جموں//ریاستی نژاد ٹیلی کام آپریٹر بھارت سانچار نگم لمیٹڈ (بی ایس این ایل) نے گذشتہ روز کہا کہ حکومت ہند پاس ریاست جموں وکشمیر میں پری پیڈ موبائل سروس کے استعمال پر پا لگی بندیوں کو دور کرنے کا فی الحال کوئی منصوبہ نہیں ہے جس کے چلتے موبائیل صارفین یاست سے مواصلاتی خدمات ریاست سے باہر لے جانے میں اجازت کے حامل پذیرنہیں ہوں گے۔ انہوں نے مزید کہاہے کہ ریاست میں سکیورٹی بندوبندست کوفعال بنانے کے غرض سے اس طرح کے اقدامات اٹھانے کا سرکار نے فیصلہ لیاہے۔ ایچ کے ورما چیف مینجر جنرل جموں وکشمیر نے یہ واضح کردیاہے کہ ریاست میں موبائل پری پیڈ سروس پر لگی پابندیوں کو منسوخ کرنے کوئی منصوبہ عمل میں نہیں ہے باوجود اس کے کہ ریاست میں باہرسے آنے والے لاکھوں سیاحوں کوعدم موصلاتی سہولیات کے سبب کافی دشواریوں کا سامنا کرناپڑرہا ہے ۔انہوںنے مزید کہا ہے کہ ریاست میں داخل ہونے کے بعد تمام غیرریاستی باشندے اپنے نزدیکیوںیا پھر اپنے خاندانوں سے جڑ نہیں پاتے ہیں۔ شری ایچ کے ورما نے مزید کہاہے کہ تقریبا 80 لاکھ ویشنو دیوی یاتری، 5 لاکھ امرناتھ یاتریوں کے علاوہ بھاری تعداد میں تعداد میں سیاح ملک دیگر حصوں سے ریاست میں وارد ہوتے ہیں اور جدیدی دور کے موصلاتی نظام میں اس ضمن میں ان کو کافی دقتوںکا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جو باعث تشویش ہے۔ ورما نے کہا کہ عام طورپر یہ بھی دیکھا گیا ہے کہ ریاست جموں وکشمیر کے شہری جو عام طورپر ریاست کے باہرعلاج ومعالجہ یا تجارتی خارجہ کےلئے دوسری ریاستوں میں سفروںکےلئے روانہ ہوتے ہیں ان کو خدمات منقطع کے باعث مشکلات کا سامنا کرناپڑرہا ہے۔ چیف جنرل مینجر نے مزید کہا ہے کہ بی ایس این ایل صارفین کےلئے بنیادی سہولیات کو میسر اور بہتری بنانے میں ہروقت سے کوشاں ہے لیکن ریاست میں سکیورٹی وجوہات کے بناء پر لگی پابندیوں کے باعث عوام خدمات لینے میں قاصر ثابت ہورہی ہے۔ انہوںنے مزید کہاہے کہ آج کل ہرایک سم کارڈ کو آدھار کارڈ کے ساتھ منسلک کردیا جاتا ہے اور غلط استعمال ہونے پر باآسانی سے پتہ لگایاجاسکتاہے۔انہوں نے مزید کہا کہ لوگ رابطے میں دوستوں اور خاندانوں میں سماجی نیٹ ورکنگ سائٹس اور اسمارٹ فونز کے ذریعہ وائس ایپ، فیس بک اور ٹویٹر جیسے اطلاقات پر رہنا چاہتے ہیں لیکن مسائل کا آغاز ہوتا ہے جب پری پیڈ صارف کو ریاست سے باہر سفر کرنا پڑتا ہے۔