عظمیٰ نیوزسروس
جموں//وزیر برائے صحت و طبی تعلیم سکینہ اِیتو نے ایوان کو آگاہ کیا کہ ڈرگ ڈِی ایڈکشن کے قواعد زیرِ عمل ہیں اور جلد ہی حتمی شکل دی جائے گی۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ یہ قواعد جموں و کشمیر میں منشیات کی ناسورکے خلاف جدوجہد کو نمایاں طور پر مضبوط کریں گے۔اُنہوں نے یہ بات ایوان میں دیو یانی کی جانب سے قانون ساز شیام لال شرما کے ذریعے اُٹھائے گئے ’ ڈرگ ڈِی ایڈکشن سینٹروں‘سے متعلق ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہی ۔وزیرصحت نے جاری بجٹ سیشن کے دوران وقفۂ سوالات میں اراکینِ اسمبلی کی جانب سے اُٹھائے گئے مختلف ضمنی سوالات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ جموں وکشمیر میں اِس بڑھتی ہوئی سماجی تشویش سے نمٹنے کے لئے موجودہ اسمبلی سیشن میں منشیات کی لت کے خلاف ایک بِل بھی پیش کیا جائے گا۔اُنہوں نے مزید کہا کہ میڈیکل اور کیمسٹ دکانوں کو سختی سے ہدایت دی گئی ہے کہ وہ سی سی ٹی وی کیمرے نصب کریں تاکہ غیر مجاز اَدویات یا نشہ آور اشیأ کی فروخت پر نظر رکھی جا سکے۔اُنہوں نے کہا کہ اِس برائی کے خلاف جدوجہد کرنا تمام شراکت داروں کی اِجتماعی ذِمہ داری ہے جن میں اس ایوان کے اراکینِ اسمبلی بھی شامل ہیں۔ اُنہوں نے کہا کہ محکمہ داخلہ کا اس میں بنیادی کردار ہے جب کہ محکمہ سماجی بہبود اور محکمہ تعلیم کا کردار بھی اہم ہے۔وزیر سکینہ اِیتو نے ایوان کو بتایا کہ محکمہ صحت و طبی تعلیم اور ’نشہ مکت بھارت ابھیان‘ کے تحت جموں و کشمیر کی یونین ٹیریٹری میں منشیات کی لت سے نجات کی خدمات کو مضبوط کیا جا رہا ہے۔اُنہوں نے مزید کہا کہ فی الحال محکمہ میں کوئی نیا ’ڈرگ ڈِی ایڈکشن سینٹر‘زیر غور نہیں ہے۔اُنہوں نے مزید بتایا کہ سال 2025 تک صوبہ کشمیر میں 11 ایڈکشن ٹریٹمنٹ فیسلٹیز (اے ٹی ایف) فعال ہیں جن میں سکمز صورہ، جی ایم سی بمنہ سری نگر، جی ایم سی اننت ناگ، جی ایم سی بارہمولہ، جی ایم سی ہندواڑہ، ضلع ہسپتال کولگام، ضلع ہسپتال شوپیاں، ضلع ہسپتال پلوامہ، ضلع ہسپتال بڈگام، ضلع اہسپتال گاندربل اور ضلع ہسپتال بانڈی پورہ شامل ہیں جہاں او پی ڈِی اور آئی پی ڈِی دونوں سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔وزیر موصوفہ نے یہ بھی بتایا کہ ایڈکشن ٹریٹمنٹ فیسلٹیز (اے ٹی ایف) جی ایم سی ڈوڈہ، جی ایم سی جموں، جی ایم سی کٹھوعہ، جی ایم سی اے ایچ راجوری، جی ایم سی اے ایچ اودھمپور، ضلع ہسپتال کشتواڑ، ضلع ہسپتال پونچھ، ضلع ہسپتال رام بن اور ضلع ہسپتال ریاسی میں بھی دستیاب ہیں، جہاں او پی ڈِی اور آئی پی ڈِی دونوں خدمات فراہم کی جاتی ہیں جبکہ ضلع ہسپتال سانبہ صرف او پی ڈِی بنیاد پر کام کر رہا ہے۔اُنہوںنے کہا کہ مختلف پرائیویٹ این جی اوز بھی جامع ٹریٹمنٹ اور بحالی کی خدمات فراہم کر رہی ہیں۔وزیر صحت نے مزید بتایا کہ جموں و کشمیر کے تمام 20اَضلاع میں ڈِی ایڈکشن او پی ڈی خدمات فعال ہیں جس سے مشاورت اور علاج تک رسائی یقینی بنائی گئی ہے۔ اِس کے علاوہ تمام 9سرکاری میڈیکل کالجوں میں آئی پی ڈِی سہولیات دستیاب ہیں جو مرد و خواتین دونوں مریضوں کی ضروریات کو پورا کرتی ہیںجبکہ تمام جی ایم سیز میں ماہر نفسیات کی خدمات بھی فراہم کی جا رہی ہیں تاکہ طبی نگرانی یقینی بنائی جا سکے۔
