تھنہ منڈی // پرائمری ہیلتھ سنٹر تھنہ منڈی میں نیشنل رورل ہیلتھ مشن اسکیم کے تحت ڈاکٹروں کی 4 اسامیاں ہیں جن میں 2 خالی پڑی ہیں جبکہ 1 ڈاکٹر کو نیشنل رورل ہیلتھ مشن اسکیم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے چیف میڈیکل آفیسر راجوری کے دفتر میں اٹیچ رکھاگیاہے ۔اس اسکیم کے قواعد و ضوابط کے مطابق کسی بھی ڈاکٹر کو دوسرے طبی مرکز میں نہ توتبدیل کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی کسی ملازم کو کسی دوسرے طبی مرکز میں اٹیچ رکھا جا سکتا ہے تاہم تھنہ منڈی میں ایسا ہورہاہے جس کا خمیازہ عام لوگوں کو بھگتناپڑرہاہے جنہیں بہتر طبی سہولیات فراہم نہیںہوپارہی۔ پرائمری ہیلتھ سنٹر تھنہ منڈی کو مرکزی حیثیت حاصل ہے جہاں روزانہ 150سے200 مریض گردو نواح کے دور دراز دیہاتوں سے طبی سہولیات حاصل کرنے کے لئے ہر روز آتے ہیں۔ اس طبی مرکز میںآنکھوں کے امراض کے علاج کے لئے کوئی سہولت میسر نہ ہے جس کے باعث مریضوں کو ضلع ہسپتال راجوری کا رخ کرناپڑتاہے ۔ پرائمری ہیلتھ سنٹر تھنہ منڈی کو چوبیس کھلا رکھنے کے لئے 6 ڈاکٹر درکار ہیں جن میں 2 مستقل اور 4 نیشنل ہیلتھ مشن سے منطور شدہ ہیںتاہم 2 اسامیاں خا لی ہیںاور ایک ڈاکٹر کو چیف میڈیکل آفیسر راجوری کے دفتر میں اٹیچ رکھا گیا ہے۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ قوانین کی دھجیاں اڑائی جارہی ہیں اور ایسا کرنے والوں کو کوئی پوچھتا بھی نہیں۔رابطہ کرنے پر چیف میڈیکل آفیسر راجوری ڈاکٹر سریش گپتا نے تصدیق کی کہ پرائمری ہیلتھ سبٹر تھنہ منڈی میں نیشنل ہیلتھ مشن اسکیم میں تعینات ایک ڈاکٹر کو ان کے دفتر اٹیچ کیاگیاہے ۔ تاہم انہوںنے کہاکہ ایسا ممبراسمبلی راجوری کی سفارش پر کیاگیاہے۔ انہوں نے کہا کہ PHC تھنہ منڈی کے میڈیکل آفیسر سے خالی اسامیوں کی فہرست طلب کی گئی ہے اور نیشنل ہیلتھ مشن میں نئی بھرتی کی جا رہی ہے ۔انہوں نے کہاکہ خالی پڑی اسامیوں کو پر کیاجائے گا ۔