ایجنسیز
بیجنگ// چین نے جمعرات کے روز اپنے دفاعی بجٹ میں دس فیصد سے کچھ زیادہ اضافہ کرتے ہوئے اسے 275ارب امریکی ڈالر تک پہنچا دیا ہے، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 25ارب ڈالر زیادہ ہے۔ یہ اضافہ مسلح افواج کی جدید کاری کو تیز کرنے اور امریکی فوج کے برابر آنے کی کوششوں کے تحت کیا گیا ہے۔چینی وزیر اعظم لی چیانگ نے قومی عوامی کانگریس (NPC) میں پیش کی گئی اپنی ورک رپورٹ میں اعلان کیا کہ قومی دفاع کے لیے تقریباً 1.9 کھرب یوآن (تقریباً 275 ارب ڈالر) مختص کیے جائیں گے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چین کے دفاعی اخراجات اب بھی اہم نسبتی اشاریوں کے لحاظ سے نسبتاً کم ہیں، جن میں **جی ڈی پی میں حصہ، فی کس دفاعی اخراجات اور فی فوجی اہلکار دفاعی خرچ شامل ہیں۔گزشتہ سال چین نے 2025 کے لیے اپنے قومی دفاعی بجٹ میں 7.2 فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے 249 ارب ڈالرکر دیا تھا، جو 2024 کے مقابلے میں 17 ارب ڈالر زیادہ تھا۔
چین کا دفاعی بجٹ، جو امریکہ کے بعد دنیا میں دوسرا بڑا ہے، گزشتہ کئی برسوں سے مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اس اضافے نے بھارت اور دیگر ہمسایہ ممالک پر بھی دباؤ بڑھا دیا ہے کہ وہ معاشی چیلنجوں کے باوجود اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کریں۔2024 میں چین نے اپنے دفاعی بجٹ میں 7.2فیصد اضافہ کرتے ہوئے اسے تقریباً 232 ارب ڈالر (1.67 کھرب یوآن) تک پہنچا دیا تھا، جو بھارت کے دفاعی بجٹ سے تین گنا سے بھی زیادہ تھا، کیونکہ چین اپنی تمام مسلح افواج کی بڑے پیمانے پر جدید کاری جاری رکھے ہوئے ہے۔چین کے دفاعی بجٹ کے اعداد و شمار پر شکوک و شبہات بھی ظاہر کیے جاتے ہیں، کیونکہ چینی فوج تیزی کے ساتھ فوجی جدید کاری میں مصروف ہے، جس میںایئرکرافٹ کیریئرز کی تعمیر، جدید بحری جہازوں کی تیز رفتار تیاری اور جدید اسٹیلتھ طیاروں کی تیاری شامل ہے۔