عظمی نیوزسروس
جموں//وزیرِ اعلیٰ عمر عبداللہ نے اِس بات پر زور دیا کہ رِی ہیبلی ٹیشن اسسٹنس سکیم (آر اے ایس )کے عمل کو تیز کیا جائے اور یہ جائزہ لیا جائے کہ موجودہ خامیوںکو دُور کرنے اور تقرری کے عمل کی بروقت تکمیل کو یقینی بنانے کے لئے مزید اِصلاحات کی ضرورت ہے۔اُنہوںنے اِن باتوں کا اِظہار کنونشن سینٹرجموں میں صوبہ جموںکے 124مستفیدین کو جوآر اے ایس ، ایس آر او۔43اور ایس آر او ۔94کے تحت مقرر کئے گئے تھے ہمدردانہ بنیادوں پر تقرری نامے دینے کے دوران کیا۔وزیر اعلیٰ نے اِجتماع سے خطاب کرتے ہوئے مستحقین کو درپیش مشکلات اور عمل میں ہونے والی تاخیر کو تسلیم کیا۔اُنہوں نے کہا کہ ایس آر او۔43میں نظرثانی کا مقصد تقرریوں کو تیز کرنا تھا لیکن اس کے نفاذ کے دوران کچھ خامیاں سامنے آئی ہیں۔اُنہوں نے کہا’’ہم آپ کی مشکلات سے واقف ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ یہ عمل جتنا جلد مکمل ہونا چاہیے تھا، اتنا نہیں ہو سکا۔ اس سکیم میں مزید تبدیلیوں کی ضرورت ہے تاکہ تقرریاں تیزی اور مؤثر انداز میں مکمل ہوں‘‘۔وزیر اعلیٰ نے مزید کہا کہ حکومت اس سکیم کو بہتر بنانے کے لئے پُرعزم ہے تاکہ مستقبل میں اس قسم کی تاخیر کم سے کم ہو۔اُنہوں نے یقین دِلایا کہ ایسا نہیں ہونا چاہیے کہ گزشتہ برسوں میں ہونے والی تقرریاں بہت بعد میں کی جائیں۔اُنہوں نے اَپنے جذباتی خطاب میں کہا کہ اگرچہ سرکاری ملازمت عام طور پر خوشی کا لمحہ ہوتی ہے لیکن آر اے ایس کے تحت دی جانے والی تقرریاں ایک ناقابلِ تلافی ذاتی نقصان کے بعد ملتی ہیں۔وزیرا علیٰ نے کہا’’عام طور پر سرکاری نوکری حاصل کرنا زندگی کا خوشگوار ترین دن ہوتا ہے لیکن آپ کے معاملے میں یہ کسی عزیز کے کھو جانے کے بعد آتا ہے۔ آپ جس صدمے سے گزرتے ہیں وہ کسی بھی امتحان سے کہیں زیادہ سخت ہوتا ہے بلکہ کئی لحاظ سے مشکل ترین مقابلہ جاتی امتحانات سے بھی زیادہ کٹھن ہے‘‘۔اُنہوں نے کہا کہ وہ خود تقرری نامے دینے کے لئے اس لئے آئے تاکہ متاثرہ کنبوں کے ساتھ حکومت کی ہمدردی اور یکجہتی کا اِظہار کر سکیں۔اُنہوں نے کہا’’ہم یہ احکامات آپ کے گھروں تک بھیج سکتے تھے لیکن میں یہاں آ کر یہ یقین دِلانا چاہتا ہے کہ حکومت اس مشکل وقت میں آپ کے ساتھ شانہ بہ شانہ کھڑی ہے‘‘۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے تقرریوں کی حوصلہ اَفزائی کرتے ہوئے اُن پر زور دیا کہ وہ دیانت داری اور لگن کے ساتھ لوگوںکی خدمت کریں۔ اُنہوں نے کہا کہ بہت سے استفادہ کنندگان دُور دراز علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں اور عام لوگوں کو درپیش مسائل سے بخوبی واقف ہیں۔اُنہوں نے کہا’’اَب آپ کو جموں و کشمیر کے عوام کی خدمت کا موقعہ ملا ہے۔ آسان راستے اختیار کرنے کی ترغیب ہو سکتی ہے لیکن حقیقی اطمینان لوگوں کی مشکلات کو خلوص نیت سے حل کرنے میں ہے‘‘۔وزیر اعلیٰ نے حکومتی تعاون کا اعادہ کرتے ہوئے کہا’’میں اور میرے ساتھی ہمیشہ دستیاب ہیں۔ اگر آپ کو کسی بھی قسم کی مشکل پیش آئے تو بلا جھجھک رابطہ کریں، ہم ہر ممکن مدد کریں گے‘‘۔اُنہوں نے اپنی نیک خواہشات کا اِظہار کرتے ہوئے اُن کی کامیابی کے لئے دُعا کی اور اُن پر زور دیا کہ وہ عوامی خدمت کے لئے عزم کے ساتھ کام کریں۔اِس موقعہ پر وزیر اعلیٰ کے مشیر ناصر اسلم وانی نے کہا کہ اگرچہ کسی عزیز کے نقصان کا کوئی نعم البدل نہیں ہو سکتا، تاہم اس طرح کی تقرریاں متاثرہ کنبوں کو جذباتی مدداور فوری اِمداد فراہم کرنے کے لئے کی جاتی ہیں۔اِس موقعہ پر کمشنر سیکرٹری جنرل ایڈمنسٹریشن ڈیپارٹمنٹ ایم راجو،صوبائی کمشنر جموں رمیش کمار،ضلع ترقیاتی کمشنر جموں راکیش منہاس، سینئر اَفسران، مقررین اور ان کے اہلِ خانہ بھی موجود تھے۔
متعدد عوامی نمائندوں اور وفود کی وزیراعلیٰ سے ملاقات
عظمی نیوزسروس
جموں//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جموں میں عوامی نمائندوں، سابق اراکین اسمبلی، اَفسران اور مختلف وفود کے ساتھ سلسلہ وار ملاقاتیں کیں۔رُکن قانون ساز اسمبلی راجیو جسروٹیہ نے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی اور اَپنے حلقہ اِنتخاب سے متعلق متعدد مسائل سے آگاہ کرتے ہوئے ان کے بروقت حل کے لئے مداخلت کی درخواست کی۔سابق وزیر اور صدر جاٹ سبھا جموں و کشمیر منجیت سنگھ کی قیادت میں ایک وفد نے سابق وزرأ، سابق ممبر پارلیمنٹ اور دیگر نمائندگان کے ساتھ بھی وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی اور مختلف عوامی مسائل پر تبادلۂ خیال کیا۔سابق سٹیٹ الیکشن کمشنربی آر شرما نے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی اور عوامی اہمیت کے امور پر گفتگو کی۔چیئرپرسن جموں و کشمیر بی او پی اِی اِی ڈاکٹر مینو مہاجن نے وزیر اعلیٰ کو بورڈ آف پروفیشنل اَنٹرنس ایگزام نیشنز کی کارکردگی اور جاری اقدامات کے بارے میں آگاہ کیا۔بعد میں چیئرمین جموں چپٹر این آئی آر سی آف اِنسٹی چیوٹ آف کمپنی سیکرٹریز آف اِنڈیاڈاکٹر انوج وید نے وزیر اعلیٰ سے ملاقات کی اور مختلف پیشہ ورانہ اور ادارہ جاتی امور پر تبادلہ خیال کیا۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے تمام وفود کو بغور سُنا اور یقین دِلایا کہ اُٹھائے گئے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا۔اُنہوں نے عوامی مسائل کے فوری ازالے اور جوابدہ طرزِ حکمرانی کے لئے حکومت کے عزم کا اعادہ کیا۔