اسلام کے ابتدائی زمانےکو یادکیجئےجب نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی دعوت کفارمکہ تک پہونچارہے تھے، چندمٹھی بھرصحابہ ؓ اس دعوت سے اسلام کے دامن میں آئے تھے اوراسی کولےکر ایک حجرۂ مقدسہ میں بیٹھ کر اپنےدعوتی مشن کو آگےبڑھانے کی ترکیبیں اور مشورے کررہے تھے کہ اسی مٹھی بھر کےقائدکو یعنی رحمۃ اللعالمین حضرت محمدصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کونعوذباللہ قتل کرنےکیلئے حضرت عمرفاروق ؓ اپنےگھرسے تشریف لے جارہےہیں لیکن راستے میں نعیم سےملاقات ہوتی ہے اوران کو یہ بتایاکہ پہلےاپنےگھرکی خبرلو چنانچہ وہ حضورﷺ کے پاس جانےسےقبل اپنی بہن حضرت فاطمہ ؓ کےگھرتشریف لےگئے،اوردروازےکی اوٹ سے کان لگاکر اندر کی جانیوالی تلاوت قرآن سننےلگے،سنتے سنتےدروازےکوکھٹکھٹایا،دروازہ کھولاگیا اوراپنی بہن کی جو پٹائی کی، یقیناًوہ سیرت کی کتابوںمیں درج ہیں،لیکن بہن پٹائی کھاکربھی اسلام پرقائم رہی اورحضرت عمرؓسے کہا:عمر جس باپ کاخون تمہارےاندرہے، اُسی باپ کاخون میرےاندربھی ہے،تم مارمارکرتھک سکتےہولیکن میں مارکھاکرجس دین کو اورجس محمد ؐکومیں نے ماناہے،اس سے میں پھرنہیں سکتی۔آخرمیں بہن بھائی کارشتہ جوش مارکر حضرت عمر ؓ کادل نرم پڑااوربہن سے کہنےلگے لائودکھاؤتم کیاپڑھ رہی تھی،لیکن سلام ہو اس جذبہ اورحوصلوں کوکہ کہا :میرےبھائی! اس کوچھونے کیلئے پہلے تم طہارت اختیارکرو۔چنانچہ حضرت عمرؓنے طہارت اختیارکی، اس کےبعد جیسےہی قرآن مقدس کودیکھا اورپڑھاکہ بس دل نےاندرسے ساری کفریہ غلاظت باہرنکال دی اور اسی قرآن واسلام کےشیدائی بن گئے ،جس شیدائی کی بناپر اپنی بہن کو لہولہان کردیا تھا، پھر اس کے بعد اپنے قدم اس حجرےکی طرف بڑھاتےہیں جہاں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور چندصحابہ کرام ؓ دین اسلام کی باتیں کرتے اور آگےکا مشن ترتیب دےرہےتھے۔ کسی نے دیکھاکہ حضرت عمرؓ آرہےہیں ،اسی حجرۂ مقدسہ میں آپ کے جوشیلے اورہمت وحوصلوں سے بھرپورحضرت حمزہ ؓ بھی ہیں، کہتے ہیں اگر عمر نیک ارادےسے آئےہیں توٹھیک ورنہ اسکاانجام اس کے ہاتھ میں ہے ،دروازہ کھٹکھٹاتےہیں دروازہ کھلتاہے ۔بس دیکھتےہی حضورصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قدموں میں گرجاتےہیں، جس دین کی خاطر جس کو قتل کرنےآئےتھے اسی دین کو قبول کرتےہوئے اُن کے دست مبارک پر کلمہ پڑھتےہیں اوراسلام کی چادراوڑھ لیتےہیں۔یہی عمر جب اسلام میں داخل ہوئےتواسلام کوتقویت ملی، کفارکے خیمہ میں کھلبلی مچی ، اوردین اسلام کے ایسے سپاہی بنےکہ خلیفۃ المسلمین مقررہوئے،اورنبی کریم ﷺ نے فرمایا میں آخری نبی ہوں، اگر میرےبعدکوئی نبی ہوتاتووہ عمرؓ ہوتے۔اسی طرح اللہ رب العزت نے قرآن مقدس میں کئی موقع پران کی منشاءکےمطابق آیتیں نازل فرمائی۔