سرینگر//زبانوں کے عالمی دن کی مناسبت سے جموں اینڈ کشمیر اکیڈیمی آف آرٹ ، کلچر اینڈ لینگویجزکی طرف سے ایک رنگا رنگ تقریب کا اہتمام کیا گیا۔یہ تقریب ٹیگور ہال سرینگر میں منعقد ہوئی جس میں مادری زبان کی اہمیت، افادیت اور اس سے متعلقہ دیگر امور کو اجاگر کرنے کے ساتھ ساتھ تمدنی پروگرام بھی پیش کئے گئے۔ تقریب کی صدارت پروفیسر شفیع شوق نے کی جبکہ سابق سیکریٹری کلچرل اکیڈیمی ڈاکٹر رفیق مسعودی مہمانِ ذی وقار کی حیثیت سے تقریب میں شامل تھے۔ تقریب کے آغاز میں اکیڈیمی کی طرف سے خطبہ استقبالیہ پیش کرتے ہوئے اکیڈیمی کے ایڈیٹر کشمیری جاوید اقبال نے کہا کہ زبانوں کا عالمی دن ہمیں اپنی اپنی مادری زبانوں کا حق ادا کرنے کے لیے ہم ہمہ وقت کوشاں ہیں ۔ انہوں نے مزیدکہا کہ اکیڈیمی کے مختلف شعبے مادری زبانوں کی ترویج اور ترقی کے لیے ہرممکن کوشش کررہے ہیں۔ مادری زبانوں کے حوالے سے نوجوان قلمکار عادل محی الدین نے ایک توسیعی خطبہ پیش کیا جس میں زبانوں کی ترویج، تاریخ اور اس حوالے سے کشمیری زبانوں پر مفصل روشنی ڈالی گئی۔امتیاز احمد ملک اور ساتھیوں نے ایک ولولہ انگیز نغمہ پیش کیا۔ اس کے بعد نوجوان گلوکار جنید احمد اور فردوس احمد نے غزلیں، سہیل شلوتی نے چھکری، رئیس واتھوری اور ساتھیوں نے سکیٹ، عامر احمد بھگت اور تنویر احمد نے لڈی شاہ، عبیداحمد اور ساتھیوں نے قوالی پیش کی، جسے حاضرین نے کافی سراہا۔تقریب میں سوال و جواب کا سیشن بھی منعقد ہوا جس میں سوالوں کے صحیح جواب دینے والے طلباء کو انعامات سے بھی نوازا گیا۔ تقریب پر مادری زبان کو موضوع بناکر ایک مختصرمشاعرہ بھی منعقد کیا گیا، مشاعرے میں نوجوان قلمکار ساگر نذیر، مونسا اسلم درویش اور ڈاکٹر شیدا حسین شیدا نے اپنا منظوم کلام پیش کیا۔تقریب میں ادیبوں، قلمکاروں، فنکاروں اور طلباء کی بھاری تعداد موجود تھی۔ تقریب میں اور لوگوں کے علاوہ شبیر مجاہد، وحید جیلانی، منیر احمد میر، شبیر حکاک،محمد یوسف شاہین، پرویز مانوس، دلدار اشرف شاہ، رحیم رہبر، ناظم نذیر، حسرت حمید، آفاق دلنوی، جی آر آزاد ، انچارچ ڈویژنل آفس اکیڈیمی فرحت لون، عابد احمد، نعیم کرناہی،سلیم سالک،ڈاکٹر گلزار احمد راتھر، ڈاکٹر شبنم رفیق،اقبال احمد لون، سلیم ساگر،امتیاز شارقی،شازیہ بشیر، جمیل انصاری، مقبول ساجد،نصرت آراء موجود تھے۔