جموں //قانون ساز کونسل میںاپوزیشن ممبران نے کل اُس وقت دن بھر کی کاروائی سے بائیکاٹ کیا جب این سی رکن سجاد احمد کچلو کو چیئرمین نے ایوان سے مارشل آئوٹ کیا ۔سجاد کچلو نے سوموار کو کشتواڑمیںزیر تعمیر ومجوزہ پن بجلی پروجیکٹوں کی تکمیل وتعمیر میں غیر ضروری تاخیر کے خلاف احتجاج اور ہنگامہ کیا اور حکومت پر الزام عائد کیا کہ حکومت پروجیکٹ کی تعمیر وتکمیل میں غیر ضروری تاخیر سے کام لے رہی ہے۔ ایم ایل سی سجاد احمد کچلو نے چیئرمین سے کہاکہ جب سے موجودہ سرکار نے اقتدار سنبھالا ہے کہ کشتواڑ میں پن بجلی پروجیکٹوں پر کوئی کام نہیں ہو رہا ہے جبکہ جن پر پہلے سے کام جاری تھا وہ بھی بند کردیا۔انہوں نے کہاکہ پروجیکٹ تعمیر کرنے کے لئے قواعد وضوابط کوئی پاس لحاظ نہیں رکھاجارہاہے اور جیسے مرضی ہے ویسے ہی کام ہو رہا ہے ۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو کوئی معاوضہ بھی نہیں مل رہا۔انہوں نے کہاکہ ماہرین نے وارننگ دی ہے کہ کشتواڑ میں بہت بڑا زلزلہ آسکتا ہے لیکن حکومت اس طرف کوئی توجہ نہیں دے رہی۔ انہوں نے کہاکہ صرف پروجیکٹوں کی تعمیر میں من مانی ہی نہیں ہورہی بلکہ پروجیکٹ میں ملازمین لگائے گئے ہیں وہ بھی بیرون ریاست سے لائے گئے ہیں ۔ انہوں نے وزیر موصوف سے پوچھا کہ پروجیکٹوں کی تعمیر کب تک ہوگی اور جو بند پڑے ہیں، اس کی وجوہات کیا ہیں، جس کا اگر چہ آسیہ نقاش نے جواب دیا لیکن موصوف اس سے مطمئن نہ ہوئے۔اس پر کچلو نے چیئرمین سے مطالبہ کیاکہ اس معاملہ پر ہاؤس کمیٹی بنائی جائے جووہاں جاکر از خود حالات کا معائنہ کرے۔ اپوزیشن کے باقی ممبران نریش کمار گپتا اور شام لال بھگت نے بھی ان کا ساتھ دیا۔ چیئرمین نے ان سے کہاکہ آپ کو جواب مل گیاہے ۔مزید اگر کوئی بات ہے تو وہ ذاتی طور وزیر کی نوٹس میں لاؤ ، حل ہوجائے گی لیکن سجاد کچلو ہاؤس کمیٹی کے مطالبہ پر بضد رہے۔انہوں نے چاہِ ایوان (ویل)میں جاکر احتجاج کرنا شروع کر دیا۔ بارہا ہدایات پر بھی وہ جب نہ خاموش بیٹھے تو چیئرمین نے انہیں مارشل آؤٹ (ایوان بدر)کرنے کا حکم دیا، جس پر سبھی اپوزیشن ممبران نے سخت اعتراض ظاہر کیا، مارشلوں نے کچلوکو باہر نکال دیا، بطور احتجاج سبھی اپوزیشن ممبران ’مارشل سرکار ہائے ہائے‘کے نعرے لگاتے ایوان سے واک آؤٹ کر گئے اور پھر دن بھر کی کارروائی سے بائیکاٹ کیا۔