جموں//شہر جموں میں صحت و صفائی کے معیار کو بہتر بنائے رکھنے کی ذمہ داری جموں میونسپل کارپوریشن کی ہے لیکن یہ ذمہ داری نبھانے میں جموں میونسپل کارپوریشن یکسرناکام ہوچکاہے۔ قابل ذکر بات ہے کہ اس شہر کے نظم و و نسق کی ذمہ داری اس سے کئی سال قبل جموں میونسپل کمیٹی سنبھالتی تھی ، شہر میں عوام کو بہتر سہولیات فراہم کرنے کے لئے اسے کمیٹی سے کارپوریشن میں تبدیل کردیا ، مقصد یہ تھا کہ عوام کو دستیاب سہولیا ت میں بہتری لائی جائے مگر اس اس ادارے پر یہ ضرب المثل بلکل صادق آتی ہے کہ’’ ڈھاک کے وہی تین پات‘‘اس وقت شہر جموں میں صحت و صفائی کی جکو حالت ہے وہ روز روشن کی طرح عیاں ہے۔ شہر کے کسی بھی علاقہ کو لیجئے سڑکیں ٹوٹی پھوٹی ہیں ، نالیاں گندگی سے بھر ی پڑی ہیں ، گلیوں میں جگہ جگہ کوڑا کرکٹ پڑا ہوا ہے جس کی وجہ سے عوام پریشان ہیں ۔کارپوریشن کے وارڈ 71کے عوام نے کشمیر عظمیٰ کو بتایاکہ اس وارڈ میں توی وہار کالونی میں ہی صفائی کرمچاری آتے ہیں اور صبح شام صفائی ہوتی ہے ، پانی کی سپلائی بھی باضابطہ طور پر ہوتی ہے جبکہ اس وارڈ کے دیگر حصوں میں نہ توصفائی کرم چاری ہی آتے ہیں اور نہ ہی پانی کی سپلائی کا کوئی ضابطہ ہے کبھی 15دن کے بعد تو کبھی دس دن کے بعد سپلائی کیا جاتا ہے ایسا اس لئے کیا جاتا ہے کہ توی وہار میں بااثر لوگ رہتے ہیں جن ریٹائرڈ اور ان سروس اعلیٰ حکام شامل ہیں جبکہ اس کالونی کے باہر لوگوں کا کوئی اثر و رسوخ نہیں ہے ۔ صحت وصفائی سے متعلق اب تک کتنے ہی پروگرام اور سیکیمیں آئیں مگر اس محلہ میں ایک بار بھی صفائی نہیں ہوئی مقامی لوگوں نے بار ہا متعلقہ حکام سے استدعا بھی کی مگر کوئی شنوائی نہ ہوئی ۔