اب ہم دیکھتےہیں کہ قرآن مقدس جس وقت نازل ہوا،اس وقت عربوں کو اپنی زبان کی فصاحت وبلاغت پربہت نازتھا، اپنےعلاوہ وہ سب کو زبان کی فصاحت سے ناآشناسمجھتےتھے ،اسلئے قرآن نے سب سےپہلے ان کی فصاحت وبلاغت پر چیلنج دیاکہ اگر تمہارے اندر طاقت وقوت ہے توایک سورہ ،ایک آیت پیش کرکےدکھاؤ۔سب فصحاءوبلغاءعاجزوقاصرہوگئے ،اور اس کے بعدبھی کئی منکرین نے قرآن میں تحریف کرنےاوراس کوبد لنےکی کوششیںکیں ،کبھی اس کو ختم کرنےکیلئے آگ کےحوالےکیا،مگراس وقت سےلےکر آج تک قرآن محفوظ ہے۔کیوں کہ قرآن مقدس کی حفاظت کاذمہ خود اللہ رب العزت نے اپنے ذمہ لیاہےاورجس چیز کاذمہ خود اللہ رب العزت لےلیں اُسے پوری دنیا مل کربھی ختم نہیں کرسکتی۔ایک ایک حرف کی حفاظت ہیں کہیں حفاظ کرام اسے حرف بحرف سینوں میں محفوظ کئے ہوئےہیںتوکہیں علمائےمفسرین کےذریعے اس کی حفاظت ہورہی ہیں،کہیں علمائے نحووصرف کے قواعدکےذریعے اس کی حفاظت ہورہی ہیں۔بےشمارمنکرین اسلام جنہوں نے اپنی علمی اور سائنسی طورپر تحقیق شروع کرکے اس کو مسخ کرنےکی کوششیں کیں، لیکن ان کی بھی ہمتیں جواب دےگئیں، کہیں و ہی منکرین اسلام اپنی تحقیق کرتےکرتے ایسے مراحل پرپہونچے کہ انہیں ان کے دل ودماغ نے اسلام قبول کرنےپرمجبورکردیا اوروہ اسلام کے شیدائی بن کر اسلام کی خدمت کرتےہوئے بے شمار دلائل وتحقیقات دنیا کو پیش کرتے رہے۔اگر تم واقعتاً دل کس سچا تھا،دل کے اندرخلوص تھااورسچےدل سےتم کو قرآن کی ان ۲۶؍آیتوں پر اعتراض تھا تو تم ان علمائے مفسرین، محدثین،مصلحین وماہرین کےپاس جاتے، ان کے پاس اپنے اعتراضات اوراس کےدلائل سنجیدگی سے پیش کرتے،یہ قرآن توایسی کتاب ہےکہ اس کے ایک ایک الفاظ پر ایک ایک آیات پر کئی تحقیق شدہ کتابیں لکھی گئی ہیں،جو اہل علم وادب کی دنیا میں منظرعام پرآئیں،لیکن تمہارےدل میں خلوص نہیں بلکہ تم ناپاک سازشوں کی گودمیں بیٹھ کر ایسےواہیانہ تیرونشترچلارہا تھا، جس کا نہ کوئی سرتھا نہ پیر ،تم نے اس معاملہ کوبغیرکسی ماہرین سے علمی نکات ، اس آیت مبارکہ کے پس منظر پرگفتگوکئے بغیر اس کو کورٹ میں پیش کیا، جہاں سے خارج کردیاگیااورخارج کیساتھ ۵۰؍ہزارروپےجرمانہ بھی عائدکیا گیا۔ اس کےباوجودتم نے کوئی سبق حاصل نہیں کیا یہ تمہارےلئے بارگاہ الہی سے پہلی ٹھوکرتھی ،جس طرح سراقہ بن جعشم نے ہجرت مدینہ کے وقت نبی کریم ؐ کاپیچھاکیااوران کاگھوڑاگرگیا لیکن وہ سمجھ نہیں پائےپھرگھوڑےکی زین کسی اور دوڑپڑےمگر پھر اسے آگاہ کیاگیااورگھوڑاپہلےکی طرح گرگیا لیکن جب دل کےاندر بغض وعنادبھراہو تو ٹھوکر وں سے سبق حاصل نہیں ہوتا پھر سراقہ نے گھوڑےکی زین کسی اور دوڑپڑےمگر گھوڑےکےپیرزمین میں دھنس گئے،تب اُسے سمجھ میں آیا کہ میرانبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کواس لالچ میں پانامشکل ہےپھر نبی کریم ؐ سے معافی مانگی،کاش کورٹ سے تم کوجو پھٹکارلگی، اُسی سے عبرت حاصل کرلیتااور اپنے ذہن کی آلودگی دورکرلیتا اوربارگاہ الٰہی میں کسی بھی وقت گریہ وزاری کرکے معافی کی درخواست پیش کردیتا ،اللہ رب العزت ضرورتم کو معاف کردیتا کیوں کہ اس کے سامنے جوخلوص کیساتھ گڑگڑائے گا،وہ نجات پائے گامگر ایسانہ ہوابلکہ اور متشددانہ راستہ اختیارکرکےبیباک ،بےخوف مجرم بننےکاثبوت پیش کیا۔ مزیدیہ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس پرنازیبا تبصرہ کیا ،پوری دنیا جس کے اخلاق کی گرویدہ ہو ں،جس ذات اقدس کے پاس جانوربھی اپنی شکایت پیش کرتےہوں،جوصرف اپنی قوم کیلئے ہی نہیں بلکہ دیگر اقوام کیلئے بھی رحمت کامجسمہ ہو ں،اس شخصیت پرکیاایسے بیہودہ تبصروں سے دل چھلنی نہیں ہوا ،دل میں ذرہ برابربھی ہچکچاہٹ پیدانہیں ہوئی کہ ہمارامعاملہ کیاہوگا ،لیکن اللہ رب العزت اتنی جلدی سزانہیں دیتا پہلےدیکھتاہے کہ یہ کہاں تک جاتاہےپھر جب اس سے بھی دل نہیںبھراتو ’’محمد‘‘نام سے کتاب لکھ دی ،لیکن دنیا سب جانتی اوردیکھتی ہے ،اوروقت آنےپر اس کے سارے غرورخاک میں ملا دیتی ہیں ۔اگرواقعتاکسی کواعتراض ہوتاہےتواعتراض کی شکل اورانداز بیاں الگ ہوتا ہے،ان کے اندرہٹ دھرمی اور دل کےاندر خباثت نہیں ہوتی۔ ،تم نے جو عیارانہ ومکارانہ چال چلی تھی یقینا وہ پس پردہ کچھ اور تھا جس کانتیجہ ۶؍دسمبر ۲۰۲۱ءکو عملاوفعلامنظر عام پر آگیا اورتم نے اپنانام’’سید وسیم رضوی سےبدل کر جتیندرنارائن سنگھ تیاگی‘‘رکھ لیا اورنام بھی اتنابڑارکھاکہ نیوزوالےکوبتاتےہوئے خودبھول گئے،اس پرجتناافسوس کیاجائےکم ہے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ ہرزمانے میں ایسے لوگ پیداہوتےرہےہیں جنہوں نے نبی کیساتھ گستاخانہ حرکتوں سے اپنی پہچان بنانےکی کوشش کی ہے۔بد نصیب لوگوں نے تو اپنے والدین تک پرستم ڈھائے ،اپنےخیر خواہوں استاذوں اور رہنماؤں کے ساتھ بھی دشمنوں جیسا سلوک کیا، تلاش و جستجو سے ابھی بے شمار مثالیں ہرقوم و مذہب میں مل جائیں گی ،چاہےوہ کوئی بھی زمانہ رہاہو لیکن جس نے بھی نبی رحمتؐ پر اپنے قلم کوغلط استعمال کیاہو ،یااپنی خطابت کے ذریعے زبان کانازیبااستعمال کیاہو ،زمانےاسے قبول نہیں کیا ،چندوقتوں کاکھیل ہے اورچنددنوں کی شہرت ہے۔دنیاکی تاریخ شاہدہےکہ جب بھی قرآن مقدس کیخلاف آوزیں اٹھیں، اسےجلاکرخاک کرنےکی بیہودہ حرکتیں کی گئیں،یاپھر اپنی صلاحیت و قابلیت دکھانے کیلئے اس میں تحریف کرنےکی کوششیں کی گئی توقرآن آج تک ویسی ہی محفوظ ہیں، البتہ اس کوجلانےاورتحریف کرنے والے مٹ گئے ،بےشمارایسے واقعات تاریخ کے صفحات میں درج ہیں ،شاید تم اس سے بھی عبرت حاصل کرلیتے مگر ’’کھسیانی بلی کھمبانوچے‘‘تمہارااندازبیاں، لب ولہجہ ، آوازکی جھنجھناہٹ، پس پردہ پشت پناہی ،یہ سب وہ حرکات وسکنات تھے جس سےتم مجبورتھا۔خیر اب تو تم نے اپنامذہب بھی تبدیل کرلیا اور نام بھی منتخب کرلیا شاید تم کو اب سکون واطمینان مل جائے،اوراگراب بھی نہ ملے تو۔
خدا ہی ملا نہ وصال صنم اِدھرکا رہانہ اُدھرکارہا
رابطہ۔8451837574
Email: [email protected]