منجاکوٹ //منجاکوٹ کے لوگوں نے کالج کے قیام اور دیگر مطالبات پر کی جارہی ہڑتال انیس دنوں کے بعد ختم کرنے کا اعلان کیاہے ۔ یہ ہڑتال جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے بینر تلے ہورہی تھی جس دوران مسلسل دھرنا دیاگیا اور لوگوںنے کئی مرتبہ جموں پونچھ شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت بند کرکے احتجاج کیا ۔ تاہم انہوںنے ڈپٹی کمشنر راجوری ڈاکٹر شاہداقبال چوہدری کی یقین دہانی پر ہڑتال ختم کرنے کا اعلان کیاہے ۔سنیچر کو ڈی سی نے منجاکوٹ دورے کے دوران جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ارکان سے ڈاک بنگلہ منجاکوٹ میں ملاقات کی اور ان کے مطالبات جائز ہیں جن کو حل کرنے کیلئے ایک کمیٹی تشکیل دی جائے گی ۔انہوںنے کہاکہ وہ ایک مہینے کے اندر کالج کے مسئلہ کا حل نکلوانے کی کوشش کریںگے ۔ ڈپٹی کمشنر نے جوائنٹ ایکشن کمیٹی کے ارکان کو بتایاکہ ان مطالبات پر زمینی سطح پر کام کرنے کی ضرورت ہے اور ان کو حکومت کے سامنے مناسب طریقہ سے پیش کیاجائے گا۔انہوں نے یقین دلایاکہ کالج کے قیام کی خاطر رپورٹ تیار کی جائے گی اور ساتھ ہی زمین کی حصولی کا عمل بھی مکمل کیاجائے گا۔ انہوںنے درہال اور ڈونگی کی مثال دیتے ہوئے کہاکہ مقامی لوگوں کی طرف سے اس حوالے سے تعاون ملناچاہئے ۔اس موقعہ پر ایس ڈی ایم کی پوسٹ پر تبادلہ خیال ہوا ۔ انہوںنے کہاکہ یہ ایک سرحدی علاقہ ہے جہاں فائرنگ اورگولہ باری کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کاسامنارہتاہے جس کو دیکھتے ہوئے ایس ڈی ایم دفتر کے قیام کا مطالبہ جائز ہے جسے مناسب طریقہ سے حکومت کے سامنے پیش کیاجائے گا۔انہوںنے کہاکہ یہ مانگ حکومت کے سامنے ایک مہینہ کے اندر پیش کی جائے گی ۔اس موقعہ پر اے سی آر عبدالقیوم میر ، ایگزیکٹو انجینئر پی ایچ ای نثار خان ، ایگزیکٹو انجینئر محکمہ بجلی منشی خان ، ایگزیکٹو انجینئر پی ایم جی ایس وائی ، چیف ایجوکیشن افسر لعل حسین ،تحصیلدار شیراز احمد ، ایس ڈی پی او ڈاکٹر امتیاز ، بی ڈی او عابد حسین اور دیگر افسران بھی ان کے ہمراہ تھے ۔