جموں//گاندھی نگر جموںکے ایک سی بی ایس ای کی جانب سے نیٹ امتحان دینے کیلئے آئیںخاص فرقہ کی بچیوں کے ساتھ ہتک آمیز سلوک کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے ۔ان خیالات کا اظہار شیعہ فیڈریشن جموںکی اییک ہنگامی میٹنگ کے دوران فیڈریشن کے صدر عاشق حسین خان نے کہا ۔خان نے کہا کہ بارڈر علاقہ سے آئی معصوم و پردہ دار بچیوں کو امتحانی مرکز میںداخلہ کیلئے سر پر اوڑھی چادر ،کڑا ،کنگن اتروانے پر زور دیا جانا سراسر بچیوںکے ساتھ ہتک آمیز سلوک ہے جس کی کچھ بچیوں نے مزاحمت کر کے سی بی ایس سی اور کالج انتظامیہ کے خلاف جم کر احتجاج کیا ۔خان نے کہا کہ کیا انتظامیہ بیٹیوں کو جن کے بارے ہمارے وزیر اعظم نریندر مودی بچانے اور پڑھانے کی تحریک چلائے ہوئے ہیںکو فحاشی کی جانب راغب کرنے کیلئے کوشاںہیں۔بے حد شر انگیز و پستی بھری سوچ کا نتیجہ ہے ۔عاشق حسین نے کہا کہ خواتین کا سب سے قیمتی گہنا شرم و حیا و پردہ داری ہے جو صدیوںسے ریاست و ملک میںرائج ہے ۔اگر آج کچھ عناصر مٖغربی کلچر کا فروغ دینے کیلئے خواتین کو ننگا ناچ کرنے کی پریرنا دے رہے ہیںتو وہ سماج کو بے حیائی کو گڑھ بنانے کی سوچ رکھتے ہیں۔خان نے کہا کہ یہ پردہ ہی ہے جو ہزاروںبرائیوںسے بچاتا ہے ۔پردہ دار خاتون کے دل میںکبھی بھی گندی سوچ پنپ ہی نہیںسکتی ۔مگر آج کچھ عناصر ایک سوچی سمجھی سازش کے تحت خرمن ا من کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔عاشق حسین نے سوال کیا کہ انتظامیہ کی غلط سوچ کی وجہ سے نیٹ کا امتحان دینے سے جو بچیاںمحروم ہو گئیں۔ان کے احباب و والدین کیا سوچتے ہونگے ۔کیا یہ سماج کو توڑنے کی کوشش نہیںہے ۔خان نے گندی ذہنیت رکھنے والوں کے خلاف فوری طور پر کڑی کارروائی کئے جانے کی سرکار و ڈپٹی کمشنر اور ڈویژنل کمشنر جموںسے اپیل کی ہے ۔خان نے کہا کہ والدین نے قرض بینکوںسے لے کر زمین فروخت کر کے اپنہ جمع پونجی جگاکر بچیوںکو اس قابل بنایا مگر بچیوںکے ساتھ توہین آمیز حرکت کرنے والے وزیر اعظم کی تحریک کو ناکام بنانے کی فراق میںہیں۔کہاںشکر کیا جانا چاہئے تھا کہ اتنی دور کی لڑکیاںمحنت کر کے یہاںتک پہنچی ہیںان کی عزت افزائی کی جاتی ان کو مقامی طور پر ہی امتحان لیا جاتا ،کہاںان کی ذلت کرنے کی کوشش کی گئی ۔خان نے ان تمام انجمنوںکو مبارکباد دی جنہوںنے اس ہتک آمیز رویہ کے خلاف احتجاج کیا اور ایف آئی آر درج کرائی ۔خان نے زور دار مانگ کی کہ جس ادارہ نے لڑکیوںکے ساتھ اس طرح کا سلوک کیا ہے وہ شرمناک اور قابل مذمت ہے ایسے لوگوںکے خلاف فوری اکرروائی کی جائے تاکہ مستقبل میںایسی سوچ لانے کی کوئی ہمت نہ کر سکے ۔خان نے کہا کہ ہمارے ملک کی تہذیت و تمدن کی بیرون ملک داد و سراہنا کی جاتی رہی ہے مگر کچھ عناصر انگریز کے کلچر کو یہاںلاگو کر کے معاشرے کو تار تار کرنے کیلئے کوشاںہیں۔اسلئے زیادہ سے زیادہ سماج کے مفکروںکو اس شرمناک سانحہ کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے ۔میٹنگ میںدیگران کے علاوہ فدا حسین رضوی ،غلام محمد گنائی ،شیخ سجاد وائس پریذیڈنٹ ،ذیشان علی اٰڈوکیٹ ،منان حیدر جعفری ،مولانا زوار حسین جعفری وغیرہ شامل تھے ْ