پونچھ//ضلع پونچھ میں کورونا وائرس کے معاملات پر قابو پانے کیلئے انتظامیہ کی طرف سے لگائے گئے کورونا کرفیو سے تیسرے روزبھی عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی جسکے سبب لوگ گھروں میں ہی محدود ہوکر رہ گئے۔ پونچھ میں لگے ایک ہفتہ تک کورونا کرفیو کا اثرپیر کو بھی دیکھنے کو ملا،اس دوران دوکانیں ، تجاراتی مراکز ،ٹرانسپورٹ مکمل بند رہااور لوگ گھروں میں ہی محدود ہوکررہ گئے جبکہ صرف ضروری خدمات کیلئے ہی لوگ باہرنکلے۔ جہاں صبح سات بجے سے گیاراں بجے تک سبزی، دودھ و گوشت کی دوکانوں کو کھولنے کی اجازت تھی تاہم بازاروں میں بڑی کم تعداد میں دوکانیں کھلی جبکہ لوگوں کی آواجاہی بھی بہت کم دیکھی گئی۔ ادویات کی دوکانیں دن بھر کھلی رہیں جبکہ ضروری کاموں کیلئے ہی لوگوں نے رخ کیا۔ وہی جگہ جگہ پولیس کو تعینات کیا گیاتھا جو ہر آنے و جانے والی گاڑیوں کی پوچھ تاچھ کے بعد ہی انھیں جانے کی اجازت دے رہے تھے۔ضلع پونچھ کے صدر مقام کے علاوہ تحصیل حویلی کے دیگر علاقاجات جن میں بانڈی چچیاں ، اسلام آباد، شاہپور، چنڈک، ،کھنیتر، کنویاں، جھلاس، منگناڑ، گلپور دیگوار تیڑواں، دیگوار ملدیالاں،اجوٹ،کلائی اور ان علاقوں کے ملحقہ دیگر علاقوں، تحصیل مینڈھر، تحصیل سرنکوٹ، تحصیل منڈی میں بھی ہر طرف کورونا کرفیو کا نفاد عمل میں لایا گیاتھا ان علاقوں کے بازار اور سڑکیں بھی سنسان نظر آئیں جس کی وجہ سے عام زندگی مفلوج ہو کر رہ گئی،اس دوران تمام تر تجارتی مراکز بند رہے جبکہ ضروری کاموں کیلئے ہی لوگوں کو اجازت دی گئی۔بار ایسوسیشن پونچھ کے جنرل سکریٹری ایڈوکیٹ بانو پرتاب نے کشمیر عظمیٰ سے بات کرتے ہوئے انتظامیہ کے اقدامات کی سراہنا کرتے ہوئے کہا کہ کوڈ 19کے معمالات میں مزید اضافہ نہ ہو اس کے لئے ضروری تھا کہ لاک ڈون لگے۔انہوں نے ان لوگوں سے اپیل کی جو بلا وجہ آج بھی بازاروں کی جانب دوڑتے نظرآتے ہیں کہ وہ اپنی اور دوسری کی زندگی خطرے میں نہ ڈالیں اور اپنے گھروں میں احتیاطی تدابیر پر عمل کرتے ہوئے آرام کریں تاکہ کرونا وائرس کی چین کو توڑانے میں انتظامیہ کو کامیابی حاصل ہو۔