جموں وکشمیر کے بجٹ اجلاس سے قبل ملاقات اہمیت کی حامل
نئی دہلی//جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ نے پیر کو نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے ملاقات کی، جس میں دونوں رہنماؤں نے مرکز کے زیر انتظام علاقے سے متعلق مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا۔ملاقات کی تفصیلات فوری طور پر دستیاب نہیں ہو سکیں۔یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب منتخب حکومت اور لیفٹیننٹ گورنر کی انتظامیہ کے درمیان تعلقات میں کشیدگی بڑھ رہی ہے۔ اس کے علاوہ، منتخب حکومت اور ایل جی کی انتظامیہ کے درمیان ٹرانزیکشن آف بزنس رولز پر ابھی تک حتمی اتفاق نہیں ہو سکا۔
وزیر اعلیٰ کے دفتر نے ایک ٹویٹ میں کہا’’وزیر اعلیٰ نے آج نئی دہلی میں مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ سے جموں و کشمیر کے متعلق مختلف امور پر بات چیت کی‘‘۔یہ ملاقات اس پس منظر میں ہوئی ہے جب ملک کے مختلف حصوں میں کشمیری شال فروشوں کے ساتھ بدسلوکی کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔جموں و کشمیر اسمبلی کا بجٹ سیشن فروری میں شروع ہونے والا ہے، اور مرکزی وزارت داخلہ کو یونین ٹیریٹریز کے لیے فنڈز کی مختص کرنے کی نگران وزارت کا درجہ حاصل ہے۔ماضی میں عمر عبد اللہ نے کہا تھا کہ مرکزی حکومت نے مالی امداد اور سرمایہ جاتی سکیموں کی فراہمی کے سلسلے میں مثبت رویہ اختیار کیا، لیکن ایل جی کے دفتر کے ساتھ تعلقات کشیدہ رہے ہیں۔انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایل جی نے محکمہ اطلاعات پر منتخب حکومت کا کنٹرول روکنے کے لیے ایک پوسٹ پر آئی اے ایس افسر کو مقرر کیا، جو کہ جے کے ایڈمنسٹریٹو سروسز کے لیے مخصوص تھی۔عبد اللہ نے عوامی سطح پر بھی جموں و کشمیر کے وزیر اعلیٰ کے دفتر کی ’’اختیارات کی کمی ‘‘پر آواز بلند کی ہے اور کہا کہ انہیں ملک کے سب سے بااختیار ریاست کی قیادت سے یونین ٹیریٹری میں منتقلی کی’’منفرد بدقسمتی ‘‘نصیب ہوئی، جہاں وزیر اعلیٰ کے اختیارات کسی بھی دیگر ریاست کے وزیر اعلیٰ سے کہیں کم ہیں۔ماضی میں میڈیا سے بات چیت میں عبد اللہ نے ایل جی کے دفتر کی طرف سے انتظامی ’’گلا دبانے‘‘ کی شکایت کی اور کہا کہ ایسے محکموں میں مداخلت کی گئی جو سیکورٹی یا قانون و انتظام کے امور سے متعلق نہیں تھے۔