عظمیٰ نیوز سروس
سرینگر// اپنی پارٹی کے سربراہ سید محمد الطاف بخاری نے وادی کے مختلف علاقوں میں جاری ’’پکڑ دھکڑ‘‘ پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ جموں و کشمیر میں اب کافی عرصہ سے امن و استحکام قائم ہے، اس لیے اس قسم کی گرفتاریوں کا کوئی جواز نہیں ہے۔انہوں نے نظربندوں کے لیے عام معافی کے اپنے دیرینہ مطالبے کو بھی دہرایا اور کہا کہ انصاف کا تقاضا ہے کہ جو لوگ کئی برسوں سے جیلوں میں بند ہیں، انہیں اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ معمول کی زندگی گزارنے کا موقع فراہم کیا جائے۔سرینگر میں پارٹی ہیڈکوارٹر میں منعقدہ ایک تقریب جس میں ترال سے تعلق رکھنے والے درجنوں سیاسی اور سماجی کارکنوں کو اپنی پارٹی میں شمولیت پر اْنہیں خوش آمدید کہنے کے لیے منعقد کی گئی تھی، بخاری نے نظربندوں کی رہائی کے اپنے مطالبے کو بھرپور انداز میں دہرایا۔
انہوں نے کہا، ’’ میں بار بار انتظامیہ اور حکومت، بشمول وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے یہ اپیل کرتا رہا ہوں کہ قیدیوں کی عام معافی دینے پر سنجیدگی سے غور کیا جانا چاہیے۔اپنی پارٹی کے وژن کا حوالہ دیتے ہوئے بخاری نے کہا، ’’سال 2024 کے اسمبلی انتخابات سے قبل ہم نے وعدہ کیا تھا کہ اگر ہمیں اقتدار ملا تو ہم قیدیوں کے لیے عام معافی کا اعلان کریں گے۔ ہم نے اس مقصد کے لیے 31 اکتوبر 2024 کو کٹ آف تاریخ مقرر کرنے کی تجویز دی تھی۔ ہم ان افراد کو اس شرط پر رہا کرتے کہ وہ اپنے سابقہ راستے کو ترک کرنے اور ملک و قوم کے ساتھ وفادار رہنے کا حلف اٹھائیں۔ تاہم، ہمیں عوامی مینڈیٹ حاصل نہیں ہوا۔انہوں نے کہا، ’’ہم اس ملک کے شہری ہیں۔ 1947 سے ہماری تقدیر اس کے ساتھ وابستہ ہے۔ اس لیے ہمارے مسائل اور مطالبات کا حل اسی ملک سے نکلے گا، نہ کہ اسلام آباد، واشنگٹن، لندن یا کسی اور جگہ سے۔ ہمارے تحفظات اور مطالبات ہو سکتے ہیں، لیکن ان کا ازالہ ہمارا اپنا ملک ہی کر سکتا ہے، کوئی اور نہیں۔‘‘مرکز سے عوام کے ساتھ بات چیت شروع کرنے کی اپیل دہراتے ہوئے سید محمد الطاف بخاری نے کہا، ’’میں ایک بار پھر وزیر اعظم اور وزیر داخلہ سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ عوام، بالخصوص جموں و کشمیر کے نوجوانوں، کے ساتھ مکالمے کے اپنے وعدے کو پورا کریں تاکہ ان کے مسائل، خدشات اور شکایات کا مؤثر انداز میں ازالہ کیا جا سکے۔‘‘پارٹی جوائن کرنے والوں میں نمایاں شخصیات محمد شعبان، مولوی امتیاز، نذیر احمد گوجر، مشتاق احمد بٹ، سہیل احمد، اشتیاق احمد، عبداللہ گوجر، جمہ گوجر اور دیگر شامل تھے۔