عظمیٰ ویب ڈیسک
ملائیشیا آسیان اور ہند۔بحرالکاہل خطے میں بھارت کا ایک اہم شراکت دار ہے اور بھارت کا ایکٹ ایسٹ پالیسی کا ایک ایک کلیدی کردار رکھتا ہے۔ملائیشیا کے وزیرِ اعظم انور ابراہیم کے 19سے21اگست 2024تک بھارت کے سرکاری دورے کے دوران بھارت۔ملائیشیا دو طرفہ تعلقات کو ’جامع اسٹریٹجک شراکت داری‘ کے درجے تک فائز کیا گیا۔وزیرِ اعظم کے ملائیشیا کے دورے کے دوران 2015میں اس سے قبل تعلقات کو ’مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری‘ کے درجے تک لے جایا گیا تھا۔
وز رائے اعظم کی ملاقاتوں کا اجمالی خاکہ
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے اس سے قبل برازیل کے شہر ریو ڈی جنیرو میں منعقدہ برکس سربراہی اجلاس کے موقع پر 6جولائی، 2025کو وزیرِ اعظم انور ابراہیم سے ملاقات کی تھی. وزیرِ اعظم مودی نے 22ویں آسیان۔بھارت سربراہی اجلاس میں بھی ورچوئل طور پر شرکت کی، جس کا انعقاد 26اکتوبر 2025کو کوالالمپور میں ہوا تھا۔دونوں وزرائے اعظم کے درمیان مورخہ 22اکتوبر، 2025کو ٹیلی فون کال پر بات چیت بھی ہوئی۔دونوں وزرائے اعظم نے ملائشیائی وزیرِ اعظم انور ابراہیم کے بھارت کے سرکاری دورے کے دوران 20اگست 2024کو دو طرفہ مذاکرات کیے۔ دونوں رہنماؤں کی یہ مختصر ملاقات ستمبر 2023میں جکارتہ میں منعقدہ آسیان۔بھارت سربراہی اجلاس کے موقع پر بھی ہوئی تھی۔دونوں رہنماؤں کی ملاقات 2019(10جنوری، 2019) میں اس وقت ہوئی تھی جب وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے پیپلز جسٹس پارٹی (پی کے آر) کے صدر کی حیثیت سے رائسینا مذاکرات میں شرکت کی غرض سے بھارت کا دورہ کیا۔وزیرِ اعظم انور نے جون 2024میں وزیرِ اعظم مودی کو ان کی تاریخی تیسری مدت کے انتخابی فتح پر مبارکباد دی اور بھارت کی معیشت میں ان کی قیادت میں ہونے والی تاریخی بدلاؤ کی ستائش کی۔وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے 2023کو 23اگست کو چاند کے جنوبی قطبی علاقے میں بھارتی خلائی جہاز چندریان-3کی کامیاب لینڈنگ پر ہمارے وزیرِ اعظم اور بھارت کے عوام کو مبارکباد دی۔وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے 24اگست کو فیس بک پر اپنے پیغام میں لکھا’’بھارت نے اب چاند پر ایک اہم سنگِ میل حاصل کر لیا ہے، اور میں اس کامیابی کو صرف بھارت کی کامیابی نہیں بلکہ ایشیا اور اس کے تمام شہریوں کی کامیابی بھی سمجھتا ہوں۔ ملائیشیا بھی اس کامیابی پر فخر محسوس کرتا ہے، اور واقعی یہ ایشیاء کی صدی ہے‘‘۔
اعلی سطحی ملاقاتیں / دورے
وزیرِ اعظم نریندر مودی نے 21-23نومبر سے 2015تک ایک سرکاری دورے پر ملائیشیا کا دورہ کیا اور بعد ازاں 31مئی، 2018 کو کوالالمپور میں مختصر قیام بھی کیا۔وزیرِ اعظم انور ابراہیم نے 19-21اگست سے 2024تک ایک سرکاری دورے پر 5کابینہ وزرا کے ہمراہ بھارت کا دورہ کیا۔