سرینگر جموں قومی شاہراہ کو ٹریفک کیلئے بند کر دیا گیا
عظمیٰ نیوز سروس+محمد تسکین
سرینگر//وادی میں تازہ برفباری کے بعد منگل کو کشمیر سفید رنگ میں لپٹا ہوا تھا۔تازہ برفباری کی وجہ سے سرینگر جموں قومی شاہراہ بند ہوگئی اور فلائٹ آپریشن بھی معطل رہا۔محکمہ موسمیات کے مطابق کشمیر کے بیشتر حصوں میں رات بھر تازہ برفباری ہوئی اورمغربی ڈسٹربنس نے خطہ کو متاثر کیا۔ سرینگر سمیت وادی کے میدانی علاقوں میں ہلکی سے درمیانے درجے کی برفباری ریکارڈ کی گئی، جب کہ اونچی جگہوں پر درمیانے سے بھاری برفباری یا بارش ہوئی۔حکام نے کہا کہ سرینگر شہر اور کئی قسؓوں کیساتھ ساتھ میدانی علاقوں میں پہلی برباری ہوئی۔حکام نے بتایا کہ وسطی، شمالی اور جنوبی کشمیر کے تمام اضلاع میں برف باری ریکارڈ کی گئی اور برف باری کے باعث سڑک، ریل اور فضائی ٹریفک میں خلل پڑا۔محکمہ موسمیات نے کہا ہے کہ زیادہ تر مقامات پر ہلکی سے درمیانی بارش یا برفباری ہوئی اور منگل کی سہ پہر تک یہ سلسلہ وقفے وقفے سے جاری رہا۔زوجیلا میں سب سے زیادہ تین فٹ برف ریکارڈ کی گئی۔سرینگر میں 2انچ،شوپیان 8انچ،اننت ناگ 4انچ،بانہال 6انچ،گاندربل میں 3انچ، سوپور 6انچ،5انچ کولگام،5انچ بارہمولہ اور پلوامہ میں 4انچ برف ریکارڈ کی گئی۔انہوں نے کہا کہ آج یعنی بدھ کو بھی چند مقامات پر ہلکی بارش یا برف باری کا امکان ہے۔محکمہ نے کہا کہ وادی کے پہاڑی علاقوں میں دو فٹ تک برفباری ہوئی، جبکہ میدانی علاقوں میں بارش کے ساتھ پانچ سے چھ انچ تک برف پڑ ی ۔ زوجیلا میں تقریباً تین فٹ، سونمرگ میں تقریباً دو فٹ ، گگنگیر اور کلن گنڈ میں تقریباً ڈیڑھ فٹ برف پڑنے کی اطلاع ملی، جبکہ گاندربل ضلع کے کنگن علاقے میں تقریباً چار انچ برف پڑی۔محکمہ موسمیات لداخ کے ڈائریکٹر سونم لوٹس نے کہا کہ وادی کشمیر میں 28 جنوری سے موسمی حالات میں بہتری کی توقع ہے۔
قومی شاہراہ
حکام نے بتایا کہ قاضی گنڈ اور بانہال کے درمیان برف جمع ہونے کے پیش نظر سرینگر جموں قومی شاہراہ کو ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ۔ان کا کہنا تھا کہ ہائی وے پر کسی بھی ٹریفک کو چلنے کی اجازت نہیں دی گئی۔بانہال ۔ قاضی گنڈ نویگہ ٹنل کے آر پار تازہ برفباری اور شدید پھسلن کے باعث قومی شاہراہ کو پیر کی رات دیر گئے سے آمدورفت کیلئے ایکبار پھر بند کر دیا گیا۔ٹریفک پولیس حکام کے مطابق پیر اور منگل کی درمیانی رات کے بعد قاضی گنڈ اور ادھمپور سے ٹریفک کو آگے بڑھنے سے روک دیا گیا۔حکام نے بتایا کہ بانہال ٹنل، رامسو علاقوں میں 6 سے 12 انچ تک برفباری ریکارڈ کی گئی ، جبکہ جواہر ٹنل کے ذریعے پرانی جموںسرینگر شاہراہ پر ایک فٹ سے زائد برف جمع ہو چکی ۔ ادھر بارہمولہ اوڑی سڑک این ایس برج کے مقام پر پسیاں اور پتھر گر آنے کی وجہ سے کئی گھنٹوں تک بند رہی۔اس دوران بلکوٹ اور نامبلہ گائوں کی دو میتیں ایک گھنٹہ تک سڑک پر پھنسی رہیں۔عہدیداروں نے بتایا کہ ریل خدمات بھی متاثر ہوئیں کیونکہ بانہال اور بڈگام کے درمیان کچھ ٹرینیں ٹریک پر برف جمع ہونے کی وجہ سے منسوخ کردی گئی۔عہدیداروں نے بتایا کہ وادی جانے والے ہوائی ٹریفک میں بھی خلل پڑا کیونکہ سرینگر ہوائی اڈے پر رن وے پر برف جمع ہونے کی وجہ سے فلائٹ آپریشن نہیں ہو سکا۔ہوائی اڈے کے حکام نے بتایا کہ سہ پہر تک 50 پروازیں – 25 ان بانڈ اور 25 آٹ بانڈ – منسوخ کی جا چکی تھیں۔انہوں نے مزید کہا، “سری نگر ہوائی اڈے پر خراب موسم اور موجودہ حالات کی وجہ سے، سری نگر جانے والی/سے آنے والی تمام انڈیگو اور ائر انڈیاکی پروازوں کومنگل کے لیے منسوخ کر دیا گیا ۔
تودوں کی وراننگ
جموں و کشمیر یونین ٹیریٹری ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی نے گیارہ اضلاع کے لیے ہائی اور درمیانی شدت کے برفانی تودے کی وارننگ جاری کی۔ اتھارٹی نے کہاہے کہ گاندربل ضلع میں 2,000 میٹر سے زیادہ بلندی کے ساتھ برفانی تودہ گرنے کا امکان ہے، جب کہ اننت ناگ، بانڈی پورہ، بارہمولہ، کولگام اور کپواڑہ اضلاع میں 2000 میٹر سے درمیانے درجے کے برفانی تودے گرنے کا امکان ہے، اور ڈوڈہ، جموں کے اضلاع میں انتباہ منگل کی شام تک موثر ہے۔