پرانی پیٹرول گاڑیوںکے چلنے پر پابندیاں متوقع
عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی // شدید کہرے کی وجہ سے ٹرینوں کی رفتار تھم گئی ہے جس کی وجہ سے پریشان مسافر کئی کئی گھنٹے تاخیر سے اپنی منزل پر پہنچ پارہے ہیں۔اس دوران دہلی ہاوڑہ ریل روٹ سے گزرنے والی کئی ٹرینیں ایک بار پھر تاخیر سے چل رہی ہیں۔ اگرچہ دن کے وقت سورج نکلنے کے ساتھ سردی سے کچھ راحت ضرور مل رہی ہے لیکن رات کے وقت درجہ حرارت میں نمایاں کمی آ رہی ہے جس سے معمولات زندگی متاثر ہو رہے ہیں۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال دسمبر کے دوسرے ہفتے سے کہرے کا سلسلہ جاری ہے۔کہرے کی وجہ سے ریل ٹریفک مسلسل متاثر ہو رہا ہے۔ حالانکہ نئے سال کے دوسرے ہفتے میں ٹرین آپریشن میں کچھ بہتری ضرور ہوئی تھی مگرشدید کہرے نے ایک بار پھر ٹرینوں کی رفتار کو سست کر دیا ہے۔دہلی میں ہوا کا معیا ر یعنی اے کیو آئی خطرناک حد تک پہنچنے کے بعد انتظامیہ نے ہنگامی اقدامات کا فیصلہ کیا ہے۔ اوسط ایئر کوالٹی انڈیکس 354 ریکارڈ کیا گیا، جو بہت خراب زمرے میں آتا ہے۔کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ (سی اے کیو ایم) نے جمعہ کو ہوا کے معیار کے ’بہت خراب‘ درجے تک پہنچنے کے بعد گریڈڈ ریسپانس ایکشن پلان (جی آر اے پی) کے مرحلہ-3 کے اقدامات فوری طور پر نافذ کر دیے ہیں۔اس مرحلے کے نفاذ کے بعد اب پوری دہلی اور این سی آر میں غیر ضروری تعمیراتی اور انہدامی سرگرمیوں پر مکمل پابندی رہے گی۔ مخصوص زمرے کی پرانی پیٹرول اور ڈیزیل گاڑیوں BS-III پیٹرول اور BS-IV ڈیزیل کے چلنے پر سخت پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔وہ صنعتیں جو منظور شدہ ایندھن پر نہیں چل رہی ہیں، ان کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی۔ یہ پابندیاں پہلے سے نافذ العمل مرحلہ 1 اور 2 کے اقدامات کے علاوہ ہوں گی، جن میں سڑکوں پر پانی کا چھڑکاؤ اور میکانیکل صفائی شامل ہے۔ہندوستانی محکمہ موسمیات (آئی ایم ڈی) اور دیگر ایجنسیوں نے خبردار کیا ہے کہ ہوا کی دھیمی رفتار اور مستحکم ماحول کی وجہ سے آلودہ ذرات فضا میں جمے ہوئے ہیں۔آنے والے دنوں میں دہلی کا اوسط اے کیو آئی 400 سے تجاوز کر کے ‘شدید’زمرے میں داخل ہو سکتا ہے۔ ناموافق موسمی حالات کی وجہ سے آلودگی کے پھیلاؤ میں کمی نہیں آ رہی، جس کے باعث سانس لینا دشوار ہو رہا ہے۔سی اے کیو ایم کی ذیلی کمیٹی نے این سی آر کے تمام آلودگی کنٹرول بورڈز اور متعلقہ ایجنسیوں کو ہدایت جاری کی ہے کہ وہ ان اقدامات پر سختی سے عمل درآمد کرائیں تاکہ عام شہریوں کی صحت کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