اسے قوم اور ملک کی ستم ظریفی کہیں یا کچھ اور! آج ملک میں احتجاج کر نے والے کسانوں پر جہاں پو لیس لاٹھیاں بر سا رہی ہے وہیں سیاست دانوں کی گاڑیاں بھی انہیں کچل رہی ہیں۔3؍ اکتوبر کو جب کسان لکھیم پور کھیری میں ایک کالج کے میدان میں احتجاج کے جمع ہوئے تھے، عین اسی وقت مرکزی مملکتی وزیر کے بیٹے نے مبینہ طور پر احتجاجی کسانوں پر اپنی گاڑی چلادی، جس کے نتیجہ میں آٹھ افراد ہلاک ہو گئے۔ بے رحمی سے کسانوں کو کچل ڈالنے کے اس دل خراش واقعہ نے یہ ثابت کر دیا کہ حکومت کسی مسئلہ کو بات چیت کے ذریعہ حل کرنے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتی ہےاور خوف اور دہشت کا ماحول پیدا کرکے کسانوں کے ایک سال سے جاری احتجاج کو ختم کر دینا چاہتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اس واقعہ سے پہلے مملکتی مرکزی وزیر اجئے شرما نے کسانوں کو یہ دھمکی دی تھی کہ "سدھر جاؤ ورنہ ہم تم کو سدھاردیں گے"۔ مملکتی وزیر کے اُنہی متکبرانہ جملوں نے ہی اُن کے بیٹے کے حوصلوں کو اس حد تک بڑھا دیا کہ اس نے بے دردی کے ساتھ احتجاجی کسانوں کی جان ہی لے لی۔ مرکزی وزیر کے بیٹے اشیش مشرا کے ساتھ قانون کیا رویہ اختیار کر تا ہے اور 8افراد کے ہلاکت کی پاداش میں اسے کیا سزا دی جاتی ہے یہ الگ سوال ہے۔ لیکن اس سے بڑا حساّس سوال یہ ہے کہ کیا جمہوریت میں اپنے حقوق کی بازیابی کے لئے پرامن احتجاج کی گنجائش اب ملک میں ختم ہوتی جا رہی ہے۔ انسانوں کو کچل ڈالنا کیا کسی مہذب معاشرے کی علامت ہو سکتی ہے؟ آ خر ملک میں شر پسند عناصر کی پشت پناہی کب تک ہو تی رہے گی۔ آ خر کسان کیوںدہلی کی کڑاکے کی سردی، کوویڈ۔19 کی قہر سامانی،پو لیس کی لاٹھی چارج اور آ نسو گیس کے گولوں کو برداشت کر تے ہوئے گزشتہ ایک سال سے اپنا گھر بار چھوڑ کر سڑکوں پر احتجاج کر رہے ہیں؟ کوئی عقلمند انسان سوچ سکتا ہے کہ بغیر کسی وجہ کے کسان یہ سب تکالیف سہہ رہے ہیں۔ افسوس اور المیہ کی بات ہے کہ حکومت ان کے جائز اور واجبی مطالبات کو حل کرنے میں کسی قسم کی سنجیدگی کا مظاہرہ نہیں کر رہی ہے۔ کبھی یہ کہا گیا کہ اس احتجاج میں کسان شامل ہی نہیں ہیں اور کبھی یہ مضحکہ بات کہی گئی کہ کسانوں کے روپ میںدہشت گرد آ گئے ہیں۔ کبھی اسے ملک کی اپوزیشن پارٹیوں کی کارستانی قرار دیتے ہوئے اس احتجاج سے پیچھا چھڑانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن حکومت کے یہ سارے الزامات کسانوں کے جذ بہ کو سرد نہ کر سکے اور ان کا پہلے دن سے مطالبہ ہے کہ حکومت نے جن تین کسان مخالف قوانین کو منظور کیا ہے، وہ اس سے دستبردار ہو جائے۔ لیکن حکومت نے اپنی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کر تے ہوئے ان قوانین کو آج کی تاریخ تک جوں کا توں رکھا ہے۔ ہونا تو یہ چاہئے تھاکہ زرعی قوانین کی منظوری سے پہلے حکومت کسانوں سے مشاورت کر تی ، ان کے شبہات کو دور کیا جاتا اور ان قوانین میں جو کمزوریاں اور کوتا ہیاں ہیں انہیں دور کرکے پارلیمنٹ میں بحث و مباحث کے بعد ان کو منظوری دی جاتی۔ حکومت نے قانون سازی کے میںمعاملے جلدبازی سے کام لیتے ہوئے زراعت کے شعبہ میں ایسے قوانین لادئے، جن سے کسانوں کا ہی نہیں ملک کا مستقبل داؤ پر لگ گیا ہے۔ ملک کا کسان جب حالات کا شکار ہوجا تاہے تو ملک کی معیشت بھی دَم توڑدیتی ہے۔ کسان کو پریشان کرکے ملک کی عوام کو راحت دینے کی باتیں کرنا محض ایک دھوکہ ہے۔ کسان ہماری معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہے ،اگر اسے ہی کچل کر موت کی آ غوش میں سُلا دیا جائے تو یہ کھلی غنڈہ گردی نہیں تو اور کیا ہے؟
گزشتہ اتوار کو ہوئے اس بدبختانہ سانحہ نے انسانیت کو شرمسار کر دیا ہے۔ لیکن حکومت کے کارندوں کی آنکھ ابھی بھی نہیں کھلی ہے۔ خاطی کو گرفتار کر نے اور اسے قرارِواقعی سزا دینے کے بجائے جو سیاسی پارٹیاں اس گھناؤنے جرم کے خلاف احتجاج کر رہی ہیں، ان کے قائدین کو پولیس اپنی حراست میں لے رہی ہے۔ ان پر مختلف قسم کے الزامات لگا گر انہیں گرفتار کیا جا رہا ہے۔ کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی کی گرفتاری کا کیا جوازتھا ؟ انہیںغیر قانونی طور پر پولیس نے نہ صرف حراست میں لیا بلکہ ان کے ساتھ مبینہ طور پر بد سلوکی بھی کی گئی۔ ملک کی اہم اپوزیشن پارٹی کی رہنماء کے ساتھ جو بد تمیزی کی گئی، اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ عام شہریوں کے ساتھ کس قسم کا بدترین رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ اپوزیشن جماعتوں کا کہناہے کہ موجودہ حکومت اپوزیشن پارٹیوں کی آواز کو بھی دبادینا چاہتی ہے۔ متاثرین سے ملاقات کرنا اور مرنے والوں کے لواحقین کو پُرسہ دینے سے نقصِ امن کا کیا خطرہ پیدا ہو تا ہے ، اس کا کوئی جواب حکومت کے پاس نہیں ہے۔ اشیش مشرا کو فی الفور گرفتار کرنے میں حکومت اپنی کارکردگی کا مظاہرہ کرتی تو ملک کی عوام بھی اس پر وزیر اعظم نریندرمودی کی ستائش کر تی اور انہیں عوام کا حقیقی بہی خواہ سمجھتی۔ لیکن تا دم تحریر اس کے باکل بر عکس ہورہا ہے۔ پرینکا اور ان کے ساتھیوں کو تو گرفتار کرنے میں یوپی کی پولیس نے اپنی بہادری کا ثبوت دیا اور مبینہ طورجس شخص پر 8لوگوں کو ہلاک کرنے کا الزام ہے، اس کی گرفتاری میںتاخیرکی جارہی ہےاور کب اُسے عدالت کے سامنے پیش کیا جائےگا کچھ کہا نہیں جاسکتا۔ اس سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ ملک میں اب قانون کے یکسان پیمانے نہیں رہے ہیں۔ بر سرِ اقتدار پارٹیوں کےبعض عناصر اپنی مجرمانہ حرکتوں کے باوجود قانون کی گرفت سے محفوظ رہتے ہیں اور اگر دوسرے پرامن احتجاج بھی کریں تو ان پر قانون کا شکنجہ سخت ہوجا تا ہے۔ 2014کے الیکشن میں کا میابی کے بعد جب بی جے پی کے حکومتی دورمیں یہ دیکھا جا رہا ہے کہ ملک میں ایسے عناصر کی پشت پناہی کی جارہی ہے جو سماج کو باٹنے کا کام کرتے ہیں۔