سپیکر کیخلاف تحریک عدم اعتماد پر 9مارچ کو بحث کا امکان
یو این آئی
نئی دہلی// انڈیا اتحاد کے آٹھ اراکین پارلیمنٹ کی معطلی ختم کرنے کے مطالبے پر اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نے بدھ کے روز لوک سبھا میں ہنگامہ کیا اور ایوان سے واک آؤٹ کیا۔صبح 11 بجے جیسے ہی وقفۂ سوالات شروع ہوا، انڈیا اتحاد کے معطل ارکان کی معطلی ختم کرنے کے مطالبے پر اپوزیشن ارکان نعرے بازی اور ہنگامہ کرنے لگے۔ کئی ارکان ایوان کے وسط میں آ کر شور مچانے لگے اور ’’انصاف کرو‘‘، ’’معطلی واپس لو‘‘ کے نعرے لگائے۔سماجوادی پارٹی اور ترنمول کانگریس کے ارکان بھی اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر کانگریس ارکان کی حمایت کر رہے تھے۔اس دوران پریذائیڈنگ افسر پی سی موہن نے وقفۂ سوالات کی کارروائی جاری رکھی۔ جب ہنگامے اور نعرے بازی کا کوئی اثر ہوتا نظر نہ آیا تو اپوزیشن ارکان احتجاجاً ایوان سے باہر چلے گئے۔ اپوزیشن ارکان وقفۂ سوالات ختم ہونے تک ایوان سے باہر رہے۔قابلِ ذکر ہے کہ اسپیکر کی کرسی کی جانب کاغذ پھاڑ کر پھینکنے اور ایوان کی کارروائی میں خلل ڈالنے کے الزام میں کانگریس کے سات اور سی پی آئی (ایم) کے ایک رکن کو 3 فروری کو بجٹ سیشن کی بقیہ مدت کے لیے معطل کر دیا گیا تھا۔ادھر لوک سبھا سکریٹریٹ کے ذرائع کے مطابق، لوک سبھا میں بجٹ اجلاس کے دوسرے مرحلے کے پہلے دن 9 مارچ کو اسپیکر اوم برلا کے خلاف اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد پر بحث ہونے کا امکان ہے۔یہ اشارہ اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے باضابطہ طور پر اسپیکر کے خلاف تحریک عدم اعتماد کا نوٹس پیش کرنے کے ایک دن بعد سامنے آیا۔ اس اقدام سے پارلیمانی تصادم میں غیر معمولی اور سنگین اضافہ ہوا ہے۔ یہ نوٹس منگل کے روز کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اور چیف وہپ کے سریش نے متعدد اپوزیشن جماعتوں بشمول کانگریس، سماج وادی پارٹی اور ڈی ایم کے کی جانب سے پیش کیا تھا۔لوک سبھا سکریٹریٹ کے ایک اہلکار نے کہا، “یہ اراکین کو دستیاب سب سے سخت اقدامات میں سے ایک ہے، اور اس میں مقررہ طریقہ کار کی پیروی ہوتی ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ ٹائم لائن کے مطابق 9 مارچ کو بحث ممکن ہے، جو کہ طریقہ کار کی تعمیل سے مشروط ہے۔آئینی دفعات اور پارلیمانی ضوابط کے تحت، اسپیکر کو ہٹانے کی قرارداد کو بحث اور ووٹنگ کے لیے درج کرنے سے پہلے کم از کم 14 دن کی نوٹس کی مدت درکار ہے۔ اگر طریقہ کار کے تقاضے پورے ہو جاتے ہیں، تو تحریک عدم اعتماد نوٹس کی مدت کے بعد باضابطہ طور پر زیر غور آئے گی، جس سے بحث کی راہ ہموار ہو جائے گی جو مارچ میں بجٹ سیشن کے دوسرے مرحلے زیر بحث آنے کا امکان ہے۔