عظمیٰ نیوزسروس
سرینگر//وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جمعرات کو کہا کہ احتجاج کا مقام یا طریقہ کار بدل سکتا ہے لیکن نیشنل کانفرنس کا20جولائی کو نئی دہلی کا سفر طے شدہ پروگرام کے مطابق آگے بڑھے گا۔صحافیوں سے بات کرتے ہوئے، وزیر اعلیٰ اورنیشنل کانفرنس کے نائب صدر عمر عبداللہ نے کہا کہ جگہ اور انداز بدل سکتا ہے، لیکن دہلی جانے کا منصوبہ نہیں ۔انہوں نے کہا کہ ہم اس پروگرام کو کسی کونے میں چھپ کر نہیں چلائیں گے،ہم دہلی جائیں گے اور وہاں اپنی آواز اٹھائیں گے۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا مجوزہ احتجاج سے پہلے دیگر پروگراموں کے اعلانات تخریب کاری کے مترادف ہیں یا رُخ موڑنے کے مترادف ، وزیر اعلیٰ نے کوئی تبصرہ کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ وہ اس میں نہیں جائیں گے کہ یہ سبوتاژ ہے یا رُخ موڑنا۔انہوں نے دہرایا کہ پارٹی اپنے دہلی پروگرام کو آگے بڑھائے گی۔وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے کہا کہ اگر ہم یہ پروگرام خفیہ طور پر منعقد کرنا چاہتے تو ہم اپنے گھر کے صحن میں کر سکتے تھے۔انہوںنے کہاکہ ہم دہلی جائیں گے اور کسی نہ کسی طرح وہاں اپنی آواز اٹھائیں گے اور اس کے بعد ہم آئندہ کا لائحہ عمل طے کریں گے۔
اس دوران عمر عبداللہ نے کہا کہ جو لوگ سیاست کرنا چاہتے ہیں انہیں تعزیت کے لیے آنے کی ضرورت نہیں ہے۔انہوں نے سیاسی رہنماؤں کوپیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر آپ سیاست کرنا چاہتے ہیں تو تعزیت کے لیے مت آئیں، آپ ہمدردی کے اظہار کیلئے ہمارے گھر آتے ہیں اور پھر سیاسی بیانات دینے کیلئے باہر نکلتے ہیں۔ غم اور سیاست کو آپس میں نہیں ملانا چاہیے۔انہوں نے مزید کہا کہ وہ سوگ کے دوران سیاست پر بات نہیں کریں گے۔ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے سماجی کارکن سونم وانگچک کی صحت پر تشویش کا اظہار کیا، جو نئی دہلی میں 19دنوں سے بھوک ہڑتال پر ہیں۔ عمر عبداللہ نے کہا کہ یہ حیرت کی بات ہے کہ وانگچک نے مبینہ طور پربھوک ہڑتال کے دوران تقریباً 9کلو وزن کم کرنے کے باوجود، حکومت نے بات چیت شروع کرنے یا بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لیے انہیں قائل کرنے کی کوئی کوشش نہیں کی۔انہوںنے کہاکہ سیاست اپنی جگہ ہے، لیکن انسانیت اور ہمدردی کو پہلے آنا چاہیے۔ وزیر اعلیٰ نے کہاکہ انا ہزارے کی بھوک ہڑتال کے دوران ڈاکٹر منموہن سنگھ کی قیادت میں اس وقت کی حکومت نے وزراء کو بات چیت کے لیے بھیجا اور انہیں بھوک ہڑتال ختم کرنے کے لئے راضی کیا، لیکن کسی نے سونم وانگچک سے بات کرنے کی کوشش تک نہیں کی۔عمر عبداللہ نے کہا کہ ہمیں نہیں معلوم کہ حکومت آگے کیا کرے گی، لیکن ہمیں ان کی صحت کی فکر ہے۔وزیر اعلیٰ نے اس بات پر زور دیا کہ اختلافات اپنی جگہ، تاہم ایسے معاملات میں انسانی ہمدردی، مکالمہ اور برداشت کو ترجیح دی جانی چاہیے۔