چناچہ ہجومی تشدد کے نام پر قتل و خون کا ایک بازار گرم ہوا۔ نہتے اور معصوم مسلم نوجوانوں کو بیدردی سے قتل کیاگیا اور اب بھی یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اب ایسی خبریں شاہ سرخیوں میں نہیں آ رہی ہیںاور نہ ہی قومی میڈیا میں اس کو کوئی اہمیت ہےاور جن شرپسندوں نے یہ کارستانیاں کی ہیں وہ آج بھی آزاد گھوم رہے ہیں۔ بعض مقامات پر ان عناصر کو تہنیت بھی پیش کی گئی جبکہ ایسے انسانیت کےدشمنوں کو سیاسی عہدوں سے بھی نوازا گیاہے۔ اب بھی صورتِ حال میں کوئی بدلاؤ نہیں آیا ہے۔ یہ عین ممکن ہے کہ اشیش مشرا، اپنے باپ اجئے مشرا کا سیاسی جانشین بن جائے۔ اس"کارنامہ" کی بنیاد پر اُسے اسمبلی یا پارلیمنٹ کا رکن بنا دیاجائے کہ اس نے کسانوں کے احتجاج کو ختم کر نے کے لئےایک نیا طریقۂ کارپیش کیا ہے،جبکہ اب ملک میں سیاست دان ایسے ہی لوگوں کو اپنے سَروں پر بیٹھانے کے عادی ہو تے جا رہے ہیں۔ گزشتہ ایک سال کے دوران کسانوں کےاحتجاج کوختم کرنے کے لئے کئی حربے استعمال کئے جاچکے ہیں۔ اسی سال 26؍ جنوری کے یادگار دن ان احتجاجی کسانوں نے "ٹریکٹر پریڈ"کا اعلان کیا تھا۔ یہ پریڈ پر امن انداز میںمنظم کرنے کا احتجاجی قائدین نے اعلان بھی کیا تھا۔ اس تاریخی ٹریکٹر ریلی کو بھی سبوتاج کر نے کی پلاننگ کرلی گئی اور احتجاجی کسانوں کے ساتھ اس ریلی کو پُرتشدد بنانے کے حربے استعمال کئے گئے۔اس کے نتیجہ میں افراتفری کا ماحول پیدا ہوگیا اور یہ پریڈ ایک دنگل میں تبدیل ہو گئی۔ حکومت کے حمایتیوں نے منظم منصوبہ کےتحت کسانوں کی ریلی کو ایک دوسرا رخ دے دیا۔ اس کی وجہ سے کئی کسانوں کی موت ہو گئی۔ اس وقت بھی الزام کسانوں پر تھوپنے کی کوشش کی گئی لیکن سوشیل میڈیا کی تصویروں نے اصل حقیقت سامنے لائی اور حکومت کو پشیمانی اٹھانی پڑی۔
کانگریس قائد راہل گاندھی نے اِس واقعہ پر تبصرہ کر تے ہوئے کہا ہے کہ ایک وزیر کا بیٹا احتجاجیوں کو اپنی گاڑی سے کچلتا ہے تو یقینی طور پر ملک کا آ ئین خطرہ میں ہے۔ انہوں نے اپنی بہن پرینکا گاندھی کی غیر قانونی حراست پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کسی خاتون لیڈر کو پولیس جب بغیر ایف آئی آر کے اپنی حراست میں کئی گھنٹے رکھتی ہے تو ملک کا دستور خطرے میں پڑ جاتا ہے۔ اگر کسی کو بھی متاثرین کے اہل خانہ سے ملنے کی اجازت نہیں دی جا رہی تو پھر قانون کی حکمرانی کا تصور بے معنٰی ہو جاتا ہے۔ یہ صرف راہل گاندھی کے شخصی خیالات نہیں ہیں بلکہ ملک کے ہر حساّس شہری کا احساس ہے کہ ملک میں جمہوریت کی آڑ میں ڈکٹیٹرشپ کی جڑیں مضبوط کی جا رہی ہیں۔ سماج کے کسی طبقہ کی شکایات کو سننے اور ان کا ازالہ کرنے کی اخلاقی اور قانونی ذ مہ داری سے موجودہ حکومت فرار کا راستہ اختیار کرتی ہوئی دکھائی دے رہی ہے۔ غیر مطلعنہ طور پر ملک میں ایمرجنسی کی صورتِ حال پیدا کر دی گئی ہے۔ آزاد اور دیانتدار صحافیوں ، انسانی حقوق کا تحفظ کرنے والے جہد کاروں اور حکومت کی غلط پالیسیوں پر تنقیدکرنے پر انگریزوں کی جانب سے بنائے ہو ئے غداری کے قوانین لاگو کئے جا رہے ہیں۔ یہ ظالمانہ قوانین جو انگریزوں نے ملک کے مجاہدین ِ آزادی کے خلاف استعمال کئے تھے اب وہ قوانین موجودہ حکومت اپنے ہی شہریوں کے خلاف استعمال کر تے ہوئے انہیں پابندِ سلا سل کر رہی ہے۔ اسی قانون کے سہارےآج کتنے ہی نوجوان جیلوں میں ٹھونس دئے گئے ہیں۔ حکومت کے ناعاقبت اندیش اقدامات کی مخالفت کرنا اب ملک اور قوم سے غداری کے معنی میں لیا جا رہا ہے۔ جمہوریت کی خوبصورتی تو اختلافِ رائے میں ہے لیکن جو حکومت پر فائز ہیں ،ان کے اندر اختلاف کو برداشت کر نے اور اپنی اصلاح کر نے کا جذ بہ ہی ختم ہو گیا ہے۔ ملک کے مفاد میں ہر اچھی رائے دینے والا اب حکو مت کی نظروں میں کھٹکنے لگا ہے۔ جمہوری اداروں کی شفافیت کو مشکوک کر دیا گیا ہے۔ ملک کا کوئی دستوری اور قانونی ادارہ آزادانہ طور پر اپنے فرائضِ منصبی کو ادا کر نے سے قا صر ہے۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس این، وی، رمنا ،جب سے اس اعلیٰ ترین عہدے پر فائز ہوئے ہیں ،انہوں نے ملک کے موجودہ منظر نامہ پر اپنی گہری بے چینی اور اضطراب کا کھلے عام اظہار کیا ہے۔ انگریزوں کے بنائے ہوئے فرسودہ قوانین سے لے کر ملک کے موجودہ عدالتی نظام پر انہوں نے اپنی سخت تشویش کا بارہا تذکرہ کیا ہے۔ ججوں کے تقررات سے لے کر عام آدمی کو عدالتی کشاکش کے دوران جن مسائل سے دوچار ہونا پڑتا ہے ،اس پر بھی جسٹس این، وی، رمنا نے اپنی ناراضگی جتائی ہے۔ ان سب تنقیدوں اور تبصروں کے باوجود حکومتی سطح پر سسٹم کو درست کرنے کی کوئی پہل کہیں پر بھی ہوتی نظر نہیں آ رہی ہے۔ اسی لئے مسائل کا ایک انبار منہ پھاڑے ہوئے ہے۔ حکومت ملک کے چند سرمایہ داروں کے ہاتھوں گِروی ہو چکی ہے۔ اسی وجہ سے کسانوں کے واجبی مطالبات کو حل کرنے کے بجائے انہیں گاڑیوں سے کچل دیا جا رہا ہے۔ کسان اپنے وجود کی لڑائی لڑ رہا ہے۔ حکومت کسانوں کو بند ھوا مزدور بنانے پر تُلی ہوئی ہے۔ ان کو اپنی ہی زمین پر اپنی پسند کی کاشت کرنے کے حق سے محروم کیا جارہا ہے۔ ان کو اپنی پیداواری اشیاء اپنی مرضی سے بیچنے سے روکنے کے اقدامات کئے جا رہے ہیں۔ ان تینوں قوانین کا مقصد کسانوں کی زمین اور ان کی پیداوار سرمایہ داروں کے حوالے کرنا ہے۔صنعتی ترقی کے نام پر کسانوں کی زمین کو ہڑپ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔ اسی لئے کسان گزشتہ ایک سال سےاحتجاج کر رہے ہیں۔ حکومت اس احتجاج کو طاقت کے بَل پر ختم کرنا چاہتی ہے لیکن ایسا ممکن نہیں ہوپارہا ہے۔ حکومت کے ہتھکنڈے اب ناکام ثابت ہورہے ہیں۔اب بھی وقت ہے کہ حکومت ہوش کے ناخن لے اور سنجیدگی کا مظاہرہ کرکے کسانوں کے مطالبات پر غو روخوض کریں۔ورنہ جبر اور نا انصافی کے خلاف کسانوں کا لاوا کبھی بھی پھٹ سکتا ہےجو پورے ملک کے لئے نقصان دہ ثابت ہوگا۔
������