سمت بھارگو
راجوری//محکمہ صحت کے ملازمین نے ایک بار پھر ڈھائی دن کی اضافی تنخواہ کی بحالی کے مطالبے کو لے کر بدھ کے روز جموں صوبہ کے مختلف طبی اداروں میں احتجاجی مظاہرے کیے۔ مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ گزشتہ کئی ہفتوں سے مسلسل احتجاج کر رہے ہیں لیکن ابھی تک حکومت کی جانب سے ان کے مطالبات پر کوئی مثبت پیش رفت سامنے نہیں آئی ہے۔ملازمین نے اپنے احتجاج کے دوران کہا کہ محکمہ صحت کے اہلکار چوبیس گھنٹے عوامی خدمات انجام دیتے ہیں اور انہیں مختلف شفٹوں میں ڈیوٹی سرانجام دینی پڑتی ہے تاکہ مریضوں کو ہر وقت طبی سہولیات میسر رہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اسی مسلسل اور مشکل ڈیوٹی کے پیش نظر انہیں ڈھائی دن کی اضافی تنخواہ دی جاتی تھی، جسے حال ہی میں جموں و کشمیر حکومت نے ختم کر دیا ہے، جو سراسر ناانصافی ہے۔مظاہرین کے مطابق، حکومت کا یہ فیصلہ نہ صرف ملازمین کے معاشی حالات پر منفی اثر ڈال رہا ہے بلکہ ان کی حوصلہ شکنی کا سبب بھی بن رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صحت کے شعبے سے وابستہ ملازمین پہلے ہی دباؤ اور مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں اور اس طرح کے فیصلے ان کے مسائل میں مزید اضافہ کر رہے ہیں۔اس موقع پر گورنمنٹ میڈیکل کالج راجوری میں ملازمین کی تنظیم کے صدر ناصر خان نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ان کا واحد مطالبہ ڈھائی دن کی اضافی تنخواہ کی بحالی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب تک ان کا مطالبہ پورا نہیں کیا جاتا، تب تک احتجاج کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ملازمین اپنے حقوق کے حصول کے لیے پرامن طریقے سے آواز بلند کر رہے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ حکومت جلد اس مسئلے کو سنجیدگی سے لے گی۔ادھر، گورنمنٹ میڈیکل کالج راجوری کے منسلک ہسپتال میں ملازمین کے احتجاج کے باعث او پی ڈی خدمات متاثر رہیں، جس سے مریضوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کئی مریضوں نے شکایت کی کہ انہیں طویل انتظار کرنا پڑا جبکہ بعض کو بغیر علاج کے واپس لوٹنا پڑا۔ملازمین نے خبردار کیا کہ اگر ان کے مطالبات کو جلد از جلد تسلیم نہ کیا گیا تو وہ اپنے احتجاج میں مزید شدت لائیں گے۔ انہوں نے حکومت سے اپیل کی کہ وہ ان کے مسائل کو سمجھتے ہوئے فوری طور پر ڈھائی دن کی اضافی تنخواہ بحال کرے تاکہ صحت خدمات کی فراہمی متاثر نہ ہو اور ملازمین بھی اطمینان کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں انجام دے سکیں۔