سیدہ قیصرہ اندرابی
وادی کشمیر میں ٹھٹھرتی ٹھنڈ کے بیچ اور درجہ حرارت میں کمی کے باوجود نومبر اور دسمبر میں دن کو کھلی دھوپ نے نوجوان کھلاڑیوں اور کھیل شایقین کو کھیل میدانوں کا رخ اختیار کر نے پر مجبور کیا۔ یوں جابجا کھیل سرگرمیوں کا جادوسرچڑھ کر بولتا رہا۔ جہاں وادی کشمیر کے اطراف و اکناف میں سرکاری سطح پر ٹورنامنٹوں کا انعقاد ہوا ،وہیں شہر وقصبات میں بھی کھیل سرگرمیاں دیکھنے کی ملیں۔ اسی سلسلے کی ایک کڑی جنوبی کشمیر کے ضلع پلوامہ میںجاری رہی، بہت سارے ٹورنامنٹوں کے انعقاد سے ہزاروں لوگ براہ راست اور بالواسطہ ان کھیل سرگرمیوںکا حصہ بنے۔ کشمیر میں سردی کے دوران زیادہ تر لوگ گھر وں تک محدود رہتے ہیں لیکن کرکٹ شائقین کھیل کے زندہ جذبے کو مہمیز دینے کے لیے سپورٹس مشق کو ترجیح دیتے رہے۔ کھلاڑیوں کے مطابق اس طرح کے ٹورنامنٹ کھیل کو فروغ دینے کے علاوہ کھلاڑیوں کو جسمانی طور پر فٹ رکھتے ہیں۔ ظاہر ہےکہ کرکٹ کی مقبولت کے باعث پلوامہ ضلع کے شاہورہ علاقہ میں بھی ’’شاہورہT20کرکٹ ٹورنامنٹ ‘‘کے نام سے ایک جامع ٹورنامنٹ پہلی بارمنعقد ہوا جو 2ماہ تک مسلسل چلتا رہا۔جس میں پلوامہ اور شاہورہ تحصیلوں کی 24 ٹیموں نے حصہ لیا۔محفل بہار ادب شاہورہ ، محکمہ یوتھ سروسز اینڈ سپورٹس اور ضلع انتظامیہ کے اہتمام سے شاہ ظہورسپورٹس سٹیڈیم تملہ ہال پلوامہ میں شاہورہ ٹی20ناک آوٹ کرکٹ ٹورنامنٹ کا افتتاح ضلع ترقیاتی کونسل کے چیرمین سید باری اندرابی نے25اکتوبر کو کئی سرکاری آفیسران اور علاقہ کی معزز شخصیات کی موجودگی میں کیا،جب کہ ٹورنامنٹ کا فائنل میچ 24دسمبر کوپلوامہ سٹیڈیم میں کھیلا گیا۔ ٹورنامنٹ میں ایس جے سی سی تملہ ہال، ٹہاب ٹائیگرس،جمہ خانہ پلوامہ ،شاہورہ کرکٹ کلب ،مچھ پونہ ریڈس کے ساتھ ساتھ نیلورہ ، بٹ نور،چند گام ، نائرہ،ینگ بائز لتر ،گابر پورہ ،اچھن ،الائی پورہ ،چڈرن ،ذاسو ،چکورہ ،شادی پورہ ،آری ہل سمیت کئی دیہات کی ٹیموں نے حصہ لیا۔کھیل مقابلوں کے دوران متعددکھلاڑیوں نے کئی متاثر کن ریکارڈ بھی بنا ڈالے۔ ان میں سے متعدد کھلاڑی اب کئی ریاستوں میں سرکاری سطح پر منعقدہ کھیل سرگرمیوں میں حصہ لے رہے ہیں۔ٹورنامنٹ کا ٹائٹل24دسمبر کو جمہ خانہ پلوامہ نے اپنے نام کیا۔ ٹورنامنٹ کی اختتامی تقریب میںمیونسپل کمیٹی پلوامہ کے چیرمین بلال احمد راتھر،محکمہ یوتھ سروسز اینڈ سپورٹس کے ضلع آفیسرنور الحق ،محکمہ ایوش کے ضلع نوڈل آفیسرڈاکٹر مشتاق احمدنے مہمانان ِخصوصی کی حیثیت سے شرکت کی اور جیتے والی ٹیم کو ٹرافی اور انعامات سے نوازا۔مہمانانِ خصوصی نے کھلاڑیوں اور شایقین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ضلع پلوامہ میں ٹیلنٹ کی کوئی کمی نہیں ، لیکن اس ٹیلنٹ کی نشاندہی کرنے اور صحیح سمت دینے کی ضرورت ہے۔جبکہ انتظامیہ ضلع میں ہر قسم کی کھیلوں کی سرگرمیوں میں نوجوانوں کو سہولت فراہم کرنے کے لیے کھیلوں کا بنیادی ڈھانچہ تیار کرنے میں پُرعزم ہے۔
جمہ خانہ پلوامہ کے کپتان اور معروف کھلاڑی شبیر احمدننگرو عرف شبیرلیفٹی ‘جوکہ ملکی سطح پر کئی مقابلوں میں حصہ لے چکے ہیں ،کہتے ہیں کہ’’ شاہورہ علاقہ کے تملہ ہال گائوں میں شاہ ظہور سپورٹس ا سٹیڈیم کے قیام سے نہ صرف شاہورہ کے دیہات بلکہ شوپیاں اور پلوامہ کے دسیوں علاقوں کے کھیل شائقین سراہنا کرتے ہیں اور یہ مانگ کرتے ہیں کہ مذکورہ اسٹیڈیم میں کھیلوں سے متعلق تمام بنیادی سہولیات بہم رکھی جائیں‘‘۔ شاہورہ کے ایک نامور سماجی کارکن عبدالرشید شاہوری بتاتے ہیں ’’مشہور کشمیری شاعر ،خوشنویس اور بہار ادب شاہورہ کے بانی غلام نبی شاہ ظہورکے سے منسوب شاہ ظہور سپورٹس اسٹیڈیم کے قیام سے جہاں علاقہ میں کھیل سرگرمیوں بڑھ گئی ہیں، وہیں نوجوانوں اور کھیل شایقین کیلئے یہ ایک پلیٹ فارم بنتا نظر آرہا ہے۔