وزیرِ خارجہ (ای اے ایم) ڈاکٹر ایس جئے شنکر نے وزیرِ اعظم کی جانب سے بھارت کی نمائندگی کرتے ہوئے 26-28اکتوبر، 2025کو کوالالمپور، ملائیشیا کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے 20ویں مشرقی ایشیا سربراہی اجلاس میں شرکت کی. وزیرِ خارجہ (ای اے ایم) نے 27-28مارچ 2024کو ملائیشیا کا سرکاری دورہ کیا۔وزیرِ دفاع راجناتھ سنگھ نے 12ویں آسیان ڈیفنس منسٹرز میٹنگ پلس (اے ڈی ایم ایم پلس) میں شرکت کے لیے 20اکتوبر 2025سے 01نومبر 2025تک ملائیشیا کا دورہ کیا. وزیرِ دفاع نے اس سے قبل 10سے11جولائی، 2023کو ملائیشیا کا سرکاری دورہ بھی کیا تھا۔آسیان۔بھارت سیاحت کے سال کے سلسلے میں منعقد ہونے والے کوالالمپور میں ملائیشین ایسوسی ایشن آف ٹور اینڈ ٹریول ایجنٹس (میٹا) فیئر میں بھارت۔آسیان سیاحتی پویلین کا افتتاح کرنے کی غرض سے وزیرِ مملکت برائے خارجہ امور اور ٹیکسٹائل جناب پبترا مارگریٹا نے 18–سے19اپریل، 2025کے دوران ملائیشیا کا دورہ کیا۔ آسیان۔بھارت وزرائے خارجہ اجلاس میں شرکت کی غرض سے وزیرِ مملکت (وزیرِ اعظم) نے10-11جولائی 2025کو دوبارہ ملائیشیا کا دورہ کیا۔وزیرِ مملکت برائے خارجہ امور کرتی وردھن سنگھ نے 14-16ستمبر سے 2024تک ملائیشیا کا دورہ کیا۔وزیرِ مملکت سنجے سیٹھ نے مئی 2025میں لانگکاوی میں دفاعی وفد کی قیادت کی، جہاں انہوں نے لانگکاوی انٹرنیشنل میری ٹائم اینڈ ایروسپیس (لیما) نمائش میں شرکت کی اور دو باہمی مذاکرات میں حصہ لیا۔ملائیشیا کی آسیان کی صدارت (2025) کے دوران متعدد وزارتی سطح کے دورے کیے گئے۔ان میں سے بعض دورے درج ذیل ہیں:(الف) وزیرِ سیاحت و ثقافت گجیندر سنگھ شیخاوت کا 20جنوری 2025کو آسیان۔بھارت وزارتی اجلاس میں شرکت کے لیے جوہور، ملائیشیا کا دورہ؛ (ب) وزیرِ مملکت (کامرس و آئی ٹی) جتن پرساد کا 22ویں اے ای ایم۔بھارت اجلاس میں شرکت کے لیے ملائیشیا کا دورہ وغیرہ۔کامن ویلتھ کے اسپیکرز اور صدر افسران کی 28ویں کانفرنس (CSPOC) میں شرکت کی غرض سے ٹان سری جوہری بن عبدال، اسپیکر ہاؤس آف ریپریزنٹیٹیوز ملائیشیا نے 13-16جنوری سے 2026تک بھارت کا دورہ کیا۔گوبند سنگھ دیو، وزیر برائے ڈیجیٹل امور ملائیشیا نے جنوری 2025میں پرواسی بھارتیہ دیوس کی تقریبات میں شرکت کے لیے بھوبنیشور، اوڈیشہ کا دورہ کیا۔ملائیشیا کے سابق وزیرِ اعظم ڈاٹو سری محمد نجیب تون رزاق نے وزیرِ اعظم کی حیثیت سے بھارت کا چار بار دورہ کیا ( 2010,2012,2017اور 2018)۔ملائیشیا کے سابق وزیرِ خارجہ، ڈاٹو سری دیراجہ ڈاکٹر ضمبری عبدال قادر نے وزیرِ خارجہ کی حیثیت سے بھارت کا اپنا پہلا سرکاری دورہ 5-8نومبر، 2023کو کیا، جہاں انہوں نے وزیرِ خارجہ ڈاکٹر ایس جئے شنکر کے ساتھ 6ویں بھارت۔ملائیشیا مشترکہ کمیشن اجلاس کی مشترکہ صدارت کی۔
باہمی تعاون
