جموں//کشمیری پنڈتوں کی تنظیم پنن کشمیر کی طرف سے آج یوم سیاہ منایا گیا ۔ نمائش گاہ میں ایک نمائش کا اہتمام بھی کیا گیا تھا جس میں ملی ٹینسی کے دوران مارے گئے پنڈتوں کی تصاویر دکھائی گئیں۔ اس کے بعد منعقدہ پریس کانفرنس سے اشونی کمار چرنگو صدر، ویریندر رینہ چیئر مین اور دیگر لیڈران نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 13جولائی 1931کا واقعہ کشمیری ہندوئوں اور جموں کشمیر کے مہاراجہ کے خلاف ایک بڑی سازش تھی جسے مسلم کانفرنس نے برطانوی حکمرانوں کی ایما ء پر رچا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہندوئوں کے قتل عام، لوٹ مار اور آتشزدگی کا دور گرم کیا گیا ، وچار ناگ، مہاراج گنج ، ہری سنگھ ہائی سٹریٹ، بوہری کدل، کانی کوٹ اور بڈگام جیسے علاقوں میں درجنوں ہندوئوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا تھا۔انہوں نے اس دن کو ’یوم شہداء‘ کے طور پر منائے جانے کی مخالفت کرتے ہوئے اسے انسانی اقدار کے اصولوں کے منافی قرار دیا اور کہا کہ پنو ن کشمیر اس دن کو یوم سیاہ کے طور پر مناتی آئی ہے ۔ انہوں نے جموں بار ایسو سی ایشن کی طرف سے اس روز کی عام تعطیل کو منسوخ کرنے کی مانگ کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نے سرینگر میں ایک اعلیٰ سطحی میٹنگ کا اہتمام کر کے پنن کشمیر کی توثیق کی ہے ۔ انہوں نے کشمیری پنڈتوں کیلئے ہوم لینڈ کے مطالبتہ کو دہراتے ہوئے کہا کہ کشمیر کے بارے میں پنڈت فرقہ کو بھی اعتماد میں لیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری پنڈتوں کی گھر واپسی اور مستقل آباد کاری کے لئے ایک منصوبہ بند ڈھنگ سے اقدامات اٹھائے جائیں۔ انہوں نے جموں میں روہنگیائی مہاجرین اور دیگر بستیوں کی آبادکاری پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ یہ جموں کے آبادیاتی تناسب کو تبدیل کرنے کی ایک سازش ہے جس پر روک لگائی جائے۔