سمت بھارگو
راجوری//جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چوہدری نے کہا ہے کہ اہم شخصیات کو فراہم کی جانے والی سیکورٹی کا از خود جائزہ لینا قانون نافذ کرنے والے اداروں اور حفاظتی ایجنسیوں کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات اور خطرات کے پیش نظر متعلقہ اداروں کو وی وی آئی پیز کی سیکورٹی کا باقاعدہ جائزہ اور نگرانی خود کرنی چاہیے۔نائب وزیر اعلیٰ نے یہ بات میڈیا کی جانب سے پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں کہی۔ یہ سوال ان خبروں کے حوالے سے پوچھا گیا تھا جن میں کہا گیا تھا کہ ان کے دفتر کی جانب سے مرکزی وزارت داخلہ کو ایک خط ارسال کیا گیا ہے جس میں ان کی سیکورٹی میں اضافہ کرنے اور بکتر بند گاڑی فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
اپنے بیان میں سریندر چوہدری نے واضح کیا کہ اہم شخصیات کو مناسب سیکورٹی فراہم کرنا متعلقہ حکام کی ذمہ داری اور دائرہ اختیار میں آتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حفاظتی اداروں کو ہر وقت چوکنا رہنا چاہیے اور جن افراد کو سیکورٹی فراہم کی گئی ہے ان کے حوالے سے خطرات کے امکانات کا بروقت جائزہ لینا چاہیے۔انہوں نے حالیہ دنوں سابق وزیر اعلیٰ ڈاکٹر فاروق عبداللہ پر مبینہ قاتلانہ حملے کی کوشش کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ حفاظتی انتظامات کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ سکیورٹی کے معاملات میں کسی بھی قسم کی کوتاہی یا غفلت کی گنجائش نہیں ہونی چاہیے اور اس حوالے سے تمام متعلقہ اداروں کو سنجیدگی کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کرنی چاہئیں۔نائب وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ سیکورٹی کا حصول کسی فرد کی جانب سے مانگنے کا معاملہ نہیں ہونا چاہیے بلکہ یہ فیصلہ حالات، خطرات اور خفیہ اطلاعات کی بنیاد پر متعلقہ اداروں کو خود کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ حفاظتی ایجنسیاں اگر بروقت اور مؤثر انداز میں خطرات کا جائزہ لیں تو کسی بھی ناخوشگوار واقعے سے بچا جا سکتا ہے۔انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ عوامی نمائندوں اور دیگر اہم شخصیات کی سکیورٹی کو یقینی بنانا ریاستی اداروں کی بنیادی ذمہ داری ہے اور اس سلسلے میں ہر ممکن اقدام کیا جانا چاہیے تاکہ امن و امان کی صورتحال برقرار رہے اور عوام میں اعتماد قائم رہے۔