولیس کی جانب سے رحمت اللہ اور سجاد احمد نامی اسکے ساتھیوں کو گرفتار کیا ، جو اس وقت فرار ہوئے تھے۔
مقامی لوگ
لوگوں کا کہنا ہے کہ مہلوک شہری 30سالہ آٹو ڈرائیور عارف حسین ولد محمد اقبال ہے جو تحصیل بہلا کے چکا گائوں کا رہنے والا ہے۔لوگوں نے بتایا کہ رات کے ساڑھے گیارہ بجے پولیس پوسٹ میں تعینات پولیس جوانوںکے درمیان لڑائی ہوئی اور حادثاتی فائرنگ کے واقعہ میں ایک شہری ہلاک ہوا جبکہ 3پولیس اہلکار معمولی طور پر زخمی ہوئے۔
بھدرواہ میں احتجاج
مذکورہ شہری کی لاش جمعہ کی صبح 6بجے اہل خانہ کے حوالے کی گئی۔حکام نے اسکے ساتھ ہی ڈوڈہ، بھدرواہ، گندوہ، بھلیسہ اور ٹھاٹھری علاقوں میں موبائل اور وائی فائی انٹر نیٹ سروس بند کردی۔انجمن اسلامیہ بھدرواہ نے ضلع میںبند کی کال دی اور ملوث پولیس اہلکاروں کی فوری
گرفتاری اور واقعہ کی انکوائری کا مطالبہ کیا۔نماز جمعہ کے بعد بھدرواہ اور بہلا تحصیل میں زبردست مظاہرے ہوئے اور دونوں مقامات پر لوگوں نے لاش دفنانے سے انکار کیا۔پولیس نے بعد میںسوشل ورکرنجم الثاقب کو رہا کردیا جس کے بعد احتجاجی مظاہرین سے بات چیت کرنے کیلئے ایس ایس پی ڈودہ اور اے ڈی سی نے انہیںیقین دلایا کہ واقعہ کی تحقیقات کی جائے گی اور قصور واروں کو سزا دی جائیگی۔ افسران نے یف آئی آر کی کاپی مظاہرین کو دی اورمتاثرین کو امداد دینے کی بھی یقین دہائی کرائی۔حکام کی یقین دہانی کے بعد احتجاج ختم کیا گیا اور شام 6بجے لاش اپنے آبائی گائوں میں دفنائی گئی۔
ایف آئی آر
اس دوران پولیس سٹیشن بھدرواہ میں کیس کے سلسلے میں ایف آئی آر نمبر120/2026زیر دفعہ 109،121،132،115(2)،307(بی این ایس ایس) درج کیا گیا۔احتیاطی اقدام کے طور پر بھدرواہ شہر میں سینٹرل ریزرو پولیس فورس اور پولیس کی اضافی تعیناتی کی گئی ہے۔