دونوں ممالک کے درمیان دو طرفہ تجارت بتدریج بڑھتی رہی اور مالی سال 2024-25میں 19.85ارب امریکی ڈالر تک پہنچ گئی۔ملائیشیا آسیان میں ہمارا 3تسیرا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ملائیشیا کی بھارت میں تیل و قدرتی گیس، قابلِ تجدید توانائی، صحت کی دیکھ بھال، انفراسٹرکچر اور دیگر شعبوں میں مجموعی سرمایہ کاری تقریباً 3.3ارب امریکی ڈالر ہے۔بھارتی کمپنیوں نے ملائیشیا میں تقریباً 2.62ارب امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ملائیشیا میں150سے زیادہ بھارتی کمپنیاں کام کر رہی ہیں۔ان میں نمایاں کمپنیاں بائیوکان، ارکون، اور آئی ٹی کمپنیاں جیسے ٹیک مہندرا، انفوسِس، ٹی سی ایس وغیرہ شامل ہیں۔بھارت اور ملائیشیا کے درمیان تجارت، دیگر کرنسیوں میں موجودہ تصفیے کے طریقوں کے علاوہ 1اپریل 2023سے بھارتی روپیہ میں بھی کی جا سکے گی۔دونوں ممالک ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے شعبے میں بھی تعاون کر رہے ہیں۔اگست 2024میں دستخط شدہ ڈیجیٹل ٹیکنالوجیز کے معاہدے کے تحت ملائیشیا۔بھارت ڈیجیٹل کونسل قائم کی گئی۔کونسل کا پہلا اجلاس اگست 2025میں منعقد کیا گیا۔ہمارا ملائیشیا کے ساتھ فعال دفاعی تعاون ہے، جس میں باقاعدہ مذاکرات، دو طرفہ مشقیں اور استعداد سازی کا تعاون شامل ہے۔دو طرفہ فوجی مشق، ہارِماو شکتی کے 5ویں ایڈیشن کا انعقاد 05-18دسمبر، 2025کو راجستھان میں کیا گیا۔
عوامی روابط
ملائیشیا میں دنیا کی تیسری سب سے بڑی بھارتی برادری (2.9ملین) اور دنیا کی دوسری سب سے بڑی پی آئی او کمیونٹی (2.75ملین) موجود ہے۔اپراواسی دیوس یا پی آئی او ڈے کی تقریبات ہر سال کوالالمپور، ملائیشیا میں 2023سے منعقد کی جاتی ہیں۔آخری تقریب 11جولائی 2025کو منعقد ہوئی اور اس کا افتتاح وزیرِ مملکت (وزیرِ اعظم) پبترا مارگریٹا اور اُس وقت کی ملائیشیا کی نائب وزیر برائے قومی اتحاد، سنیٹر پوان سری سراسوتھی کنداسامی نے کیا۔ملائیشیا نے دسمبر 2023سے بھارتی شہریوں کے لیے ویزا فری سفر کی اجازت مرحمت فرمائی ہے۔اسی طرح ملائیشیائی شہری جولائی 2024سے بھارت کا مفت سیاحتی ویزا لے کر دورہ کر سکتے ہیں (جو دسمبر 2026 تک مؤثر ہے)۔تقریباً 1.4ملین بھارتی سیاحوں نے 2025میں ملائیشیا کا دورہ کیا، جبکہ تقریباً 300,000ملائیشیائی سیاح (جو آسیان کے رکن ممالک میں سب سے زیادہ ہیں) نے بھارت کا دورہ کیا۔
ثقافتی روابط
کوالالمپور کے علاقے برک فیلڈز میں واقع تورانا گیٹ بھارت کی طرف سے ملائیشیا کو دونوں ممالک کے درمیان مسلسل دوستی کی علامت کے طور پر دیا گیا ایک تحفہ ہے۔تورانا گیٹ کا افتتاح بھارت کے وزیرِ اعظم نریندر مودی اور اُس وقت کے ملائیشیا کے وزیرِ اعظم نجیب رزاق نے مشترکہ طور پر 23نومبر 2015کو کیا تھا۔نئی چانسیری پروجیکٹ سائٹ کوالالمپور میں 18جون 2023کو نیتاجی سبھاش چندر بوس کا مجسمہ نصب اور رونمائی کی گئی۔اگست 2024میں ملائیشیا کے وزیرِ اعظم کے بھارت کے سرکاری دورے کے دوران وزیرِ اعظم مودی کے اعلان کے بعد، ملائیشیا کی یونیورسٹی ٹنکو عبدالرحمن (UTAR) میں آیوروید چیئر قائم کی گئی۔ یہ چیئر ستمبر 2024 میں فعال کی گئی۔اگست 2024 میں وزیرِ اعظم کے اعلان کے بعد کوالالمپور کی یونیورسٹی ملایا میں ہندوستانی علوم کی تعلیم کے لیے ترووالّور چیئر قائم کی گئی ہے۔یہ چیئر اکتوبر 2025میں فعال کی گئی۔
(مضمون بشکریہ وزارت خارجہ ،حکومت ہند)