یواین آئی
نئی دہلی// بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مغربی بنگال حکومت پر الزام لگایا ہے کہ وہ کولکتہ کے قریب آنندپور میں وائو مومو کے گودام میں آتشزدگی کے واقعے کے ذمہ دار بااثر افراد کو بچا رہی ہے اور اسی بنیاد پربی جے پی نے ہفتے کے روز اس واقعے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں جانچ کرانے کا مطالبہ کیا۔بی جے پی نے کہا کہ صرف جنوری کے مہینے میں ہی مغربی بنگال میں کم از کم پانچ مقامات پر مختلف فیکٹریوں میں آگ لگنے کے واقعات پیش آ چکے ہیں، جو اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ ریاست میں تجارتی اداروں میں فائر سیفٹی اور راحت رسانی کے قوانین پر عمل درآمد نہیں کرایا جا رہا ہے۔پارٹی کے قومی ترجمان گروپرکاش نے بی جے پی ہیڈکوارٹر میں ایک پریس کانفرنس کے دوران خبروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ آنندپور فیکٹری حادثے میں کم از کم 27 غریب اور محنت کش افراد کی جان چلی گئی جبکہ کئی افراد لاپتہ ہیں۔ انہوں نے اس حادثے کو ہولناک اور دل دہلا دینے والا قرار دیتے ہوئے کہا کہ وائو مومو کے سربراہ وزیر اعلیٰ ممتا بنرجی کے قریبی ہیں، اسی لیے ریاستی حکومت اس معاملے پر خاموش ہے۔ فیکٹری کے گودام مینیجر اور چند نچلی سطح کے اہلکاروں کے خلاف کارروائی کر کے حکومت نے محض خانہ پْری کی ہے اور اتنے بڑے واقعے پر خاموشی اختیار کر لی ہے۔بی جے پی نے میڈیا میں شائع ہونے والی ایک تصویری رپورٹ دکھاتے ہوئے کہا کہ واو مومو کے سربراہ وزیر اعلیٰ کے قریبی ہیں اور وہ ان کے ساتھ میڈرڈ کے دورے پر بھی گئے تھے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں قانون نہیں ہے بلکہ ایک شخص کی حکمرانی ہے۔ آنندپور فیکٹری حادثے پر حکومت کی جانب سے کوئی ردِعمل نہیں آیا ہے۔محترمہ ممتا بنرجی کسی نجی کمپنی پر ای ڈی کے چھاپے کے دوران فوراً وہاں پہنچ جاتی ہیں، لیکن آنندپور فیکٹری میں اب تک نہیں گئیں جو ان کی عدم حساسیت کو ظاہر کرتا ہے۔ کارروائی کے نام پر محض خانہ پْری کی جا رہی ہے۔بی جے پی کے ترجمان مسٹر گروپرکاش نے کہا کہ آتشزدگی کے واقعات کی جواب دہی طے ہونی چاہیے۔ ریاستی اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف شبھندو ادھیکاری نے لوگوں کے ساتھ متعلقہ تھانے جا کر آنندپور فیکٹری آتشزدگی میں جواب دہی طے کرنے کے مطالبے پر احتجاج کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی آنندپور کے واقعے کی سپریم کورٹ کی نگرانی میں خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) سے جانچ کرانے، اور اس کے ذمہ دار بڑے مگرمچھوں کے خلاف قانونی شکنجہ کسنے کا مطالبہ کرتی ہے۔