سمت بھارگو
راجوری// جموں و کشمیر حکومت نے گورنمنٹ میڈیکل کالج اور اس سے منسلک ہسپتال راجوری میں ایک مریضہ کی مبینہ موت کے معاملے پر اعلیٰ سطحی تحقیقات کا حکم جاری کر دیا ہے۔ حکومت کی جانب سے تشکیل دی گئی تین رکنی کمیٹی اس پورے معاملے کی باریک بینی سے جانچ کرے گی اور دو ہفتوں کے اندر اپنی تفصیلی رپورٹ حکومت کو پیش کرے گی۔محکمہ صحت و طبی تعلیم کی جانب سے جاری سرکاری حکم نامے کے مطابق اس انکوائری کا مقصد واقعے کی غیر جانبدارانہ، شفاف اور منصفانہ تحقیقات کو یقینی بنانا ہے تاکہ حقیقت سامنے لائی جا سکے اور اگر کسی قسم کی غفلت یا لاپرواہی ثابت ہوتی ہے تو ذمہ داران کے خلاف کارروائی کی جا سکے۔حکومتی حکم نامے کے مطابق کمیٹی کی سربراہی گورنمنٹ میڈیکل کالج ادھم پور کے پرنسپل پروفیسر (ڈاکٹر) پرمود کالسوترا کریں گے، جبکہ گورنمنٹ میڈیکل کالج جموں کے شعبہ آرتھوپیڈکس کے پروفیسر عبدالغنی اور گورنمنٹ گاندھی نگر ہسپتال جموں کے میڈیکل سپرنٹنڈنٹ ڈاکٹر نریندر بھوٹیل کو کمیٹی کے رکن کے طور پر شامل کیا گیا ہے۔کمیٹی کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ واقعے سے متعلق تمام حقائق اور حالات کا تفصیلی جائزہ لے۔ اس کے ساتھ ساتھ مرحومہ کے اہل خانہ کی جانب سے لگائے گئے الزامات کی بھی مکمل جانچ کی جائے گی۔
کمیٹی ہسپتال میں فراہم کئے گئے علاج، ڈیوٹی پر موجود طبی عملے کی کارکردگی اور اس بات کا بھی جائزہ لے گی کہ آیا علاج کے دوران طے شدہ طبی رہنما اصولوں پر عمل کیا گیا یا نہیں۔سرکاری حکم نامے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اگر تحقیقات کے دوران کسی قسم کی طبی غفلت، کوتاہی، لاپرواہی یا معیاری طبی اصولوں سے انحراف سامنے آتا ہے تو ذمہ دار افراد کا تعین کیا جائے گا۔ کمیٹی اپنی رپورٹ کے ساتھ تمام ضروری دستاویزی ثبوت بھی محکمہ صحت و طبی تعلیم کو پیش کرے گی۔ذرائع کے مطابق یہ معاملہ کوٹرنکہ کے موہڑہ گاؤں کی رہائشی نصرت جہاں کی موت سے متعلق ہے، جنہوں نے جی ایم سی راجوری ہسپتال میں آپریشن کے ذریعے بچے کو جنم دیا تھا۔ بتایا جا رہا ہے کہ زچگی کے بعد ان کی طبیعت اچانک بگڑ گئی۔ اہل خانہ کا الزام ہے کہ اینٹی بایوٹک انجکشن لگائے جانے کے بعد ان کی حالت مزید خراب ہوئی، جس کے نتیجے میں ان کی موت واقع ہوگئی۔ لواحقین نے اس واقعے کو طبی غفلت قرار دیتے ہوئے ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ادھر اس واقعے کے بعد راجوری میں عوامی غم و غصہ بھی دیکھنے کو ملا۔ جمعہ کے روز مقامی نوجوانوں نے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے جی ایم سی راجوری میں صحت خدمات کو بہتر بنانے کا مطالبہ کیا۔ مظاہرین کا کہنا تھا کہ جی ایم سی راجوری پورے خطے کا ایک اہم طبی ادارہ ہے، تاہم یہاں فراہم کی جانے والی سہولیات اور طبی خدمات عوام کی توقعات کے مطابق نہیں ہیں۔مظاہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ہسپتال میں ڈاکٹروں کی دستیابی، ادویات، ایمرجنسی خدمات اور مریضوں کی دیکھ بھال کے نظام کو فوری طور پر بہتر بنایا جائے تاکہ مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات سے بچا جا سکے۔ دوسری جانب حکومت کی جانب سے تحقیقات کے حکم کو عوامی حلقوں نے ایک اہم قدم قرار دیا ہے اور امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ اس سے حقیقت سامنے آئے گی اور متاثرہ خاندان کو انصاف مل سکے گا۔