عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی// لوک سبھا میں اپوزیشن جماعتوں کا ہنگامہ جمعہ کو مسلسل پانچویں دن بھی جاری رہا، جس کی وجہ سے ایوان نہیں چل سکا اور لوک سبھا کی کارروائی پورے دن کے لیے ملتوی کر دی گئی پریزائیڈنگ افسر کرشن پرساد تینیٹی نے ایک بار کے التوا کے بعد دوپہر بارہ بجے جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع کی، تو اپوزیشن جماعتوں کے ارکان نعرے بازی اور ہنگامہ کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں آ گئے۔ اس دوران انہوں نے ہنگامے کے بیچ ہی ضروری کاغذات ایوان کی میز پر رکھوائے۔ہنگامہ کر رہے ارکان سے انہوں نے اپنی نشستوں پر جانے کی اپیل کی اور کہا کہ ہنگامے کے دوران وہ ایوان کی کارروائی نہیں چلا سکتے، اس لیے تمام ارکان خاموش ہو کر اپنی نشستوں پر بیٹھ جائیں۔ لیکن کسی نے ان کی بات نہیں مانی اور ہنگامہ بڑھتا گیا، جس کے باعث انہوں نے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کر دی۔اس سے پہلے صبح 11 بجے جیسے ہی ایوان کی کارروائی شروع ہوئی، اپوزیشن ارکان نے شدید ہنگامہ کیا۔ اسپیکر اوم برلا نے ہنگامے کے دوران ہی وقفہ سوالات کا سلسلہ چلانے کی کوشش کی لیکن ہنگامہ بڑھتا گیا، جس کی وجہ سے انہیں ایوان کی کارروائی دوپہر 12 بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔ادھر وزیر اعظم نریندر مودی نے راجیہ سبھا میں صدر کے خطبے پر تحریک تشکر پر خطاب کیا۔ وزیر اعظم نے کانگریس پر سخت حملہ کرتے ہوئے پارٹی کے یوراج کو نشانہ بنایا اور بی جے پی رکن رویندر سنگھ بٹو کے خلاف غدار کہنے کے بیان کو سکھ برادری کی توہین اور کانگریس کی انتہا درجے کی گھمنڈ کی علامت قرار دیا۔بجٹ اجلاس میں کل 65 دنوں کے دوران 30 نشستیں ہوں گی اور اجلاس 2 اپریل کو ختم ہوگا۔ دونوں ایوان 13 فروری کو وقفے کے لیے ملتوی ہوں گے اور 9 مارچ کو دوبارہ اجلاس ہوگا تاکہ قائمہ کمیٹیاں مختلف وزارتوں اور محکموں کے مطالبات زر کا جائزہ لے سکیں۔