ڈوڈہ //ڈوڈہ ضلع میں بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی سے جہاں عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہیں دن بھر بجلی ٹھپ رہنے سے سرکاری و نجی اداروں میں کام کاج متاثر ہو رہا ہے اور باالخصوص ہسپتالوں میں مریضوں کو بھی گھنٹوں تک انتظار کرنا پڑتا ہے۔اطلاعات کے مطابق پچھلے کئی روز سے ڈوڈہ کے شہر و گام میں بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی کا سلسلہ شروع ہوا ہے اور گذشتہ دو روز سے ترسیلی نظام کی مرمت کے لئے دن بھر بجلی بند رہی۔بجلی کی غیر اعلانیہ کٹوتی سے جہاں صارفین پریشان ہیں وہیں سرکاری و نجی اداروں میں و باالخصوص ہسپتالوں میں کام کاج متاثر ہو رہا ہے۔ کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے غلام حسین وانی نامی صارف نے کہا کہ بجلی کی آنکھ مچولی سے انہیں کافی دقتوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ محکمہ بجلی فیس وصول کرنے میں کٹوتی نہیں کرتے لیکن بہتر بجلی نظام بنانے ناکام ہوا ہے۔ایک بجی دوکاندار امتیاز حسین نے کہا کہ تین دن سے بجلی بند رہنے سے عوامی کام کاج متاثر ہوا ہے۔ہسپتال میں بیٹھے ایک مریض محمد ابراہیم نے کہا کہ انہیں خون ٹیسٹ و ایکسرے کروانا مطلوب ہے لیکن بجلی کی عدم دستیابی سے بروقت ٹیسٹ ہونے میں تاخیر ہورہی ہے۔ بی ڈی سی چیئر پرسن بھلیسہ چوہدری محمد حنیف، بی ڈی سی چیرمین چنگا محمد عباس راتھر و ڈی ڈی سی ممبر کاہرہ معراج ملک نے بجلی کی آنکھ مچولی پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خوشک موسم کے دوران بھی 33 کے وی بند رہتی ہے۔انہوں نے کہا کہ غریب لوگوں سے ماہانہ کرایا وصول کرنے کے باوجود چوبیس گھنٹوں میں سے 15 سے 18 گھنٹے بجلی بند رہتی ہے جس کے نتیجے میں اسکولی بچے، عوام و سرکاری و نجی ادارے متاثر ہوتے ہیں۔انہوں نے ضلع و صوبائی انتظامیہ سے ڈوڈہ ضلع کے شہر و گام میں بہتر بجلی نظام بنانے کے لئے ٹھوس اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا ۔