جاوید اقبال
مینڈھر//جموں و کشمیر بارڈر ایریا ڈیولپمنٹ کانفرنس کے چیئرمین ڈاکٹر شہزاد ملک نے سابق وزیر اعلیٰ اور نیشنل کانفرنس کے صدر فاروق عبداللہ پر جموں کے گریٹر کیلاش علاقے میں ایک شادی کی تقریب کے دوران ہوئے مبینہ قاتلانہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی ہے۔اپنے ایک بیان میں ڈاکٹر شہزاد احمد ملک نے اس واقعہ پر شدید صدمہ اور غم و غصہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایک سینئر اور باوقار سیاسی رہنما پر اس طرح کا بزدلانہ حملہ نہ صرف قابلِ مذمت ہے بلکہ جمہوری نظام پر حملے کے مترادف بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ خوش آئند بات یہ ہے کہ اللہ کے فضل سے ڈاکٹر فاروق عبداللہ اس واقعہ میں محفوظ رہے۔انہوں نے زور دے کر کہا کہ اس واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف سخت سے سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے اور انہیں جلد از جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ ڈاکٹر شہزاد احمد ملک نے مزید کہا کہ اس معاملہ میں اگر سیکورٹی سے متعلق کوئی کوتاہی ہوئی ہے تو اس کی بھی مکمل اور شفاف تحقیقات ہونی چاہئیں تاکہ آئندہ اس طرح کے واقعات کی روک تھام ممکن بنائی جا سکے۔انہوں نے تمام سیاسی جماعتوں، سماجی تنظیموں اور عوام سے اپیل کی کہ وہ اس گھناؤنے فعل کی مشترکہ طور پر مذمت کریں اور جمہوری اقدار کے تحفظ کے لئے متحد ہو جائیں۔ڈاکٹر شہزاد احمد ملک نے اس موقع پر سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ، وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے ان کی سلامتی پر اطمینان کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسے واقعات کو کسی بھی صورت برداشت نہیں کیا جا سکتا۔
فاروق عبداللہ پر انتہائی تشویش ناک عمل :این سی
رمیش کیسر
نوشہرہ//نیشنل کانفرنس کے کارکنوں نے جمعرات کے روز نوشہرہ میں نائب وزیر اعلیٰ سریندر چوہدری کی رہائش گاہ پر ایک پریس کانفرنس منعقد کر کے جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ پر مبینہ حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی اور مرکزی وزیر داخلہ سے مطالبہ کیا کہ اس واقعہ میں ملوث افراد کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پارٹی کارکنوں نے بتایا کہ بدھ کی رات دیر گئے جموں کے گریٹر کیلاش علاقے میں ایک شادی کی تقریب میں شرکت کے لیے آئے سابق وزیر اعلیٰ فاروق عبداللہ پر حملہ کیا گیا جس سے خطے میں سیکورٹی اور امن و امان کی صورتحال پر سنگین سوالات کھڑے ہو گئے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر ایک سابق وزیر اعلیٰ اور سینئر سیاسی رہنما محفوظ نہیں تو عام شہریوں کی حفاظت کا اندازہ آسانی سے لگایا جا سکتا ہے۔اس موقع پر سابق سرپنچ پرمجیت سنگھ، سابق سرپنچ سنیل چودھری، سابق سرپنچ مہندر پال سوڈان اور سابق سرپنچ چرن سنگھ سمیت دیگر مقررین نے کہا کہ یہ واقعہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جموں و کشمیر میں امن و امان کو برقرار رکھنے کے حوالے سے متعلقہ ادارے اپنی ذمہ داری ادا کرنے میں ناکام ثابت ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اس موقع پر نائب وزیر اعلیٰ اور نوشہرہ کے ایم ایل اے سریندر چوہدری کو کوئی نقصان پہنچ جاتا تو اس کی ذمہ داری کون لیتا۔مقررین نے گورنر اور پولیس کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا کہ اس معاملے کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائی جائیں اور ذمہ دار افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے۔ انہوں نے جموں و کشمیر کو مکمل ریاست کا درجہ بحال کرنے اور سکیورٹی نظام کو مزید مضبوط بنانے کا بھی مطالبہ کیا۔اس موقع پر سٹی صدر آر کے گپتا نے بھی خطاب کرتے ہوئے کہا کہ فاروق عبداللہ ایک قومی سطح کی شخصیت ہیں جنہوں نے عالمی سطح پر ہندوستان کی نمائندگی کی ہے، لہٰذا ان پر حملہ نہایت افسوسناک اور قابل مذمت ہے۔ پریس کانفرنس میں نیشنل کانفرنس کے کارکنوں کی بڑی تعداد موجود تھی۔