اشفاق سعید
سرینگر// وادی چناب میں گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران موسم سے متعلق تباہی کا ایک غیر معمولی دور دیکھنے میں آیا ہے، جس میں ڈوڈہ اور کشتواڑ اضلاع میں تین الگ الگ مقامات پر بادل پھٹے، جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر املاک کی تباہی ہوئی۔مون سون کے دوران انتہائی موسمی واقعات کے دوران پہاڑی علاقوں میں ہمیشہ بادل پھٹنے کے خطرات رہتے ہیں۔اس سے قبل ایک روز قبل ہی کشتواڑ کے کوار پاور پروجیکٹ کے ٹنل ایریا میں بادل پھٹنے سے تباہی ہوئی اور پاور پروجیکٹ کی گاڑیاں ملبے کے نیچے دب گئیں۔جبکہ اسی روز ریاسی میں بھی بادل پھٹے لیکن سیلابی ریلوں کی وجہ سے کوئی نقصان نہیں ہوا۔کشتواڑ اور ڈوڈہ کے علاقے خاص کر بادل پھٹنے کیلئے مشہور رہے ہیں اور اس سے قبل بھی یہاں بادل پھٹنے سے بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے۔
ٹھاٹھری میں بادل پھٹنے سے ہوئی تباہی کا واقعہ تقریباً ایک سال بعد جولائی 2025 میںپیش آیا جس کشتواڑ کے چسوتی علاقے میںبادل پھٹنے کا واقعہ پیش آیا، جو خطے کی حالیہ تاریخ کی بدترین قدرتی آفات میں سے ایک ہے، اور اس نے ایک بار پھر ہمالیہ کے نازک خطوں میں شدید بارش کے دوران بادل پھٹنے کے واقعات کی بڑھتی ہوئی تعداد پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔پچھلے ہفتے ہی کوکر ناگ میں بادل پھٹے اور سیلابی ریلے کوکر ناگ علاقے میں نیچے تک آئے تاہم کونقصان نہیں ہوا۔ ورنو لولاب،کلاروس کپوارہ،بانڈی پورہ، ترال،گریز میں دو بار بادل پھٹنے کے واقعات پیش آئے جن کی بدولت بانڈی پورہ میں سیلابی پانی گھروں میں داخل ہوا جبکہ ترال میں بھی اسی طرح کی صورتحال پیش آئی۔گریز میں کچھ رہائشی ڈھانچوں کو نقصان پہنچا اورکلاروس کپوارہ میں کھڑی فصلیں تباہ ہوئیں۔16جون کو کپوارہ کے کیگام علاقے میں سیلابی پانی کے تباہی مچادی اور کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا۔17جون کو تلیل گریز میں بادل پھٹنے سے شہری املاک اور کھڑی فصلوں کو نقصان پہنچا۔جموں و کشمیر کی تاریخ تباہ کن سیلاب اور بادلوں کے پھٹنے سے نمایاں رہی ہے۔ پہاڑی خطہ اور نازک ہمالیائی ماحولیات اس خطے کو شدید بارشوں کے دوران پانی کے تیزی سے اضافے کے لیے انتہائی حساس بناتی ہے۔ 2014 کاکشمیر کا سیلاب ستمبر میں مون سون کی بارشوں کے لمبے دورانیہ سے شروع ہوا، یہ اب تک کا سب سے زیادہ تباہ کن سیلاب تھا۔اسکی وجہ بھی متعدد بار بادل پھٹنے سے ہے۔ نالہ ویشو اور رمبی آرہ کے اپری علاقوں میں ایک درجن بار بادل پھٹے جس سے سری نگر سمیت پوری وادی کشمیر شدید ڈوب گئی۔ 2022 میں شدید بادل پھٹنے سے امرناتھ کے مقدس غار کے قریب بادل پھٹے سیلاب اور مٹی کے تودے گرنے کے نتیجے میں لنگر اور خیمے بہہ گئے، جس سے متعددیاتریوں کی المناک موت ہوئی اور ہزاروں پھنس گئے۔ 2010 لداخ کا سیلاب لداخ کے صحرا میں اچانک بادل پھٹنے سے آیا۔ مٹی کے تودے اور طوفانی سیلاب نے لیہہ جیسے قصبوں کو شدید نقصان پہنچایا۔2021 میںکشتواڑ کلاڈ برسٹ ایک تباہ کن بادل پھٹنے سے کشتواڑ ضلع کے دور دراز گائوں ہونزڈ میں تباہی ہوئی۔ پانی اور ملبے کے اچانک بہنے سے متعدد مکانات بہہ گئے، جس کے نتیجے میں متعدد ہلاکتیں ہوئیں۔