عظمیٰ نیوز سروس
نئی دہلی //پارلیمنٹ میں جاری بجٹ اجلاس کے دوران زبردست ہنگامہ دیکھنے کو مل رہا ہے۔ خاص طور سے لوک سبھا میں گزشتہ 3دنوں میں ہنگامہ کے سبب کئی بار کارروائی ملتوی ہوئی، اور کل تو وزیر اعظم نریندر مودی کی مقرر کردہ 5بجے کی تقریر بھی نہیں ہو پائی۔ ایوانِ زیریں میں شدید ہنگامہ کے سبب تیسرے دن بھی صدر جمہوریہ کی تقریر پر شکریہ کی تحریک پر بحث ٹھیک طرح نہیں ہو سکی۔ وزیر اعظم مودی شام 5 بجے لوک سبھا میں ’شکریہ کی تحریک‘ پر بحث کا جواب دینے والے تھے، جو کہ ہنگامہ کی نذر ہو گیا۔لوک سبھا کی کارروائی جب آج 5 بجے شام میں شروع ہوئی تو اپوزیشن پارٹیوں کے اراکین پوسٹر لے کر چیئر کے قریب پہنچ گئے۔ کانگریس، ترنمول کانگریس اور سماجوادی پارٹی کے کچھ اراکین تیزی سے بی جے پی اراکین پارلیمنٹ کے پاس بھی پہنچ گئے۔ یہ ناراض تھے کیونکہ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ کو کچھ بھی بولنے کا موقع نہیں دیا جا رہا تھا۔ کچھ اپوزیشن اراکین پارلیمنٹ نے پارلیمانی امور کے وزیر کرن رجیجو، انوراگ ٹھاکر اور اشونی ویشنو سے بات چیت کرنی چاہی، لیکن برسراقتدار طبقہ بھی ہنگامہ آرائی پر آمادہ دکھائی دیا۔ ہنگامہ دھیرے دھیرے بڑھتا گیا اور ایوان کو چلا رہی سندھیا رائے نے ایوان کی کارروائی دن بھر کے لیے ملتوی کرنے کا اعلان کر دیا۔ دلچسپ امر یہ ہے کہ پی ایم مودی ’شکریہ کی تحریک‘ پر بحث کا جواب دینے ایوان میں داخل بھی نہیں ہو پائے۔ سندھیا رائے نے پی پی چودھری سے بولنے کے لیے کہا، تو اپوزیشن اراکین تختیاں لے کر ویل میں پہنچ گئے اور نعرہ بازی کرنے لگے۔ اپوزیشن لیڈران کئی باتوں کو لے کر اپنی ناراضگی ظاہر کر رہے تھے۔ برسراقتدار طبقہ کے لیڈران بھی کئی بار اپنی آواز بلند کرتے نظر آئے۔ آج دن بھر اسی طرح کی رخنہ اندازی دیکھنے کو ملی۔ پہلے تو کل صبح کارروائی 12 بجے تک کے لیے ملتوی ہوئی تھی۔ اس کے بعد 2 بجے، اور پھر 5 بجے تک کے لیے ملتوی کی گئی تھی۔ 5بجے کے بعد جب حالات بہتر ہوتے نظر نہیں آئے، تو کل صبح 11 بجے تک کے لیے ایوان کی کارروائی ملتوی کر دی گئی۔اس سے قبل دو مرتبہ ملتوی ہونے کے بعد جیسے ہی دوپہر دو بجے کارروائی شروع ہوئی اپوزیشن ارکان نعرے بازی کرتے ہوئے ایوان کے وسط میں آ گئے۔ پریزئیڈنگ افسر کرشن پرساد تنٹی نے ہنگامے کے درمیان صدر کے خطاب پر بحث کو آگے بڑھاتے ہوئے تیلگو دیشم پارٹی کے جی ایم ہریش بالیوگی کا نام پکارا۔اس سے پہلے لوک سبھا میں اپوزیشن ارکان نے کانگریس کے آٹھ اراکین کو بجٹ اجلاس کے لیے معطل کیے جانے کے خلاف بدھ کو زبردست ہنگامہ کیا جس کے باعث اسپیکر اوم برلاکو کارروائی شروع ہونے کے پانچ منٹ کے اندر ہی دوپہر بارہ بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔اسپیکر نے ہنگامے کے درمیان ہی وقفہ سوالات چلانے کی کوشش کی لیکن اپوزیشن ارکان نے شور شرابہ مزید بڑھا دیا۔ اس دوران چند ارکان نے سوالات بھی پوچھے اور ان کے جوابات بھی دیے گئے مگر شور و غل کے باعث کچھ سنائی نہیں دیاجس کے باعث کارروائی بارہ بجے تک ملتوی کرنی پڑی۔کارروائی دوبارہ بارہ بجے شروع ہوتے ہی اپوزیشن ارکان نے سابق آرمی چیف کی غیر شائع شدہ کتاب کے اقتباسات کا حوالہ دیتے ہوئے نعرے بازی اور ہنگامہ شروع کر دیا۔ کانگریس، ڈی ایم کے، ترنمول کانگریس، سماج وادی پارٹی اور نیشنلسٹ کانگریس پارٹی (شرد پوار) کے ارکان اپنی نشستوں پر کھڑے ہو کر شور شرابہ اور نعرے بازی کرنے لگے۔ ان کے ہاتھوں میں بڑے بڑے بینر بھی تھے اور وہ وزیر اعظم کا نام لے کر نعرے لگا رہے تھے۔کئی اپوزیشن ارکان بینر لے کر اسپیکر کی نشست کے سامنے آ گئے تھے۔ بینروں پر وزیر اعظم، وزیر دفاع راجناتھ سنگھ اور سابق آرمی چیف منوج مکند نرونے کی تصاویر تھیں۔ سماج وادی پارٹی کے ارکان اہلیہ بائی ہولکر کی تصویر لے کر وارانسی کے منی کرنیکا گھاٹ پر ان کے مجسمے کو مبینہ طور پر نقصان پہنچائے جانے کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔ اپوزیشن نے ان مسائل پر منگل کو بھی ہنگامہ کیا تھا۔ گوئل کا بیان مکمل ہونے کے بعد اسپیکر اوم برلا نے شور شرابہ کر رہے ارکان سے کہا کہ ان کے اس طرز عمل سے لوگوں کا جمہوریت پر اعتماد کم ہوگا تاہم جب بات نہ بنی تو ایوان کی کارروائی پانچ بجے تک ملتوی کی گئی اور پھر بھی معاملات درست نہ ہوئے تو کارروائی کل تک کیلئے ملتوی کردی گئی۔