فکرو ادراک
اوشین شوکت
بھارت کی National Testing Agency یعنی نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے 21 اپریل 2026 کو پورے غرور، اعتماد اور بڑے بڑے دعوؤں کے ساتھ اعلان کیا تھا کہ اس مرتبہ ’’نیٹ 2026 ‘‘مکمل سکیورٹی، جدید منصوبہ بندی، کئی حفاظتی تہوں اور ’’زیرو ایرر سسٹم‘‘ کے تحت منعقد کیا جائے گا۔ ادارے کی جانب سے طلبہ کو چیلنج کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ اگر کسی کو لگتا ہے کہ اس بار بھی پرچہ لیک ہو سکتا ہے تو وہ تیار رہے، کیونکہ اس مرتبہ مقابلہ صرف طلبہ اور سوالات کے درمیان نہیں بلکہ ’’طلبہ اور نظام‘‘ کے درمیان ہوگا، اور نظام پوری طاقت کے ساتھ تیار ہے۔ یہ الفاظ سن کر لاکھوں طلبہ نے سکون کا سانس لیا تھا۔ کئی گھروں میں امید واپس آئی تھی۔ کئی ماؤں نے دعائیں کی تھیں کہ شاید اس بار اُن کے بچوں کی محنت واقعی انصاف کے ساتھ دیکھی جائے گی۔ کئی ایسے طلبہ جنہوں نے دو دو، تین تین برس اپنی جوانی کتابوں میں دفن کر دی، اُنہیں لگا تھا کہ اس مرتبہ شاید قسمت نہیں بلکہ محنت جیتے گی۔ لیکن افسوس !امتحان ختم ہوئے ابھی دس دن بھی مکمل نہیں ہوئے تھے کہ ایک بار پھر ’’نیٹ 2026 پرچہ لیک‘‘ کی خبریں پورے ملک میں پھیلنے لگیں۔ وہی خوف، وہی بے بسی، وہی سوالات اور وہی ٹوٹتے ہوئے خواب۔ چند دن پہلے تک نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی بار بار یہ کہہ رہی تھی کہ ’’پرچہ لیک‘‘ کی خبریں جھوٹی ہیں، طلبہ افواہوں پر یقین نہ کریں، اس مرتبہ امتحان مکمل سیکیورٹی کے ساتھ منعقد کروایا گیا ہے، کسی قسم کی بے ضابطگی ممکن ہی نہیں۔ لیکن صرف دو دن بعد ادارہ خود اعتراف کی کیفیت میں آ گیا کہ کچھ علاقوں میں بے ضابطگیاں ہوئی ہیں اور معاملے کی جانچ جاری ہے۔ رپورٹس کے مطابق سات مئی دو ہزار چھبیس کو انٹیلی جنس بیورو نے راجستھان پولیس کے خصوصی آپریشن گروپ کو اطلاع دی کہ امتحان سے صرف ایک دن پہلے یعنی دو مئی کو راجستھان کے سیکر علاقے میں کچھ کوچنگ اداروں کے کیریئر کونسلرز کے پاس ایسا ’’اندازہ پرچہ‘‘ موجود تھا جس کے بیشتر سوالات اصل نیٹ امتحان میں پوچھے گئے۔ یہی سوالات سیکر، راجستھان کے دیگر علاقوں اور دہرادون تک بعض طلبہ کو پہلے ہی فراہم کیے جا چکے تھے۔یعنی لاکھوں طلبہ جب رات بھر جاگ کر آخری بار دہرائی کر رہے تھے، اُس وقت کچھ لوگوں کے پاس اگلے دن آنے والا اصل پرچہ پہلے ہی موجود تھا۔ تو کہاں گئی وہ ’’ہائی لیول سکیورٹی‘‘؟ کہاں گئیں وہ ’’حفاظتی نہیں‘‘؟ کہاں گیا وہ ’’زیرو ایرر سسٹم‘‘؟ کہاں گئی وہ دھمکی، وہ چیلنج، وہ غرور؟ اور سب سے بڑا سوال حکومت سے ہے،آخر بچوں کے مستقبل کے ساتھ یہ کھیل کب تک جاری رہے گا؟ ہر سال لاکھوں طلبہ اپنی زندگیاں، اپنی خوشیاں، اپنی جوانی اور اپنے خواب اس ایک امتحان کے حوالے کر دیتے ہیں، لیکن بدلے میں اُنہیں کیا ملتا ہے؟ کبھی پرچہ لیک، کبھی بدعنوانی، کبھی بے ضابطگیاں، کبھی عدالتوں کے چکر، کبھی دوبارہ امتحان اور کبھی صرف خاموشی۔ آخر کیوں ہر بار ایک عام طالبِ علم ہی قربانی دیتا ہے؟ کیوں ہر بار محنت کرنے والا بچہ نظام کی ناکامی کی قیمت ادا کرتا ہے؟ کیوں حکومت اور ادارے صرف بیان جاری کر کے اپنی ذمہ داری پوری سمجھ لیتے ہیں؟ کیوں اُن لوگوں پر پہلے کارروائی نہیں ہوتی جو تعلیم کو کاروبار اور طلبہ کے خوابوں کو سودا بنا چکے ہیں؟ طلبہ آخر اس نظام پر یقین کیسے کریں؟ نیشنل ٹیسٹنگ ایجنسی نے اب کہا ہے کہ تیرہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے اور اُن کے خلاف قانونی کارروائی ہوگی۔ بہت اچھی بات ہے۔ ضرور ہونی چاہیے۔ سخت سے سخت سزا ہونی چاہیے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ کیا صرف تیرہ لوگوں کو گرفتار کر لینے سے اُن لاکھوں طلبہ کو انصاف مل جائے گا، جنہوں نے اپنی زندگیاں اس ایک امتحان پر قربان کر دیں؟ وہ طلبہ جو غربت سے لڑتے رہے،وہ طلبہ جن کے والدین نے قرض لے کر فارم فیس جمع کروائی، وہ طلبہ جن کے لیے سولہ سو روپے کی فیس بھی ایک پہاڑ جیسا بوجھ تھی، وہ طلبہ جو رشتہ داروں کے طنز سہتے رہے، وہ طلبہ جنہوں نے اپنے والدین سے صرف ایک سال اور مانگا تھا، وہ طلبہ جنہوں نے خود کو کمروں میں بند کر کے دنیا سے رابطہ توڑ لیا تھا، اُن کا کیا؟ کیا اُن کے خوابوں کی قیمت صرف ایک ’’پریس ریلیز‘‘ ہے؟ یہ صرف تین گھنٹے کا امتحان نہیں ہوتا۔ یہ ایک غریب گھر کی آخری امید ہوتا ہے۔ یہ ایک مزدور باپ کے پسینے کی قیمت ہوتا ہے۔ یہ ایک ماں کی ساری راتوں کی دعاؤں کا نتیجہ ہوتا ہے۔ یہ ایک طالبِ علم کی جوانی، نیند، سکون اور ذہنی صحت کی قربانی کا نام ہوتا ہے۔ اور جب ’’پرچہ لیک‘‘ ہوتا ہے تو صرف سوالات لیک نہیں ہوتے، انصاف لیک ہوتا ہے، میرٹ لیک ہوتا ہے، اعتماد لیک ہوتا ہے، مستقبل لیک ہو جاتا ہے۔
سب سے زیادہ افسوسناک بات یہ ہے کہ جس ادارے کی غفلت اور ناکامی کی وجہ سے یہ سب ہوا، آج فیصلہ بھی وہی ادارہ کرے گا کہ طلبہ کو انصاف کیسے ملے گا۔ یعنی جس نظام کی کمزوریوں نے لاکھوں طلبہ کو تباہ کیا، وہی نظام اب خود اپنے خلاف فیصلہ سنائے گا۔ اس سے بڑا مذاق آخر کیا ہو سکتا ہے؟ آج پورے ملک کے طلبہ ذہنی اذیت میں مبتلا ہیں۔ کوئی ’’دوبارہ امتحان‘‘ کے خوف میں جی رہا ہے، کوئی ایک اور برس ضائع ہونے کے تصور سے ٹوٹ چکا ہے اور کوئی یہ سوچ سوچ کر ختم ہو رہا ہے کہ آخر اس ملک میں محنت کی قیمت کب ملے گی؟ لوگ بہت آسانی سے کہہ دیتے ہی ہیں۔’’ایک اور سال تیاری کر لو۔‘‘، ’’دوبارہ کوشش کر لو۔‘‘ لیکن یہ الفاظ کہنا آسان ہے، جینا نہیں۔