عظمیٰ نیوزسروس
جموں//جموں و کشمیر کے نائب وزیر اعلیٰ سریندر چودھری نے جمعرات کو این ایچ پی سی لمیٹڈ سے پن بجلی منصوبوں کی واپسی کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ مقامی آبی وسائل پر اختیار یونین ٹیریٹری کے عوام کے پاس ہونا چاہیے۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ جموں و کشمیر وافر پن بجلی صلاحیت رکھنے کے باوجود بجلی خریدنے پر بھاری مالی بوجھ برداشت کر رہا ہے۔انہوں نے کہا،’’پانی کے وسائل ہمارے ہیں، سب کچھ ہمارا ہے، پھر بھی ہمیں بجلی خریدنی پڑ رہی ہے‘‘، اور اس بات پر زور دیا کہ مقامی منصوبوں پر زیادہ کنٹرول ضروری ہے۔
یو این ایس کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب جموں و کشمیر میں پن بجلی منصوبوں کی ملکیت اور فوائد کے حوالے سے سیاسی بحث شدت اختیار کر رہی ہے، خاص طور پر جب نئے منصوبے مرکزی ایجنسیوں کے تحت تیار کیے جا رہے ہیں۔چودھری نے کہا کہ اگرچہ عمومی طور پر اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ جموں و کشمیر کو بجلی کے شعبے میں خود کفیل ہونا چاہیے، لیکن موجودہ نظام اس مقصد کو حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔انہوں نے مزید کہا، ‘‘ہر کوئی کہتا ہے کہ جموں و کشمیر خود کفیل بنے، لیکن بدقسمتی سے ہمارے اپنے منصوبوں کے باوجود ہمیں بجلی خریدنی پڑ رہی ہے۔ اگر آپ دیکھیں کہ ہم بجلی خریدنے پر کتنا خرچ کر رہے ہیں تو آپ حیران رہ جائیں گے۔اس سے قبل پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (پی ڈی پی) کے رکن اسمبلی وحید الرحمٰن پرّا نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے دو پن بجلی منصوبے این ایچ پی سی کے حوالے کرنے پر سوال اٹھایا تھا۔انہوں نے کہا تھا کہ 240 میگاواٹ یوری-I اسٹیج-II اور 260 میگاواٹ ڈل ہستی اسٹیج-II منصوبے، جن کی مجموعی صلاحیت 500 میگاواٹ ہے، این ایچ پی سی کو منتقل کیے گئے ہیں، جس سے مقامی فوائد اور طویل مدتی کنٹرول کے حوالے سے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔انہوں نے بجلی کی تقسیم کے طریقہ کار اور جموں و کشمیر کی توانائی خود مختاری پر اس کے اثرات پر بھی سوال اٹھایا تھا۔