تھنہ منڈی// نیشنل ہیلتھ مشن کے تحت کام کرنے والے ملازمین کی ہڑتال سے تھنہ منڈی کے طبی مراکز مفلوج بن کر رہ گئے ہیں اور مریضوں کو مشکلات کاسامناہے ۔تمام دیہی علاقوںمیں قائم طبی مراکز ان ملازمین کی ہڑتال کی وجہ سے بند پڑے ہیں اور مریضوں کو علاج کی سہولت میسرنہیں ۔ کمیونٹی ہیلتھ سنٹر تھنہ منڈی، پرائمری ہیلتھ سنٹر شاہدرہ شریف، پرائمری ہیلتھ سنٹر ڈھوک، سب سنٹر جھرنگ،سب سنٹر الال کے علاوہ دیگر تمام طبی مراکز میں تعینات نیشنل ہیلتھ مشن کے ملازمین کام چھوڑ ہڑتال پر ہیں ۔ ان ملازمین کی ہڑتال سے تھنہ منڈی کے مریض بری طرح متاثر ہورہے ہیں۔مقامی لوگوں کاکہناہے کہ حکومت دس سال سے کام کررہے ان ملازمین کے مستقبل کی فکر کرے اور اس حوالے سے جاب پالیسی بنائی جائے ۔انہوںنے کہاکہ ہڑتال ختم کراکے طبی مراکز میں سہولیات کی فراہمی کے سلسلہ کو بحال کیاجائے ۔
منجاکوٹ ہسپتال میں ایک بھی ڈاکٹر نہیں
پرویز خان
منجاکوٹ //نیشنل ہیلتھ مشن ملازمین کی ہڑتال کے باعث پی ایچ سی منجاکوٹ میں دو دنوں سے میڈیکل آفیسر کی کرسی خالی پڑی ہوئی ہے لیکن محکمہ کو ٹس سے مس نہیں۔مریضوں کی قیمتی جانوں کی کوئی بھی قدر نہیں سمجھی جا رہی۔پی ایچ سی منجاکوٹ میں تعینات نیشنل ہیلتھ مشن ملازمین ہڑتال پر ہیں جس کے نتیجہ میں کوئی بھی میڈیکل افسر موجود نہیں ۔مقامی لوگوںکاکہناہے کہ دو دنوںسے ایک بھی میڈیکل افسر موجود نہیں جس کی وجہ سے مریضوںکا علاج نہیںہور ہا اور انہیں مجبوراًراجوری کا رخ کرناپڑتاہے ۔انہوںنے کہاکہ اگر ایسے حالات میں کوئی حادثہ پیش آجائے تو محکمہ صحت کے دعوئوں کی قلعی کھل جائے گی ۔ انہوںنے کہاکہ منجاکوٹ ہسپتال کو پی ایچ سی کا درجہ دیا گیا ہے اور یہاں محکمہ کو ایم بی بی ایس عہدے کا میڈیکل ڈاکٹر تعینات رکھناچاہئے ۔
نوشہرہ میں بھی ملازمین کی ہڑتال
رمیش کیسر
نوشہرہ //محکمہ صحت میں نیشنل ہیلتھ مشن کے تحت کام کررہے ملازمین نے اپنے مطالبات کے حق میںکام چھوڑ ہڑتال کی جس کی وجہ سے نوشہرہ کے کئی ہسپتالوںمیں کام کاج بری طرح سے متاثر ہوا۔ ملازمین نے اپنے مطالبات اجاگر کرتے ہوئے حکومت کے خلاف نعرے بازی کی ۔ اس دوران انہوںنے دھرنا بھی دیااور مانگ کی کہ ان کے مستقبل کو بچاتے ہوئے جاب پالیسی بنائی جائے ۔ انہوںنے کہاکہ وہ اس بار تب تک کام پر واپس نہیںلوٹیںگے جب تک کہ ان کے مطالبات پورے نہ کرلئے جائیں ۔