بھاری مشینری سے کھدائی ماحولیاتی توازن کیلئے نقصان دہ
بلال فرقانی
سرینگر//پلوامہ اور بڈگام اضلاع میں کریوا زمینوں پر مبینہ غیر قانونی کان کنی کے باعث وسیع پیمانے پر ماحولیاتی نقصان اور باغبانی شعبے کو شدید دھچکا پہنچنے کے انکشافات سامنے آئے ہیں۔ کئی دیہات میں مٹی، ریت اور بجری کی غیر مجاز نکاسی کے نتیجے میں سینکڑوں کنال زرعی اور باغاتی اراضی متاثر ہوئی ہے، جس پر مقامی کسانوں اور ماحولیاتی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ذرائع کے مطابق پلوامہ کے جڈورہ اور رنگین کلترہ جبکہ بڈگام کے چاڈورہ علاقوں میں بھاری مشینری کے ذریعے زمین کی کھدائی کی گئی۔نیشنل گرین ٹریبونل میں درخواست گزار ڈاکٹر راجہ مظفر کی جانب سے پیش کردہ دستاویزات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ تقریباً ایک ہزار کنال کریوا اور باغاتی زمین کو نقصان پہنچا ہے۔ جیو ٹیگ شدہ تصاویر، متاثرہ کسانوں کی فہرستیں اور آر ٹی آئی کے تحت حاصل شدہ سرکاری ریکارڈ بھی متعلقہ فورم کے سامنے پیش کیا گیا۔پس منظر کے طور پر بتایا گیا کہ کریوا زمینیں کشمیر کی مخصوص اراضی ہیں جو خاص طور پر زعفران اور دیگر باغبانی فصلوں کے لیے نہایت اہم سمجھی جاتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق ان علاقوں میں بے قابو مائننگ نہ صرف زرعی پیداوار کو متاثر کرتی ہے بلکہ مٹی کے کٹاؤ، آبی ذخائر کی خرابی اور ماحولیاتی توازن کو بھی نقصان پہنچاتی ہے۔
سماعت کے دوران معاملے کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے متعلقہ اتھارٹی نے وزارت ماحولیات، جنگلات و ماحولیاتی تبدیلی سنٹرل پولوشن کنٹرول بورڈ اور ضلعی انتظامیہ پلوامہ و بڈگام پر مشتمل ایک مشترکہ مرکزی ٹیم تشکیل دینے کی ہدایت دی ہے۔ ٹیم کو دس ہفتوں کے اندر اندر موقع پر جا کر تفصیلی معائنہ کرنے اور جامع رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ڈپٹی کمشنر پلوامہ کو اس کارروائی کے لیے رابطہ کار مقرر کیا گیا ہے جبکہ جموں و کشمیر پولوشن کنٹرول کمیٹی مرکزی ٹیم کی معاونت کرے گی۔ ہدایت میں کہا گیا ہے کہ مشترکہ کمیٹی غیر قانونی کان کنی کی حد و نوعیت کا تعین کرے، نکالی گئی معدنیات کی مقدار کا تخمینہ لگائے، ذمہ دار افراد یا اداروں کی نشاندہی کرے، ماحولیاتی منظوریوں اور قانونی لیز کی حیثیت کا جائزہ لے اور مناسب تدارکی و تعزیری اقدامات کی سفارش کرے۔سماعت کے دوران سپریم کورٹ کے مقدمہ ’’دیپک کمار بنام ریاست ہریانہ‘‘ کے فیصلے کا حوالہ بھی دیا گیا، جس میں واضح کیا گیا ہے کہ پانچ ہیکٹر سے کم رقبے کی مائننگ لیز کے لیے بھی ماحولیاتی منظوری لازمی ہے اور بے قابو ریت نکاسی زمین کے استحکام اور ماحولیات کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔معاملہ آئندہ سماعت کے لیے 18 مئی 2026 کو مقرر کیا گیا ہے، جب مشترکہ ٹیم کی رپورٹ پیش کی جائے گی۔