۔2022سے49,276مریضوں کا ڈرگ ڈی ایڈکشن مراکز میں اندراج:حکومت
عظمیٰ نیوزسروس
جموں//جموں وکشمیر حکومت نے جمعرات کو اسمبلی میں کہا کہ جموں وکشمیر میں نشہ چھڑانے کی خدمات کو مضبوط کیا گیا ہے اور یونین ٹریٹری کے تمام 20اضلاع میں آؤٹ پیشنٹ خدمات فعال ہیں۔انہوں نے کہا کہ جموں وکشمیر کے تمام نو سرکاری میڈیکل کالجوں میں داخل مریضوں کی خدمات دستیاب ہیںاور سال 2022سے اب تک جموں و کشمیر میں منشیات کے استعمال کے49,276کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ ان میں سے16,759مریض کشمیر میں جبکہ32,517جموں میں رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔یہ معلومات رکن اسمبلی دیویانی رانا کے ذریعہ پیش کردہ سوال کے تحریری جواب میں فراہم کی گئیں۔محکمہ صحت اور طبی تعلیم نے جواب میں کہا: ‘نشہ مکت بھارت ابھیان کے تحت نشے کے علاج کی سہولیات کشمیر کے ہر ضلع اور جموں صوبے کے نو اضلاع میں کام کر رہی ہیں، جامع علاج اور بحالی کو یقینی بنانے کے لیے مخصوص آئی پی ڈی بیڈز اور او پی ڈی خدمات فراہم کی جا رہی ہیں’۔جواب کے مطابق کشمیر میں 11نشے کے علاج کی سہولیات (اے ٹی ایفز) کشمیر میں کام کر رہے ہیں جبکہ صوبہ جموں میں 9ایسے مراکز فعال ہیں جموں میں ایک اضافی اے ٹی ایف کو منظوری دی گئی ہے لیکن آپریشنلائزیشن زیر التواءہے۔ محکمہ نے کہا کہ تمام سرکاری میڈیکل کالجوں میں ماہرین نفسیات طبی نگرانی اور ماہرانہ مدد فراہم کرنے کے لیے تعینات ہیں، اور یہ کہ آئی پی ڈی خدمات تمام نو جی ایم سیز میں دستیاب ہیں، جو مرد اور خواتین دونوں مریضوں کی دیکھ بھال کرتی ہیں۔انہوں نے کہا کہ ضلع وار رپورٹنگ سے پتہ چلتا ہے کہ کشمیر میں 2022سے اب تک 32,517مریض علاج کے لیے رجسٹرڈ ہوئے ہیں۔ اس میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کشمیر کے ضلعی اسپتالوں میں علاج کے بنیادی ڈھانچے میں عام طور پر فی اسپتال میں تقریباً چھ آئی پی ڈی بیڈ شامل ہوتے ہیں تاکہ مقامی کیس مینجمنٹ اور جی ایم سیز کو جہاں ضرورت ہو ریفرکیا جاسکے۔اعداد شمار کے مطابق سال 2022سے اب تک میں کشمیر میں 16,759مریض نشے کے علاج کے لیے ریکارڈ کیے گئے ہیں جبکہ صوبہ جموں میں یہ تعداد 15,758ہے۔کشمیر میں سب سے زیادہ سری نگر ضلع میں 6100مریض رجسٹر ہوئے ہیں جبکہ ضلع بانڈی پورہ میں 817، ضلع بڈگام میں 1,166، ضلع کولگام میں 2,075، ضلع پلوامہ میں 1,312، ضلع شوپیاں میں 713،ضلع گاندربل میں 244، ضلع کپوارہ میں 52، ضلع اننت ناگ میں2157، ضلع بارہمولہ میں 1,623مریض رجسٹر ہوئے ہیں۔صوبہ جموں میں جی ایم سی جموں میں 9,806، جی ایم سی ڈوڈہ میں 566، جی ایم سی کٹھوعہ میں 1529، جی ایم سی راجوری میں 1227، جی ایم سی اودھم پور میں 968، کشتواڑ میں 31، پونچھ میں359، رام بن میں 577، سانبہ میں 292اور ریاسی میں 123مریضوں کا اندراج ہوا ہے۔