بقول انکے آج کل والدین کافی پریشان رہتے ہیں کہ کہیں ان کے بچے منشیات یا کسی اور برائی کی طرف راغب نہ ہو جائیں،اس لئے اگر وہ تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل کود میں حصہ لیں تو اُن کی صحت اچھی رہے گیاور وہ اس فیلڈ میں بھی اپنا نام کما سکتے ہیں۔ شاہورہ ٹورنامنٹ کے ہیرو منیب یوسف عرف ِ’’راحل لیفٹی ‘‘کا کہنا ہے کہ سرگرم سماجی انجمن محفل بہار ادب شاہورہ نے علاقے میں کھیلوں کی سرگرمیوں کو منظم کرنے میں جو قائدانہ پہل کی وہ قابل تعریف ہے اور شاہورہ میں اس طرح کا منظم ٹورنامنٹ کا انعقاد اس بات کا غماز ہے کہ جموں و کشمیر کے دیگر اضلاع کی طرح اس علاقہ کے نوجوان بھی سپورٹس کی طرف راغب ہورہے ہیں‘‘۔سرکردہ ٹریڈ یونین لیڈر اور علاقہ کے نامور استاد غازی عبدالعزیزکہتے ہیں ’’اس طرح کے منظم ٹورنامنٹ منعقد ہونے سے جہاں کھلاڑی مسرور ہیں، وہیں یہ مانگ بھی دہرائی جارہی ہے کہ اس طرح کھیل سرگرمیاں جاری رکھی جائیںتاکہ نوجوان نسل منشیات اور دیگر جرائم سے پاک رہے۔ان کا یہ بھی کہنا ہے’’کرکٹ منفرد نوعیت کاکھیل ہے اور اس ٹورنامنٹ کا انعقاد ایک ادبی تنظیم نے کیا تھا،جس کا بنیادی مقصد مقامی نوجوانوں کو کھیلوں کی سرگرمیوں میں شامل کر کے منشیات کی لعنت سے دور رکھنا ہے۔ادبی تنظیم کی جانب سے یہ ایک قابل تعریف قدم ہے۔ تمام کھلاڑیوںپر لازم ہے کہ وہ کھیل، دیانت، تعاون، نظم و ضبط اور احترام کے اقدار کو فروغ دیں۔ضلع کے نامورسپورٹس پروموٹر اور تعلیمی اصلاح پسند ڈاکٹر روف الرفیق کا کہنا ہے’’بے شک محفل بہار ادب شاہورہ مبارک باد کی مستحق ہے جوشاہورہ کے ایک بڑے علاقہ میں ادبی اور سماجی خدمات کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ مفت طبی کیمپ اور نوجوانوں کیلئے کرکٹ ٹورنامنٹ منعقد کررہی ہے ۔ دیہی علاقوں میں اس طرح کے ٹورنامنٹ ایک منفرد مگر کامیاب تجربہ ہے اور یہ مقامی کھلاڑیوں کے لیے بھی اپنی خداداد صلاحیتوں کو مظاہرہ کرنے کا ایک بہترین موقع ہے۔ شاہورہ کے سرگرم سماجی کارکن اور شاہورہ T20کرکٹ ٹورنامنٹ کے آرگنائزربلال حمید شاہوری کا کہنا ہے کہ بہار ادب شاہورہ مستقبل میں اس طرح کی مزید کھیلوں کی سرگرمیاں منعقد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے،ایک اور کرکٹ ٹورنامنٹ ،مفت طبی کیمپ اور ادبی پروگرام اگلے ایجنڈے میں شامل ہیں۔ضلع ترقیاتی کمشنر پلوامہ بصیر الحق چودھری کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ نوجوانوں میں خود اعتمادی پیدا کرنے کے لیے ‘میرا نوجوان میرا فخر’مہم پورے ضلع میں چلائی جا رہی ہے اور اس مہم کے تحت سینکڑوں نوجوانوں کو کھیلوں کے مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع مل رہا ہےاور انتظامیہ ضلع میں کھیلوں کے بنیادی ڈھانچے کو ترقی دینے کے لیے کوشاں ہے۔عوامی حلقوں نے ٹورنامنٹ کے بروقت انعقاد کوسراہتے ہوئے محفل بہار ادب شاہورہ ، محکمہ یوتھ سروسز اینڈ سپورٹس اور ضلع انتظامیہ کی سلام پیش کرکے اس طرح کی کھیل سرگرمیوں کو آگے بھی جاری رکھنے کی امید ظاہر کی ہے۔یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ مرحوم غلام بنی شاہ ظہور کے نام سے منسوب اسٹیڈیم کے قیام پر سماجی ،ادبی اورعوامی حلقوںانتہائی مسرت کا اظہار کیا اور یہ مانگ دہرائی ہے کہ علاقہ شاہورہ میں مذکورہ شاعر کے نام پر رفاہی نوعیت کے مزید سرکاری اداروں کا قیام عمل میں لایا جائے۔
(مضمون نگارہ محفل بہار ادب شاہورہ پلوامہ کی رکن ہیں اور انکے ساتھ [email protected]پر رابطہ کیا جاسکتا ہے)
پلوامہ میں’’شاہورہ۔ T20‘‘ٹورنامنٹ