جموں//نیشنل پنتھرس پارٹی کے سرپرست اعلی اور سپریم کورٹ کے سینئروکیل پروفیسر بھیم سنگھ نے و زیراعظم نریندر مودی کے لیہہ ، کارگل ، سری نگر دوروں اور شیرکشمیر ایگریکلچر یونیورسٹی کے آر ایس پورہ ، جموں میں ، جو بین الاقوامی سرحد سے دس بارہ کلومیٹر ہی دور ہے اور جہاں پاکستانی فوج نے گزشتہ روز ہی بی ایس ایف کے جوان اور کچھ عام شہریوں کو ہلاک کیا ہے، ان کی موجودگی تعریف کی۔ وزیراعظم کے ہمراہ جموں وکشمیر کے گورنر این این ووہرہ بھی پورے دن رہے۔ اپنے ایک روزہ دورہ کے دوران وزیراعظم نے لداخ میں کوشوک باکولہ صدی تقریب، کارگل سرنگ کا افتتاح، کشن گنگا ہائیڈرولک پاور کے 330میگاواٹ کے پروجیکٹ کا افتتاح سمیت کئی تقاریب میں شرکت کی۔ وہ ایسے پہلے وزیراعظم ہیں جنہوں نے اپنی ٹیم کے ساتھ لداخ سمیت پورے جموں وکشمیرکاایک دن میں دورہ کیا جس کے لئے گورنر این این ووہر تعریف کے حقدار ہیں۔مسٹر مودی کے اس دورہ کو گنیز بک آف ریکارڈ میں ریکارڈ کیا جانا چاہئے لیکن اس دورہ کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے جسے ان کے مداحوں اور آر ایس ایس کے دگجوں کو نوٹ کرنا چاہئے وہ یہ کہ وزیراعظم اپنی تقریر کا اختتام جے ہندپر کرنے میں ناکام رہے جبکہ انہیں ایسا کرنے میں کوئی دقت نہیں ہوتی کیونکہ سامعین انکی تقریر کے دوران مسلسل ان کی ستائش کررہے تھے۔ ملک کے میرے کئی دوستوں نے یہ سوال اٹھایا ہے کہ وزیراعظم سری نگر میں اپنی تقریر کا اختتام ’جے ہند ‘ پر کرنے میں کیوں ناکام رہے۔ بی جے پی کی بیساکھیوں پر حکومت چلانے والی وزیراعلی محبوبہ مفتی کو بھی اپنی تقریر کا اختتام جے ہند پر کرنے میں کوئی پریشانی نہیں ہونی چاہئے تھی۔ ملک کے کونے کونے سے یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ وزیراعظم جموں وکشمیر کے لوگوں کو ’جے ہند‘ کے ذریعہ اپنا پیغام دینے میں کیوں ناکام رہے۔پروفیسر بھیم سنگھ نے کہاکہ وزیراعظم کے لداخ، کشمیر اور جموں کے ایک روزہ دورہ سے فوائد اور نقصانات پر ایک نوٹ لکھیں گے۔