شاہنواز
ریاسی// ضلع ریاسی کے سب ڈویژن مہور کے علاقوں گلاب گڑھ اور چسانہ میں پہاڑی ضلع کے قیام کی مانگ دن بہ دن زور پکڑتی جا رہی ہے۔ عوامی سطح پر اس مطالبے نے ایک منظم تحریک کی شکل اختیار کر لی ہے اور ہر طرف اس حوالے سے آوازیں بلند ہو رہی ہیں۔واضح رہے کہ حالیہ اسمبلی سیشن کے دوران پی ڈی پی کے ایم ایل اے پلوامہ وحید الرحمن پرہ نے ایک نجی ممبر بل پیش کیا تھا، جس میں جموں و کشمیر میں نئے اضلاع کے قیام اور خطہ چناب و پیر پنچال کو صوبائی درجہ دینے کی تجویز رکھی گئی تھی، تاہم اس بل کو نیشنل کانفرنس کی حکومت نے منظوری نہیں دی۔
اس پیش رفت کے بعد مہور اور اس کے ملحقہ علاقوں میں پہاڑی ضلع کے قیام کی مانگ نے شدت اختیار کر لی۔ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران اس مطالبے کو عوامی اور سیاسی حلقوں میں بھرپور حمایت حاصل ہوئی ہے، جبکہ مختلف سماجی و سیاسی کارکنان نے اس مسئلے کو اجاگر کرنے کے لیے اپنی آواز بلند کی ہے۔جمعہ کے روز تحصیل چسانہ سے اس تحریک کو عملی شکل دیتے ہوئے ایک دستخطی مہم کا آغاز کیا گیا، جس میں مختلف طبقہ ہائے فکر سے تعلق رکھنے والے افراد، سیاسی و سماجی تنظیموں کے نمائندگان اور مقامی شہریوں نے شرکت کی۔اس موقع پر وقف بورڈ ایڈمنسٹریٹر ضلع ریاسی چوہدری محمد اخلاق، سیاسی و سماجی کارکن شبیر احمد چوپان، سینئر بی جے پی لیڈر سردار پردیپ سنگھ سمیت کئی معزز شخصیات موجود تھیں۔شرکاء نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ گول گلاب گڑھ کو مہور کے مقام پر پہاڑی ضلع کا درجہ دینے کی مانگ کوئی نئی نہیں بلکہ کافی عرصے سے جاری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ علاقہ جغرافیائی محل وقوع اور آبادی کے لحاظ سے ضلع بننے کا مکمل حق رکھتا ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ اب یہ تحریک اس وقت تک جاری رہے گی جب تک اس مطالبے کو عملی جامہ نہیں پہنایا جاتا۔ مقررین نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی کہ کچھ اطلاعات کے مطابق چسانہ کو کوٹرنکہ کے ساتھ ملانے کی سازش کی جا رہی ہے، جسے کسی بھی صورت میں قبول نہیں کیا جائے گا۔مقررین نے جموں و کشمیر حکومت سے اپیل کی کہ وہ عوامی جذبات کا احترام کرتے ہوئے فوری طور پر گول گلاب گڑھ کو مہور کے مقام پر پہاڑی ضلع کا درجہ دینے کا اعلان کرے، کیونکہ یہ علاقہ اس کا حقیقی حقدار ہے۔