ایک ہی کتاب کو دوبارہ کھولنا، وہی ابواب پھر سے پڑھنا، وہی سوالات دوبارہ حل کرنا، اور ہر لمحہ یہ ڈر محسوس کرنا کہ ’’اگر اس بار بھی یہی سب ہوا تو؟‘‘ یہ اذیت صرف وہی طالبِ علم سمجھ سکتا ہے جو برسوں سے اس جنگ میں زندہ رہنے کی کوشش کر رہا ہو۔ ایک بند کمرے میں خود کو دنیا سے کاٹ لینا، گھنٹوں کتاب کے ایک صفحے کو گھورتے رہنا،نیند، سکون، خوشی، دوستیاں، رشتے سب چھوڑ دینا اور پھر آخر میں یہ سننا کہ ’’پرچہ لیک ہو گیا‘‘ یہ صرف ناانصافی نہیں، یہ نوجوان نسل کے ساتھ ظلم ہے۔ ہم ایسے ملک میں رہ رہے ہیں جہاں بچے ڈاکٹر بننے سے پہلے ذہنی دباؤ، خوف، مایوسی اور ڈپریشن کے مریض بنتے جا رہے ہیں۔ کہیں امتحانی دباؤ سے خودکشیاں ہو رہی ہیں، کہیں نظام کی بے حسی نوجوانوں کو اندر ہی اندر ختم کر رہی ہے۔ تعلیم اب علم حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں رہی، یہ ایک اذیت ناک جنگ بن چکی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ صرف چند لوگوں کو گرفتار کر کے معاملہ دبایا نہ جائے، بلکہ پورے امتحانی نظام کو مکمل شفاف بنایا جائے۔ پرچہ تیار ہونے سے لے کر امتحانی مراکز تک ہر مرحلے کی آزاد نگرانی ہونی چاہیے۔ کوچنگ مافیا، بدعنوانی کے نیٹ ورک اور اندرونی لیکس کے خلاف ایسی کارروائی ہونی چاہیے کہ دوبارہ کوئی اس جرم کا سوچ بھی نہ سکے۔ کیونکہ اگر ملک کے سب سے بڑے طبی داخلہ امتحان پر سے اعتماد ختم ہو گیا، تو آنے والی نسلوں کی امیدیں بھی ختم ہو جائیں گی۔ طلبہ کو اب صرف تقریریں نہیں چاہئیں، صرف وعدے نہیں چاہئیں، صرف ہمدردی نہیں چاہیے،طلبہ کو انصاف چاہیے۔ شفافیت چاہیے۔ جوابدہی چاہیے۔اور سب سے اہم بات ،ہر طالبِ علم کو یہ یاد رکھنا ہوگا کہ اُس کی زندگی کسی ایک امتحان، کسی ایک نتیجے یا کسی ایک کرپٹ نظام سے کہیں زیادہ قیمتی ہے۔ اگر نظام میں خامیاں ہیں تو اُن کے خلاف آواز بلند کرنا ضروری ہے، لیکن اپنی زندگی ختم کر دینا کبھی حل نہیں ہو سکتا۔ یہ صرف ’’نیٹ 2026 ‘‘کا مسئلہ نہیں،یہ پورے ہندوستانی تعلیمی نظام پر ایک خوفناک سوالیہ نشان ہے۔ اگر آج بھی خاموشی اختیار کی گئی، اگر آج بھی حکومت، ادارے اور ذمہ دار لوگ صرف بیانات دیتے رہے، اگر آج بھی بچوں کے مستقبل کو سیاست، بدعنوانی اور لاپرواہی کے نیچے دفن کیا جاتا رہا،تو یاد رکھیے،کل کتابیں تو کھل جائیں گی، امتحانات بھی دوبارہ ہو جائیں گے، نتائج بھی آ جائیں گے۔لیکن اُن لاکھوں بچوں کے دلوں میں مر جانے والا ’’اعتماد‘‘ کبھی واپس نہیں آئے گااور جس دن ایک قوم کے نوجوان اپنے تعلیمی نظام پر یقین کھو دیتے ہیں، اُس دن صرف ایک امتحان ناکام نہیں ہوتا، پورا ملک ناکام ہو جاتا ہے۔
(رابطہ۔6006247596)
[email protected]
�����������������