پونچھ //حال ہی میں 83 برس کی عمر میں انتقال کر نے والے مشہور شاعر محمود الحسن محمود کی یاد میں پاور ہوس پونچھ کے ایک نجی اسکول میں یادگاری تقریب اور مشاعرے کا اہتمام کیا گیا۔ یہ مشاعرہ اردو ادب و ثقافت کے لیے سرگرداں تنظیم اویک انڈیا کے زیراہتمام منعقد ہوا جس کے آغاز میں سید نازک حسین شاہ نے ایک مرتب مکالمہ پڑ ھ کر مرحوم کی زندگی اور کام پر روشنی ڈالی۔اس تقریب کی صدارت سابق ڈپٹی چیئرمین قانون ساز کونسل جہانگیر میر نے کی جبکہ اس موقع پر سابق ماہر تعلیم کے کے کپور بھی موجود تھے جنہوں نے محمود الحسن محمود کو بحیثیت شاعر حق گوئی خراج تحسین پیش کیا۔انہوں نے مرحوم کی زندگی کے مختلف پہلوؤں پر تفصیلی روشنی ڈالتے ہوئے بتایا کہ سچائی ان کے لیے مقصد حیات کی سی حیثیت رکھتی تھی اور یہ کہ کس طرح سچائی کی جنگ میں اس لکھاری نے کئی کٹھن وقت دیکھے مگر اپنے نصب العین سے پیچھے نہیں ہٹے۔انہوں نے کہا کہ مرحوم ایک عبادت گزار شخصیت کے مالک تھے مگر مذاہب و رنگ و نسل سے بالاتر ہو کر اپنے قلم سے معاشرے کی عکاسی کرتے رہے۔اس دوران مرحوم کی کی شاعری پر مشتمل ایک کتاب اَوجِ خیال کتاب کی رسم رونمائی بھی انجام دی گئی جس کے بعد محفل مشاعرہ منعقد ہوئی جس کی نظامت پروفیسر امجد علی بابر نے کی. مشاعرہ کی صدارت خورشید کرمانی نے کی، جن شعراء نے کلام پیش کیا ان میں سجاد پونچھی، پرویز ملک، محتشم احتشام ،مولانا حافظ ریاض، ہارون راٹھور، مذاکرات خان، مجاہد مغل، ایاض سیف امجد علی بابر، علمدار عدم، صدیق احمد صدیقی، مجاہد مغل نازک حسین شاہ اور دیگر شعراء شامل ہیں۔ مشاعرے میں شعراء نے اپنے اشعار کے ذریعے محمودالحسن کو یاد کیا۔ مشاعرے میں گوجری اور پہاڑی اور اردو زبان کے شعرائے کرام نے کلام پیش کیا۔اختتام پرایک انڈیا کے چیرمین ایاز مغل نے تمام مہمانوں کا اور شعرائے کرام کا شکریہ ادا کیا۔