مشتاق الاسلام
پلوامہ //ضلع پلوامہ میں حالیہ سخت ترین ژالہ باری نے باغبانی شعبے کو ایک بار پھر شدید نقصان سے دوچار کر دیا ہے۔ محکمہ باغبانی کے مطابق ضلع کے مختلف علاقوں میں کم از کم 24 دیہات متاثر ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں سیب اور دیگرباغات کو سخت نقصان پہنچا ہے۔ متاثرہ باغبانوں میں تشویش کی لہر دوڑ گئی ہے کیونکہ گزشتہ دو ماہ کے دوران چوتھی مرتبہ ضلع پلوامہ ژالہ باری کی زد میں آیا ۔چیف ہارٹیکلچر آفیسر پلوامہ ریاض احمد شاہ نے متاثرہ علاقوں کا دورہ کرکے زمینی صورتحال کا جائزہ لیا۔ انہوں نے بتایا کہ نقصان کا تفصیلی تخمینہ لگانے کیلئے ایک خصوصی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو اپنی رپورٹ مکمل کرکے اعلیٰ حکام کو پیش کرے گی تاکہ متاثرہ کاشتکاروں کیلئے مناسب امدادی اقدامات کیے جا سکیں۔حالیہ زالہ باری سے سب سے زیادہ زون شادی مرگ متاثر ہوا ہے جہاں مقامی لوگوں کے مطابق باغات کو 15سے 20 فیصد تک نقصان پہنچا ہے۔ زون کے سنگرونی، باغندر، کھائگام ، سونابنجر، سکلو، واسی مرگ، آڈی ترگ، ازم پتھری جیسے علاقے شدید متاثرہوئے ہیں۔ اسی طرح زون نیوہ کے چیوہ کلان، گوسو، وہی بگ، جڈورہ، پاریگام، ونپورہ، تجن، نوپورہ اور ناگام جبکہ زون کاکہ پورہ کے ہنی پورہ چھٹی نہامہ، لولی پورہ، بان گنڈ پنگل گام، بڈی باغ، پاہو اور راکھ پاہو علاقوں میں باغات کو نقصان پہنچا ہے۔باغبانی سے وابستہ کاشتکار اور سماجی کارکن طارق عزیز نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث کشمیر کی میوہ صنعت شدید بحران کا شکار ہے۔ انہوں نے حکومت سے ایپل کی کہ کراپ انشورنس اسکیم متعارف کرانے،سبسڈی فراہم کرنے اور مارکیٹ انٹروینشن اسکیم (MIS) کو موثر انداز میں نافذ کیا جائے ۔