جے کے این ایس
سرینگر//ضلع گاندربل میں رواں سال پیش آنے والے انکاؤنٹر میں ہلاک ہونے والے 30 سالہ نوجوان راشد احمد مغل کی لاش قبر سے نکال کر اہلِ خانہ کے حوالے کر دی گئی، جس کے بعد انہیں آبائی گاؤں کے قبرستان میں سپردِ خاک کر دیا گیا۔30سالہ راشد احمد مغل کی باقیات 13 جون 2026کو قبر سے نکالی گئیں اور بعد ازاں اہلِ خانہ کے حوالے کی گئیں۔ اور باقیات کی13 جون کو ضلع گاندربل کے لار علاقے کے گاؤں چونٹ ولیوار میں واقع آبائی قبرستان میں خاموشی کیساتھ دفن کیا گیا۔ تدفین میں صرف قریبی رشتہ داروں نے شرکت کی جبکہ پولیس اہلکار بھی موقع پر موجود تھے۔
پولیس حکام نے تصدیق کی ہے کہ راشد مغل کی لاش اہلِ خانہ کے حوالے کرنے کے بعد ان کے آبائی گاؤں میں دوبارہ تدفین عمل میں لائی گئی۔ یہ معاملہ یکم اپریل 2026کو اس وقت سامنے آیا تھا جب فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ گاندربل کے ارہامہ جنگلات میں ایک مشتبہ ملی ٹینٹ انکاؤنٹر میں ہلاک کیاگیا ہے۔بعد ازاں پولیس کو لاش سے ملنے والے اے ٹی ایم کارڈ کی مدد سے اس کی شناخت راشد احمد مغل کے طور پر ہوئی۔ تاہم اہلِ خانہ نے فوج کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ راشدمغل کاملی ٹنسی سے کوئی تعلق نہیں تھا۔ ان کے مطابق وہ تعلیم یافتہ نوجوان تھے اور مقامی لوگوں کو ڈومیسائل سرٹیفکیٹ، جاب کارڈ، پنشن اور بینک قرضوں سے متعلق کاغذی کارروائی میں مدد فراہم کرکے روزگار کماتے تھے۔واقعہ کے بعد وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ اور پی ڈی پی صدر محبوبہ مفتی سمیت کئی سیاسی رہنماؤں نے غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